Sneak Peak From The Novel
" یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی میں ایمان بھابھی سے نکاح۔۔۔ ہر گز نہیں میں یہ کبھی نہیں کروں گا میں نے کبھی ان کو اس نظر سے نہیں دیکھا امی۔۔۔۔ " " اگر تم نے ایسا نہ کیا تو وہ ایقان کو لے کر چلی جائے گی حدید میں اپنے بیٹے کی نشانی نہیں کھو سکتی خدا کا واسطہ ہے یہ نکاح کر لو۔۔۔۔" " آپ مجھے فورس کر رہی ہیں امی آپ سب جانتی ہیں پھر بھی۔۔۔۔" وہ افسردہ ہوا تھا " ٹھیک ہے مت کرو جو مرضی کرو لیکن یہ یاد رکھو کہ ہم پھر کبھی بھی ایقان کو نہیں دیکھ پائیں گے وہ اسے لے کر یہاں سے چلی جائے گی اس نے شرط رکھی ہے کہ وہ بغیر رشتے کے اس گھر میں مزید نہیں رہے گی اور اگر جائے گی تو ایقان کو اپنے ساتھ لیکر جائے گی اب فیصلہ تمہارا ہے۔۔۔۔" وہ اتنا کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔
حدید عالم دل و دماغ کی عجیب کشمکش میں مبتلا ہو چکا تھا وہ کیا سوچ رہا تھا اور کیا ہو رہا تھا اپنے دل کے جذبات دباتے آخر اس نے فیصلہ کیا تھا ایمان سے نکاح کا فیصلہ اس نے بے دلی سے جا کر اپنی رضامندی دی تھوڑی دیر بعد ہی کچھ گواہان اور ایک قاضی کو بلا لیا گیا ایک طرف ایمان ساجدہ بیگم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اور حدید دوسری طرف سنجیدگی سے بیٹھا ہوا تھا ایمان حمید آپ کا نکاح سکہ رائج الوقت حق مہر مبلغ پانچ لاکھ حدید عالم سے کیا جاتا ہے کیا آپکو قبول ہے!!! "حدید عالم جو اپنے پہلو میں براجمان وجود سے بالکل بے نیاز اپنی محبت کا غم منا رہا تھا قاضی صاحب کی اس آواز پر سر اٹھائے قاضی صاحب کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔۔
ایمان نے نظریں فوراً قاضی صاحب سے پھیرتے اپنے پہلو میں بیٹھے نوجوان پر مرکوز کیں ۔ " قبول ہے۔۔" اس نے سنجیدگی سے کہا ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بند کی ہوئی تھیں جیسے اپنے غصہ کو دبانا چاہ رہا ہو اگلے کچھ پلوں میں ہی اس کے دل کی دنیا اجڑ گئی تھی اس نے خاموشی سے پیپرز سائن کیئے نہ کوئی رسم نہ کوئی خوشی بس سادہ سا نکاح وہ بھی ایک ان چاہی عورت کے ساتھ جو رشتے میں کبھی اس کی بھابھی تھی اپنے جذبات پر قابو رکھتے وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا گھر سے نکل گیا آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔
رات گئے جب سب لوگ جا چکے تھے تو کمرے میں داخل ہوا ایمان کے چہرے پر خوشی تھی وہ شاید اس لمحے کا برسوں سے انتظار کر رہی تھی مگر حدید نے اس کی طرف دیکھتے گہری سانس لی" تم بہتر جانتی ہو کہ یہ نکاح تم نے ایقان کی وجہ سے تو بالکل نہیں کیا اور تم یہ بھی جانتی ہو یہ نکاح میری خوشی سے نہیں ہوا میں نے صرف ایقان کی وجہ سے یہ رشتہ قبول کیا ہے اپنے دل میں میرے بارے میں کوئی غلط فہمی مت رکھنا میں تمہیں کبھی وہ مقام نہیں دوں گا جس کی تم مجھ سے امید کر رہی ہو۔۔۔" ایمان کی آنکھیں نم ہو گئیں حدید کی آواز بدستور سنجیدہ تھی۔۔۔۔
" میں تمہاری اور ایقان کی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹوں گا لیکن میں تمہیں بیوی والے حقوق نہیں دے سکتا کیونکہ میرے دل میں کسی اور کی جگہ ہے۔۔۔۔" " اوہ تو اس لیے تم مجھ سے دور بھاگتے تھے کون ہے وہ خوش قسمت جسے تم دل دے بیٹھے ہو۔۔۔۔" ایمان نے نم لہجے میں کہا جبکہ دل میں غصہ کے شرارے پھوٹ رہے تھے " تمہارے لیے جاننا ضروری نہیں ہے اس لیے میری مجبوری کو محبت سمجھنے کی غلطی مت کرنا اور نہ ہی کبھی میرے دل پر حق جتانے کی کوشش کرنا۔۔۔ " ایمان خاموشی سے اسے دیکھتی رہی آنکھوں میں آنسو تھے مگر آنسوؤں کے پیچھے ایک ایسی ضد جنم لے چکی تھی جس کا اندازہ حدید کو ابھی نہیں تھا۔ صبح کے نو بج رہے تھے۔ شہر کے معروف میڈیکل کالج کی عمارت طلبہ سے بھری ہوئی تھی۔ کہیں طلبہ اپنے نوٹس ہاتھوں میں لیے تیزی سے کلاسز کی طرف جا رہے تھے اور کہیں چھوٹے چھوٹے گروپس میں کھڑے ہو کر لیکچر سے پہلے آخری ریویجن کر رہے تھے۔۔۔۔۔
Story Peak From The Novel
Hadid Alam was shocked when his mother asked him to marry Emaan, his former sister-in-law. He refused, saying he had never seen her in that way, but his mother reminded him that Emaan would leave the house with Iqaan if he did not marry her. Unable to bear the thought of losing his son’s child, Hadid reluctantly agreed. The Nikah was arranged quickly, with Emaan sitting beside Sajida Begum and Hadid sitting silently across from her. When the Qazi asked if he accepted Emaan as his wife with a five-lakh-rupee Mahr, he answered, “I accept,” even though his heart was filled with grief for the woman he truly loved. There was no celebration or happiness—just a simple Nikah that left him emotionally shattered.
Later that night, after everyone had left, Hadid entered the room and found Emaan looking happy, as though she had waited years for this moment. He took a deep breath and warned her not to misunderstand the marriage. He made it clear that he had accepted the relationship only because of Iqaan and that he could never give her the place in his heart she might be hoping for. He promised to take responsibility for Emaan and Iqaan, but told her he could not give her the rights of a wife because his heart already belonged to someone else. When Emaan asked who the lucky woman was, he refused to reveal her identity and warned Emaan never to mistake his helplessness for love or try to claim a place in his heart.
Emaan remained silent, tears filling her eyes, but behind those tears a fierce determination was beginning to take shape—one Hadid could not yet imagine. The next morning, at nine o’clock, the city’s renowned medical college was crowded with students. Some hurried toward their classes with notes in their hands, while others stood in small groups, hurriedly revising their lessons before the lectures began.
Download Novel By Clicking Download Button Below
