ان کی سسکیاں اور تیز ہو گئیں۔ "دانیال! میری بچی کی تذلیل ہوئی ہے آج پھر۔ ہر آنے والا اس کا دل توڑ کر چلا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ یتیم ہے، اس کا کوئی نہیں ہے۔ میں زندہ ہوں دانیال، لیکن میں اپنی عنایت کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی۔ میری جان نکلتی ہے جب لوگ اسے باتیں سناتے ہیں۔"
اپنی ماں کا یہ تڑپتا ہوا روپ دیکھ کر دانیال کے اندر کچھ ٹوٹا۔ اس کا انا پرست اور مغرور دل اپنی ماں کے دکھی الفاظ سے دہل گیا۔ اس کے چہرے کی سختی مزید شدید ہو گئی۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے اندر کے غبار کو ضبط کیا اور جھٹکے سے کھڑا ہو گیا۔ اس کا لہجہ حتمی، سرد اور اٹل تھا۔
"بس کیجیے امی! اب ایک لفظ بھی مزید نہیں۔ روز روز کا یہ تماشا اور آپ کے یہ آنسو میں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر اس لڑکی کی وجہ سے اس گھر کا سکون برباد ہو رہا ہے اور آپ روز روتی ہیں تو اس تماشے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک ہی حل ہے۔"
تائی جان نے روتے ہوئے سر اٹھا کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔ دادی نے بھی حقہ ایک طرف رکھا اور دانیال کی طرف دیکھا۔ دانیال نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی جیبوں میں ڈالے اور سینہ تان کر بولا، "میں عنایت سے شادی کر لوں گا! اس قصے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے میں خود اس سے نکاح کروں گا۔"
یہ اعلان بیٹھک اور صحن کے در و دیوار سے ٹکرا کر گونج اٹھا۔ تائی جان کے چہرے پر دمکتی ہوئی امید اور خوشی کے سائے لہرائے۔ دادی کے چہرے پر بھی سکون کا ایک سایہ چھایا۔
لیکن ابھی دانیال کے الفاظ کی گونج فضا میں باقی ہی تھی کہ صحن کے کونے میں لٹکتے ہوئے بھاری پردے کی اوٹ سے ایک سایہ باہر آیا۔ عنایت پردہ ہٹا کر سامنے آئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، لیکن اس کے چہرے پر خوف یا کسی رحم کی بھیک کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اس کا قد بالکل سیدھا تھا اور اس کی آواز میں ایک عجیب سی برف جیسی سختی تھی۔ وہ دانیال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر، انتہائی دو ٹوک اور بوجھل لہجے میں بولی، "میں دانیال خان سے شادی کبھی نہیں کروں گی۔"
ایک لمحے کے لیے پورے صحن میں سناٹا چھا گیا۔ دانیال خان، جسے اپنی ذات، اپنے حسن، اپنے پیسے اور اپنے غرور پر حد درجہ ناز تھا، جس نے عنایت پر احسان جتاتے ہوئے شادی کا اعلان کیا تھا۔ ایک معمولی اور سانولی یتیم لڑکی کے اس سخت اور سیدھے انکار نے اس کی انا پر ایسا زوردار تھپڑ مارا تھا کہ اس کا پورا وجود لرز اٹھا۔
دانیال کی آنکھوں میں شعلے لپکنے لگے۔ اس کے چہرے کی رگیں پھول گئیں اور وہ غصے سے بالکل آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے مٹھیاں بھینچ لیں اور ایک خوفناک نگاہ عنایت کے پرسکون چہرے پر ڈالی۔ "شکر کرو میں تم سے شادی کر رہا ہوں" دانیال کی زہریلی اور غرور سے بھری آواز صحن کے در و دیوار سے ٹکرائی۔ اس کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا اور آنکھوں میں شعلے لپک رہے تھے۔
عنایت نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن چہرے پر غصے کا ضبط اور خودداری تھی۔ اس نے دانیال کی بات فوراً کاٹ دی۔ "مجھے نہیں کرنا کوئی شکر!! میں سانولی ہوں، یتیم ہوں، نہ میرے پاس اپنا گھر ہے اور نہ ماں باپ! جن ماں باپ نے مجھے اتنے سالوں سے پالا ہے وہ آپ کے ماں باپ ہیں، جنہیں آپ کے بقول میں نے آپ سے چھین رکھا ہے۔ مجھے نہیں کرنی یہ شادی! میں ایسے ہی گھٹ گھٹ کر جینا پسند کروں گی، مگر شادی کر کے آپ کی نفرت اور طعنے برداشت نہیں کروں گی۔"
دانیال نے اپنے جبڑے بھینچ لیے۔ "عنایت... اپنی حد میں رہو"
"حد تو آپ پار کر رہے ہیں، دانیال خان!!" عنایت نے تڑپ کر جواب دیا۔ "مجھے آپ کے ساتھ تانوں بھری زندگی نہیں گزارنی۔"
"کون طعنہ دے رہا ہے اور کس کو دے رہا ہے؟" یکایک بوجھل اور رعب دار آواز نے دونوں کو خاموش کرا دیا۔ مرکزی دروازے سے دادا جان اور تایا جان اندر داخل ہو رہے تھے۔ دادا جان کا ہاتھ اپنی لاٹھی پر تھا اور ان کی گہری نظریں صحن میں موجود ہر شخص کا جائزہ لے رہی تھیں۔
دانیال نے رخ پھیر لیا۔ عنایت نے جلدی سے اپنے آنسو پونچھے، اپنے دوپٹے کو درست کیا اور بغیر کچھ بولے، سر جھکا کر خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ "عنایت! بات تو سنو۔" تائی جان نے اسے پکارنا چاہا، لیکن اسی وقت ان کی سانس اکھڑنے لگی۔ "امی!!" دانیال چیخا۔ تائی جان کا ہاتھ اپنے دل پر گیا اور وہ چکرا کر نیچے گرنے لگی۔
Story From The Novel
Her sobs grew louder. “Daniyal! My girl was humiliated again today. Everyone who comes into her life leaves after breaking her heart. People taunt her, saying she is an orphan and has no one of her own. I am alive, Daniyal, yet I can’t do anything for Inayat. It tears me apart when people hurt her with their words.” Seeing his mother in such agony, something inside Daniyal broke. His arrogant heart was shaken by her pain. With a hardened expression, he took a deep breath and suddenly stood up. “Enough, Ammi! Not another word. I can’t bear this drama and your tears anymore. If this girl is the reason our home has lost its peace and you have to cry every day, then there is only one way to end it forever. I will marry Inayat. I will marry her myself and put an end to this matter once and for all.”
His announcement echoed through the courtyard. His mother’s face lit up with hope, while his grandmother looked relieved. But before the words had even faded, Inayat stepped out from behind the heavy curtain. Her eyes were red from crying, yet there was no fear or helplessness on her face. She stood tall and looked directly into Daniyal’s eyes. In a cold, firm voice, she said, “I will never marry Daniyal Khan.” Silence fell over the entire courtyard. Daniyal, who took immense pride in his looks, wealth, status, and arrogance, had announced the marriage as though he were doing her a favor. Hearing a simple, dark-complexioned orphan girl reject him so bluntly struck his ego like a slap. Fury flashed in his eyes. “Be grateful that I am willing to marry you,” he spat angrily.
Inayat stepped forward, tears still glistening in her eyes, but her dignity remained intact. “I have nothing to be grateful for! Yes, I am dark-skinned. Yes, I am an orphan. I have neither a home nor parents of my own. The people who raised me all these years are your parents—the very people you claim I stole from you. I don’t want this marriage! I would rather spend my life suffocating in loneliness than marry you and endure your hatred and taunts every day.” Daniyal clenched his jaw. “Inayat… know your limits.” She immediately shot back, “You are the one crossing your limits, Daniyal Khan! I don’t want to spend my life with you, listening to your taunts.” Before the argument could continue, a deep, authoritative voice silenced them both. Grandfather and Daniyal’s uncle entered through the main door. Inayat quickly wiped her tears, adjusted her dupatta, lowered her head, and walked toward her room. “Inayat, wait!” her aunt called after her, but suddenly she struggled to breathe. “Ammi!” Daniyal screamed as she clutched her chest and collapsed.
Download Novel By Clicking Download Button Below
