اس نے دروازے پر ہلکا سا نوک کیا تھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا تھا۔۔ وہ دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئی تھی اور کسی بچے کی بری طرح سے رونے کی آواز پر وہ چونک گئی تھی۔۔۔۔ نظریں ادھر ادھر دوڑاتے اس نے اس بچے کو تلاش کرنا چاہا تھا۔۔۔ روم ساؤنڈ پروف ہونے کے باعث اس کے رونے کی آواز باہر تک نہیں آئی تھی۔۔۔۔
بیبی کاٹ میں ایک پیارے سے بچے کو بیٹھے روتا دیکھ کر اس نے فوری آگے بڑھ کر فائلز کو جلدی سے ٹیبل پر رکھ کر اس روتے بچے کو گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیا تھا باتیں کرتے وہ دھیرے دھیرے وہ اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگی تھی۔۔۔ وہ بچہ بھی دھیرے دھیرے۔۔۔۔ وہ بچہ نیند میں ڈر کر اٹھا تھا۔۔۔۔ اس کا ڈوپٹہ مٹھیوں میں بھینچے وہ کسی کی موجودگی اور نرم لمس کو محسوس کرتے اس کے رونے کی آواز دھم ہونے لگی تھی۔۔۔ ڈر زائل ہوا تھا۔۔ وہ ٹہلتے مسلسل اسے خاموش کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔ اور آہستہ آہستہ درمیانی نیند سے اٹھا وہ بچہ خاموش ہوتے نیند میں جانے لگا تھا۔۔۔
اپنے بھائی کے بچوں کو تقریباً اس نے پالا تھا اسے اچھا خاصا تجربہ تھا اس چیز کا۔۔۔ چند لمحوں میں وہ نیند میں جا سویا تھا۔۔۔ اس نے آس پاس دوبارہ کسی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔ نہ جانے کس کا بچہ تھا جو یہاں تنہا پڑا تھا۔۔ وہ سوچ کر رہ گئی تھی۔۔۔ اس نے دوبارہ اس بچے کو بیبی کاٹ میں ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس سے جس طرح سے لگا تھا وہ دور ہی نہ ہوا تھا اس نے چند لمحے مزید انتظار کیا تھا شاید اس بچے کا کوئی تو وارث یہاں آہی جائے۔۔۔ وہ بچہ اسے ڈرا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔ اسے اس غیر ذمہ دار انسان چاہے وہ ماں تھی یا باپ دونوں پر غصہ بھی آیا تھا جو ایک چھوٹے بچے کو چھوڑ اس طرح لاپرواہ بنے تھے۔
کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی کوئی نہیں آیا تھا۔۔ وہ اسے اور فائلز اٹھائے ہی آفس سے باہر آگئی تھی۔۔ واپسی پر اس کے ہاتھوں میں حنان عالمگیر۔۔ رافع عالمگیر کے بیٹے کو دیکھ کر سب ہی حیرت زدہ رہ گئے تھے وہ بچہ جس کو اسکا باپ ہاتھ تک لگنا تو دور کسی کو پاس بھٹکنے تک نہیں دیتا تھا وہ اسے اٹھائے تنہا باہر لے آئی تھی۔۔۔۔ آنکھیں کھولے وہ سب اس کی طرف متوجہ تھے جبکہ خود کو انہیں اس طرح تکتا پا کر وہ تھوڑی گھبرائی تھی۔۔۔
کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے کیا۔۔؟ یہ بچہ کس کا ہے رو رہا تھا اندر۔۔؟ اس نے ہچکچاہٹ سے پوچھا تھا۔۔
نہیں کوئی نہیں۔۔۔ تم بیٹھو کام کرو۔۔ ہمیں نہیں پتا کس کا ہے ۔۔ ایک عورت بولی تھی اور سب کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔ وہ تو ویسے اسے یہاں دیکھ کر خوش نہیں تھے اور رافع عالمگیر کی اجازت کے بغیر وہ اس کا اکلوتا جان سے عزیز بیٹا اٹھا آئی تھی۔۔۔ یقیناً باس کے آنے پر جو اس کی بے عزتی ہونی تھی اور پہلے دن ہی نوکری سے نکالے جانے کا دکھ۔۔ وہ سب سوچ کر ہی خوش تھے جبکہ وہ سب کو نظر انداز کرتے اسے کندھے سے لگائے ہی بیٹھ گئی تھی اور کام کرنے لگی تھی۔۔۔
کچھ وقت بعد میٹنگ اور کلائنٹ سے فارغ ہوتے ہی وہ اپنے مینیجر اور پی اے کے ساتھ اپنے آفس کی طرف آیا تھا اسے کافی دیر ہو چکی تھی آج۔۔۔۔ گزرتے اس کی نظر ایک لڑکی پر پڑی تھی لیکن وجہ لڑکی نہیں تھی اس کا بیٹا تھا بے شک اس کا چہرہ اس لڑکی کی گردن میں چھپا تھا لیکن کپڑوں سے وہ پہچان سکتا تھا کہ وہ اس کا بیٹا تھا۔ وہ ایک ہاتھ سے اس کے بیٹے کو سینے سے لگائے اسکی کمر کو تھپھپاتے دوسرے ہاتھ سے کام کر رہی تھی۔۔۔۔ جس میں اسکے چہرے پر کوئی پریشانی یا غیر ارادہ تاثر ذرا سا بھی نہیں تھا۔ جیسے وہ یہ کرنے کی عادی ہو۔۔۔۔
لیکن اس کا بیٹا اس لڑکی کے پاس کیا کر رہا تھا وہ اسے اسکے آفس سے اٹھا کر کیسے لائی وہ خود تو بیبی کاٹ سے نکل نہیں سکتا تھا۔ اور اسکا بیٹا کسی اور کے پاس اتنے آرام سے سو کیسا رہا تھا۔۔ عادت کے مطابق تو اسے شور اور رونا ڈالنا چاہیے تھا۔۔ لیکن اسکی نظروں میں سختی تھی وہ اسکی اجازت کے بغیر اسکے بیٹے کو اٹھا کر کیسے لائی۔۔ اس کے ساتھ موجود ان دونوں نے بھی اس کی نظروں میں سختی دیکھتے ان نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا۔۔ اس لڑکی کے ہاتھ میں حنان کو دیکھتے وہ دونوں بھی پریشان ہوئے تھے یقین وہ اسے بہت بری طرح سنانے والا تھا۔۔۔
سر نئی ایمپلائی ہے۔۔۔۔ آج پہلا دن ہے وہ جانتی نہیں ہوگی۔۔ اس کے مینیجر نے بات کو سنبھالنا چاہا تھا عورتوں سے اسکی نفرت کون نہیں جانتا تھا۔۔ لیکن وہ کسی کی سنتا ہی کہاں تھا۔۔ اس نے قدم اس لڑکی کی سمت موڑے تھے۔۔ اسے وہاں آتا دیکھ کر باقی ایمپلائز احترام میں کھڑے ہوئے تھے ان کو دیکھتے وہ بھی کھڑی ہو گئی تھی باقی سب کو تماشے کا انتظار تھا۔۔ اس نے اپنے قدم اس لڑکی کے سامنے روکے تھے۔۔ اس نے سوالیہ نظروں سے اپنے سامنے کھڑے اس اونچے لمبے شخص کو دیکھا تھا۔۔ وہ اسے جانتی تو نہیں تھی جبکہ وہ دونوں بھی اس کے پیچھے آکھڑے ہوئے تھے۔۔۔
میری اجازت کے بغیر آپ میرا بیٹا کیوں اٹھا کر لائیں۔۔؟ وہ سنجیدگی اور ضبط سے بولا تھا۔۔ لہجے میں غصّہ تھا۔۔ جبکہ وہ اس بچے کا وارث ہے یہ دیکھتے اسے بھی غصّہ آیا تھا ایک تو حرکت ایسی اوپر سے لہجہ ایسا۔۔۔
تو یہ آپ کا بیٹا ہے۔؟ سوری پر انتہائی غیر ذمہ دار انسان ہیں آپ۔۔ اتنے وقت بعد خیال آیا ہے آپ کو آپ کا بیٹا بھی ہے۔۔۔ معصوم بچے کو تنہا چھوڑ کر آپ غائب تھے اور وہ بیچارہ ڈرا ہوا جانے کب سے بری طرح رو رہا تھا۔۔۔ یہ لیں مجھے شوق نہیں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے بچے کو اٹھانے کا۔۔ وہ بھی سنجیدہ لہجے میں اسے جھاڑ گئی تھی۔۔ جبکہ سب کا حیرت سے منہ کھل گیا تھا۔۔ وہ شاید پہلی ایمپلائی تھی جس نے اس لہجے میں اس سے بات کی تھی جبکہ وہ خود حیران تھا اس لڑکی کی جرت پر کہ وہ کس طرح بات کر رہی ہے۔۔۔۔ لیکن اس کے ڈرنے اور رونے کا سن کر وہ بھی دھیما پڑا تھا۔۔
مجھے معلوم نہیں ہوا کام میں زیادہ وقت لگ گیا۔۔ دھیمے لہجے میں کہتے ہاتھ بڑھاتے اس نے بچے کو لینا چاہا تھا اس سے لیکن جیسے وہ موڈ میں نہیں تھا۔ اس نے سختی سے اس کا دوپٹہ دونوں مٹھیوں میں بھینچ رکھا تھا اور اس کے کندھے پر سر رکھے وہ نیند میں تھا اتنے عرصے بعد وہ کسی کی آغوش میں اس کے سینے سے لگا سو رہا تھا۔
Story From The Novel
She lightly knocked on the door, but when no one answered, she entered and was startled by the sound of a baby crying. Since the room was soundproof, no one outside had heard him. She found an adorable little baby crying in the crib, quickly put her files on the table, and picked him up, holding him close while gently patting his back. The baby had woken up frightened from sleep and, clutching her dupatta in his tiny fists, slowly calmed down in her warm embrace. Having practically raised her brother’s children, she knew exactly how to handle him, and within minutes, he was peacefully asleep in her arms. When no one came to claim him, she eventually carried the baby and her files back to the office, unaware that he was Hanan Alamgir, the only son of their strict and powerful boss, Rafi Alamgir.
Everyone was shocked to see Hanan in her arms because Rafi never allowed anyone to even touch his son. They secretly looked forward to the scene that would unfold when their boss discovered what she had done, expecting her to be humiliated and fired on her very first day. Later, Rafi returned from a meeting with his manager and PA and immediately noticed the girl holding his son. What surprised him even more was how peacefully Hanan was sleeping against her shoulder while she worked with one hand and gently patted his back with the other, as if caring for him was completely natural to her. His expression hardened when he realized she had taken his son without permission, and he walked straight toward her while everyone else stood watching.
“Why did you pick up my son without my permission?” Rafi asked sternly. She was annoyed by his attitude and immediately replied, “So this is your son? I’m sorry, but you’re extremely irresponsible. You left an innocent child alone, and he had been crying in fear for who knows how long. I had no interest in taking your child without permission, but someone had to comfort him.” Everyone was stunned that she had dared to speak to Rafi like that, while even he was surprised by her boldness. However, hearing that his son had been frightened softened his anger. He quietly explained that he had been caught up with work and reached out to take Hanan from her—but the baby refused to let go, tightly clutching her dupatta and peacefully sleeping against her shoulder, seemingly unwilling to leave the warmth and comfort he had found in her arms.
Download Novel By Clicking Download Button Below
