Tujh Pe Haq Sirf Mera Hai By Akhtar Jahan - Novelians Library




Sneak Peak From The Novel


 وائٹ کف لگا قمیض شلوار پہنے کالی شال کو دونوں کندھوں پے ڈالے وہ ایک ایک قدم ٹھہر ٹھہر کے آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک راہداری سے گزرتے ایک نسوانی وجود بہت بری طرح اس سے ٹکرایا۔ اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتا زاویر شاہ نے فوراً اس وجود کو کسی متاعِ حیات کی طرح بانہوں میں بھرا۔ ایک پل کو دونوں کی نگاہوں کا تصادم ہوا۔ وہ حویلی کی اکلوتی بیٹی کم سن دوشیزہ اس پل اپنی سنہری آنکھیں اس خوبرو جوان مرد کی نیلی آنکھوں میں گاڑے کھڑی تھی۔ " بے وفا۔۔۔" زیرلب دہرائی وہ ایک دم سیدھی ہوتی دو قدم کا فاصلہ بنا گئی۔ زاویر شاہ نے بھی اسے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔


لیکن اسکی نازک کمر کا لمس ابھی بھی اپنے ہاتھوں میں محسوس کر رہا تھا۔ جس پے اس انتیس سالہ جواں مرد کے جوالا جذبات میں طغیانی مچی تھی۔ " کیا کر رہی ہو یہاں؟ " غصہ بھرے لہجے میں پوچھتا وہ نشم کو چونکا گیا۔ " یہ حویلی ہماری ہے ہم جہاں چاہیں جس وقت چاہیں کہیں بھی آجا سکتے ہیں۔" اس نے اپنا حجاب درست کیا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنا چہرہ ڈھانپ کے رکھتی تھی۔ اس کی صرف سنہری آنکھیں ہی اب تک زاویر شاہ نے دیکھی تھیں۔ " بہت زبان دراز ہو تم۔۔۔۔۔" وہ اسے خفگی سے کہتا آگے بڑھ گیا۔۔۔


" آپ کی کزن ہوں ناں۔ کچھ تو اثر ہونا تھا۔" دو بدو جواب آیا تو اسکے جاتے قدم تھمے۔ پلٹ کے اس ظالم حسینہ کو دیکھا۔ " اگر میرا اثر لیا ہوتا ناں۔ تو پورے ضلع میں ٹاپ کرتی۔ نہ کہ بی ایسی سی میں سپلی لے کے بیٹھ جاتی۔" طنز کا بھرپور تیر چلاتے وہ نشم کو سر تاپیر سلگا گیا۔ خود وہ بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کیے پورے گاؤں میں واہ واہ بٹور چکا تھا۔ جبکہ نشم کی بی ای سی میں سپلی آنے پے اسے کند ذہن قرار دے دیا گیا تھا۔ اور اب زاویر شاہ نے بھی پورا پورا بدلہ لیا۔ " بات تو ایسے کر رہے ہیں جیسے بیرسٹر نہیں صدرِ پاکستان بن گئے ہوں۔" نشم کی زبان کی تیزی محسوس کرتا وہ اسے ایک گھوری سے نواز گیا۔۔۔


سب باتیں ہی اس کو بری لگتی تھیں۔ سوائے ایک بات کے۔ اور وہ تھی اس کا خود کو چھپا کے رکھنا۔ اس کا فرسٹ کزن تھا زاویر شاہ۔ لیکن آج تک زاویر نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ کبھی کبھی اس کا جی چاہتا کہ اس حسن کے شاہکار کو سر سے پیر تک دیکھے۔ لیکن پھر اپنی سوچ پے لعنت بھیجتا۔ وہ اس کی صرف کزن تھی۔ کوئی محرم کا رشتہ نہیں تھا جو وہ اس طرح کی سوچیں پال رہا تھا۔ زاویر کی گھوری پے وہ جھپاک سے غائب ہوگئی۔ جب کہ وہ سر جھٹکتا دادا جان کے روم کی جانب بڑھا جہاں سے اسے بلاوا آیا تھا۔ 


" جی بلایا آپ نے۔۔؟ " سلام دعا کے بعد وہ وہیں ان کے پاس بیٹھتا پوچھنے لگا۔ " ہاں۔۔ وہ مجھے فائل پکڑانا۔" ان کے ایک طرف اشارہ کرنے پے وہ اس طرف رکھی فائل تھامے انہیں تھما گیا۔ جسے دو منٹ تک وہ کھول کے دیکھتے رہے۔ پھر وہی فائل زاویر کو تھمائی۔ " اسے اچھے سے دیکھ لو۔ اور بغور پڑھ لو۔ ل" ان کی بات پے شاویر نے حیرت سے اس فائل کو کھولا جیسے جیسے وہ پڑھتا جا رہا تھا۔ اس کے دماغ کے سارے سوئے پرزے جاگنے لگے۔ "دادا جان۔۔ یہ کیا ہے؟ "  اس کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا۔ کہ آیا اس نے جو پڑھا ہے وہ سچ ہے۔ " یہ میری وصیت ہے زاویر شاہ۔۔ اور یقیناً اس وصیت کے مطابق جائیداد کے بٹوارے کو لے کے کچھ شرطیں بھی ہیں۔ وہ پڑھ لیں تم نے۔۔؟ "


" سب پڑھ چکا ہوں دادا جان۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی۔۔ ان جائیداد کے بٹوارے میں میرا نشم سے نکاح۔۔؟ یہ مجھے کچھ ہضم نہیں ہو رہا۔۔" زاویر شاہ نے دل کی بات اپنے دادا جان سے کہہ ہی دی۔۔ " ہممم۔۔ کوئی فارسی تو نہیں لکھی۔ اور کیا برا ہے میری نشم میں۔۔ خوبصورت ہے۔۔۔" "میں نے کب دیکھا اسے۔۔؟ " منہ بناتے بولا۔ " نکاح کے بعد دیکھ لینا۔ سمجھدار ہے۔" " مجھے تو بے وقوف ہی لگتی ہے۔" دو بدو جواب آرہا تھا۔ دادا جان نے اسے گھوری سے نوازا۔ " پڑھی لکھی ہے۔" "  جی۔۔ بی اے میں سپلی لے کے بیٹھی ہے۔" زاویر نے ناک پھلایا۔۔۔۔


"  تو تمہیں بیرسٹر بنانے کا کیا فائدہ۔۔ پڑھا لینا ناں۔ ایک سپلی ہی ہے ناں۔۔؟ " "  دادا جان۔ ہماری ایج میں بھی کافی گیپ ہے۔" اس نے ماتھا مسلا۔ " کوئی زیادہ فرق نہیں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ بھی خاندان کی ہے اور تم بھی۔" "  اور میری شہری بیوی کا کیا؟ " اچانک ہی زاویر کی بات پہ دادا جان نے اسے سخت گھوری سے نوازا۔۔۔" یہ اپنی شہر والی بیوی کا بار بار میرے سامنے تذکرہ مت کیا کرو جس دن میرا دماغ گھما نا تو اس دن نہ تمہاری خیر ہے نہ تمہاری اس شہری بیوی کی۔" دادا جان نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے زاویر شاہ کو ایک گھوری سے نوازا اور رخ پھیر لیا۔ 


" اور اگر میں نشم سے نکاح کے لیے انکار کر دوں تو۔۔؟ " اچانک ہی دروازہ کھولے نشم اندر داخل ہوئی۔ وہ جو کچھ بولنے والی تھی۔ زاویر کی بات پہ ایک پل کو تھم سی گئی۔ دانتوں کو ایک دوسرے میں سختی سے پیوست کیا۔ دوسری طرف دادا جان نے زاویر شاہ کی بات پہ مسکراتے ہوئے ایک نظر اس لاڈلے اور ہونہار پوتے کو دیکھا۔ " کر کے دیکھ لو بہت پچھتاؤ گے۔ " ان کی دھمکی پہ زاویر نے لب بھینچے۔


 " مطلب۔۔؟ مطلب صاف ہے زاویر شاہ۔ تم مانو یا نہ مانو تمہیں نشم سے نکاح کرنا ہوگا۔ بچپن سے منسوب ہے تم سے۔ اگر تم نے انکار کیا تو نہ صرف وہ نقصان اٹھائے گی۔تمہیں بھی نہ جائیداد ملے گی نہ سرداری کی پگ۔ سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا۔" زاویر شاہ نے دادا جان کی بات پہ گہرا سانس بھرتے اپنے سامنے کھڑی اس نقاب پوش کمسن دوشیزہ کو دیکھا۔ جسے ابھی تک دادا جان نہیں دیکھ پائے تھے۔ " ہمم۔ اوکے میں تیار ہوں۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔" وہ کمر پہ ہاتھ باندھے اترا کے بولا۔ "کیسی شرط۔۔؟" دادا جان کے ماتھے پہ ان گنت بل پڑے۔۔۔۔


زاویر نے مسکراہٹ ضبط کرتے ماتھا مسلا۔ جب کہ نشم کا بس نہیں چل رہا تھا۔ سامنے کھڑے اس باڈی بلڈر کی موٹی گردن دبا دے لیکن ابھی وہ اسے مکمل سن رہی تھی۔ دیکھنا چاہتی تھی اس شخص کی آخری حد کیا ہے؟ جس نے شہر میں بھی ایک شادی کر رکھی تھی۔ اور اب  گاؤں میں گدی نشینی کے لیے اسے ایک اور شادی کرنی پڑ رہی تھی نشم شاہ سے۔" دادا جان۔۔۔ میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔ میری شہری بیوی بھی شاہ حویلی آ کے رہے گی۔ اپنے پورے مرتبے کے ساتھ۔۔۔۔"


زاویر کی بات پہ نشم نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ اس کا جی چاہا اس بیرسٹر کا قلع قمع کر ہی دے۔ " دیکھتے ہیں۔ اس بارے میں سوچتے ہیں۔ پہلے نشم سے نکاح اس کے بعد پھر اس کا بھی سوچتے ہیں۔" وہ اپنی بات کہتے مڑے کے سامنے نشم کو دیکھتے ایک پل کو چپ ہی ہو گئے۔ " نشم میری بچی اندر آؤ اپنے دادا جان کے پاس۔" انہوں نے نشم کے لیے اپنی بانہیں وا کیں۔ جبکہ دوسری جانب زاویر شاہ کے چہرے پہ ایک فاتحانہ مسکان تھی۔ وہ جو چاہتا تھا وہ ہو گیا تھا۔ " دادا جان ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔" وہ منہ بناتے بولی۔ اس کے حجاب کے پیچھے چھپے چہرے پہ بھی ناگوار تاثرات زاویر شاہ محسوس کر سکتا تھا۔ " بولو میری جان۔۔؟ " " دادا جان ہمیں شہر جانا ہے۔ اور وہیں رہنا ہے۔ شادی کے بعد۔۔" اس کی بات پہ زاویر کا دماغ ایک دم جھٹکا کھا گیا۔۔۔۔۔۔۔

 

Story From The Novel


Zaviar Shah, a 29-year-old barrister, accidentally catches his veiled cousin Nisham when she collides with him in the haveli corridor. Their sharp banter quickly reveals their contrasting personalities—Zaviar is arrogant and accomplished, while Nisham is outspoken despite always keeping her face covered. Although Zaviar has never seen her face, he finds himself intrigued by her hidden beauty, only to remind himself that she is merely his cousin. Their teasing ends when Zaviar is summoned by his grandfather.

In his grandfather’s room, Zaviar discovers that his grandfather’s will contains a shocking condition: Zaviar must marry Nisham if he wants to inherit the family property and the position of chieftain. Zaviar objects, pointing out their age difference and Nisham’s academic failure, but his grandfather refuses to reconsider. Zaviar then reveals that he already has a wife in the city, and when he finally agrees to marry Nisham, he places one condition of his own—his city wife must also come to Shah Haveli and live there with her full status and respect. Nisham, who has overheard everything, is furious at his arrogance.

Just when Zaviar thinks he has secured the situation on his terms, Nisham surprises everyone by approaching her grandfather with a demand of her own. She says that after the marriage, she wants to move to the city and live there instead of staying in the haveli. Her unexpected decision leaves Zaviar completely stunned, as he realizes that the veiled girl he thought he could control may have plans of her own.



Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD





Post a Comment

Previous Post Next Post