وہ شاپنگ مال سے باہر نکل رہی تھی کہ اچانک ایک کیوٹ سا بچہ اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے پھول بڑھاتے ہوئے بولا، "ول یو میری مامی ڈیڈ؟"یہ سنتے ہی وہ حیرت سے شاکڈ رہ گئی۔۔ تبھی ایک ینگ سا آدمی ان کے پاس آیا۔۔ سو سوری میم میرا بیٹا پاگل ہے۔۔ نو ڈیڈ آئی کانٹ یو آلوں۔۔ پلیز آنٹی میری مامی ڈیڈ۔۔ یو آر پرفیکٹ فار ایچ آرڈر۔۔ بچے کا باپ سرخ چہرہ لئے اپنے ضدی بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔۔پھر کچھ دن کے بعد وہ بچہ اپنے ملازموں کی فوج کے ساتھ اس کے گھر رشتہ پکا کرنے آ گیا۔ دنیا کا شاید یہ پہلا بچہ تھا جو اپنے باپ کا رشتہ پکا کرنے آیا تھا اور سامنے وہ لڑکی کسی اور سے نکاح۔۔
شاپنگ مال کے وسیع و عریض داخلی دروازے کے سامنے ایک بعد ایک قیمتی گاڑیاں آ کر رک رہی تھیں۔ انہی گاڑیوں کے درمیان سیاہ مرسڈیز کا دروازہ کھلا تو عالیار شاہ باہر نکلا۔ سفید شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک موڑی ہوئی تھیں، کلائی پر قیمتی گھڑی چمک رہی تھی اور وجیہہ چہرے پر وہی مانوس سنجیدگی تھی جو اسے دیکھنے والوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی تھی۔ وہ گاڑی کا دروازہ بند کر کے دوسری طرف آیا تو پچھلی سیٹ سے اپنا چھوٹا سا بیگ اٹھائے حیدر شاہ بھی اتر آیا۔ سات سالہ حیدر نے اپنے باپ کا ہاتھ تھاما اور اس کے ساتھ چلنے لگا، لیکن چند قدم آگے بڑھتے ہی اس کی نگاہ ارد گرد موجود لڑکیوں پر پڑی جو بار بار پلٹ کر عالیار کو دیکھ رہی تھیں۔ اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ اس نے اپنے باپ کا ہاتھ ذرا زور سے پکڑا اور منہ بنا کر بولا،
"ڈیڈ! آئی تھنک آپ کو اس طرح نہیں آنا چاہیے یہاں۔" عالیار نے اس کی طرف حیرانگی سے دیکھا۔ "اب کیا ہوا، چیمپئن؟" حیدر نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، پھر اس کے سامنے آ کر رک گیا۔ "آپ کو احساس ہے کہ یہاں موجود ہر دوسری لڑکی آپ کو دیکھ رہی ہے؟ کبھی خود کو آئینے میں بھی دیکھ لیا کریں کہ آپ کتنے ہینڈسم ہیں!" عالیار کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ "تو اس میں میرا کیا قصور ہے، میری جان؟" حیدر نے فوراً جواب دیا، "قصور ہے نا! آپ کو کسی کی نظر لگ گئی تو؟ دادو کہتی ہیں کہ آپ کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے، اور یہاں تو لڑکیاں آپ کو ایسے دیکھ رہی ہیں جیسے دنیا میں آپ کے علاوہ کوئی مرد ہی نہیں ہے۔" عالیار بے اختیار ہنس پڑا۔ اس نے جھک کر اپنے بیٹے کے بال بگاڑے اور بولا، "تو پھر کیا کروں؟ منہ چھپا کر چلوں؟" حیدر نے اس کا ہاتھ ہٹایا۔
"میں مذاق نہیں کر رہا ڈیڈ۔ آئی ایم سیریس،، ایسا کرتا ہوں آئندہ سے میں آپ کا ڈیڈ نہیں آپ کی موم بن کے آپ کے ساتھ چلوں گا برقعہ پہن کر،، پھر دنیا کو بتانا کہ آپ اپنی موم کے ساتھ آئے ہیں،،" عالیار نے اسے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔ حیدر نے خفگی سے اسے دیکھا اور منہ پھلا کر رخ پھیر لیا۔ یہ اس کا احتجاج کرنے کا الگ ہی طریقہ تھا کہ اب وہ بات نہیں کرے گا کیونکہ اس کی بات کا سیریس نہیں لیا جا رہا۔ اس کی ادا پر عالیار بے اختیار ہنس پڑا۔ اس نے بیٹے کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے قریب کیا اور پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے بولا، "اچھا بھی، آئندہ سے میں اپنا حلیہ میک اپ آرٹسٹ سے چینج کروا کر آیا کروں گا۔ منہ پر کچھ ایسا یوز کریں گے جس سے میں بالکل بھی اٹریکٹو نہیں لگوں اور کوئی بھی لڑکی مجھے دیکھ کر میرے پاس نہ آئے۔۔ اب خوش؟"
حیدر کے چہرے پر فوراً اطمینان پھیل گیا۔ وہ اپنے باپ سے بے حد محبت کرتا تھا کہ اگر عالیار شاہ اس کی ناپسندیدہ ہستی سے بات بھی کر لیتا تھا تو وہ برا مان جاتا تھا لیکن جو حیدر شاہ کو پسند ہوتا تھا اس کے ساتھ عالیار شاہ جتنا مرضی وقت گزارے اسے کوئی پرابلم نہیں ہوتی تھی مگر حیدر شاہ کو کوئی پسند آ جائے یہ بھی بہت مشکل بات تھی۔ گنتی کے چند لوگ تھے جو حیدر شاہ کی پسندیدہ لسٹ میں آتے تھے۔ عالیار نے ہمیشہ اس کی پسند کو اہمیت دی تھی تاکہ وہ کبھی محسوس نہ کرے کہ اس کی زندگی میں اس کی ماں کی کمی ہے، لیکن حیدر محض سات سال کا تھا مگر اپنی عمر سے بڑا سوچتا تھا شاید اس لیے کہ وہ بن ماں کا بچہ تھا۔ اپنے ارد گرد وہ اپنے کلاس فیلوز کو مام ڈیڈ کے ساتھ آتے دیکھتا تھا کہ وہ آپس میں کس قدر محبت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کے کلاس فیلوز جب بتاتے ہیں کہ ان کی مام ان کے ڈیڈ کے لیے کیا کیا کرتی ہیں تب اس کے چھوٹے سے ذہن میں یہ خیال آتا کہ اس کے ڈیڈ کو بھی کسی ایسے شخص کی ضرورت ہے جو ان کا خیال رکھے۔ البتہ آج تک اس خیال کا اظہار نہ اس نے عالیار سے کیا تھا اور نہ ہی عالیار نے کبھی کسی لڑکی کو اپنی زندگی میں لانے کا خیال ظاہر کیا تھا۔
کچھ فاصلے تک خاموشی سے چلنے کے بعد حیدر نے اچانک اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ "ڈیڈ، ایک بات پوچھوں؟" عالیار نے اس کی طرف نگاہ کی۔ "پوچھو، میری جان۔" حیدر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ "اگر آپ کی زندگی میں کوئی لڑکی آ گئی تو؟" عالیار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "تو پھر کیا؟ اگر کوئی اچھی لڑکی مل گئی تو شادی کر لوں گا۔ آخر کب تک اکیلے رہوں گا؟" حیدر نے فوراً سر ہلایا۔ "آف کورس! آپ کی زندگی میں کوئی تو آنی چاہیے۔ میں آپ کو ہمیشہ تنہا نہیں دیکھ سکتا، ڈیڈ۔" عالیار نے حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ حیدر اس معاملے میں اتنی آسانی سے راضی ہو جائے گا۔ مگر اگلے ہی لمحے حیدر نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی۔ "لیکن لڑکی میں ڈیسائیڈ کروں گا، کیونکہ آپ کو تو اچھی لڑکی چوز کرنا آتا ہی نہیں ہے۔ مجھے پتا ہے، آپ کسی غلط لڑکی کو پسند کر لیں گے اور پھر ساری زندگی پریشان ہوتے رہیں گے۔" عالیار نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ "کیا مطلب؟ میں اچھی لڑکی نہیں چوز کر سکتا؟" حیدر نے ایسے سر ہلایا جیسے یہ دنیا کی سب سے ثابت شدہ حقیقت ہو۔ "بالکل نہیں! دادو بھی یہی کہتی ہیں کہ آپ کو اچھی لڑکی کو پرکھنا بالکل نہیں آتا۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ شکل دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والا انسان کیسا ہے۔"
عالیار کی ہنسی چھوٹ گئی۔ "اچھا! تو اب تم اور تمہاری دادو مل کر میری شخصیت پر ریسرچ کرتے ہو؟" حیدر نے معصومیت سے کندھے اچکائے۔ "ہمیں آپ کی فکر ہے، ڈیڈ۔ آپ کو خود اپنی فکر نہیں ہے۔" عالیار نے اس کے گال کھینچتے ہوئے کہا، "اللہ تمہارا بھلا کرے، تم نے تو ابھی سے میری شادی کے سارے انتظامات سنبھال لیے ہیں۔" حیدر نے فخر سے گردن اکڑائی۔ "کسی کو تو کرنا ہوگا نا! آپ سے تو ہونے والا نہیں۔"
عالیار ابھی اپنے بیٹے کی باتوں پر مسکرا ہی رہا تھا کہ ایک نوجوان لڑکی خوشی سے تقریباً اچھلتی ہوئی ان کے سامنے آگئی۔ "اوہ مائی گاڈ! آپ عالیار شاہ ہیں نا؟ میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں! پلیز، کیا مجھے آپ کے ساتھ ایک سیلفی اور آٹوگراف مل سکتا ہے؟" عالیار نے شائستگی سے مسکرا کر جواب دینے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ حیدر فوراً درمیان میں آ کھڑا ہوا۔ "سوری، ہم یہاں آٹوگراف دینے نہیں آئے۔ ہم شاپنگ کرنے آئے ہیں، سو پلیز، سٹے اوے مائی ڈیڈ!" لڑکی نے حیرت سے اسے دیکھا، پھر ہنس کر بولی، "ارے بیٹا، میں تو صرف تمہارے ڈیڈ سے آٹوگراف لینے آئی ہوں۔ کون سا انہیں پرپوز کرنے لگی ہوں!" حیدر نے اسے ایسی نگاہ سے دیکھا جیسے اس کی بات پر بالکل اعتبار نہ آیا ہو۔ "ایسا کرنے کا سوچے گا بھی مت، کیونکہ آپ مجھے ذرا بھی پسند نہیں آئیں۔"
عالیار نے جھنجھلا کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔ "حیدر! تمہیں بات کرنے کی تمیز ہے؟" حیدر نے فوراً اپنے باپ کی طرف دیکھا۔ "کیا ہو گیا، ڈیڈ؟ میں نے تو صرف انہیں بتایا ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئیں۔" لڑکی اپنا سا منہ لے کر آگے بڑھ گئی تو عالیار نے حیدر کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ کر لیا۔ "تم کبھی سدھرو گے بھی یا نہیں؟ اگر یوں ہی کرتے رہے تو میری زندگی میں کوئی شامل نہیں ہوگی،" عالیار نے جھنجھلا کر کہا۔ "اور یہی میں چاہتا ہوں کیونکہ آپ کی زندگی میں جس کو بھی شامل کروں گا وہ میں خود کروں گا کوئی آپ کی زندگی میں خود بخود شامل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی آپ کر سکتے ہیں" حیدر نے پورے اطمینان سے جواب دیا، عالیار نے بے بسی سے سر جھٹک دیا۔ اسے اب یقین ہونے لگا تھا کہ اس کے بیٹے کے ہوتے ہوئے اس کی زندگی میں کسی لڑکی کا آنا آسان نہیں ہوگا۔
دونوں باپ بیٹے ابھی شاپنگ مال کے اندر مزید آگے بڑھے ہی تھے کہ اچانک ایک زور دار آواز نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ آس پاس چلتے لوگ چونک کر رک گئے۔ عالیار اور حیدر نے ایک ساتھ پلٹ کر دیکھا تو چند قدم کے فاصلے پر ایک بزرگ آدمی زمین پر گرا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ سے کپڑے کا تھیلا چھوٹ کر دور جا گرا تھا، جبکہ اس کے سامنے کھڑی ایک موٹی سی عورت غصے سے اسے گھور رہی تھی۔ اس کے قیمتی لباس، بھاری زیورات اور انداز سے اس کی امارت صاف جھلک رہی تھی، لیکن اس وقت اس کے لہجے میں غرور اور بدتمیزی کے سوا کچھ نہ تھا۔
"اندھے ہو کیا؟ سامنے دیکھ کر نہیں چل سکتے؟" وہ بلند آواز میں بولی۔ "میرا سارا حلیہ خراب کر دیا! تم جیسے لوگوں کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ شاپنگ مال میں کیسے چلتے ہیں؟" بزرگ آدمی نے تکلیف سے کراہتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی۔ "بی بی جی، معاف کر دیجیے گا۔ میری نظر کچھ کمزور ہے، میں آپ کو دیکھ نہیں سکا۔" اس نے لرزتے ہاتھوں سے اپنا تھیلا اٹھانا چاہا، مگر عورت کی زبان مسلسل چل رہی تھی۔ "نظر کمزور ہے تو گھر میں بیٹھو! یہاں آ کر دوسروں کے لیے مسئلے پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟" عالیار کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ وہ بزرگ آدمی کی مدد کے لیے آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک لڑکی تیزی سے وہاں پہنچی۔
"آنٹی جی، غلطی آپ کی ہے اور باتیں آپ انہیں سنا رہی ہیں؟" لڑکی کی آواز میں ایسی کاٹ تھی کہ آس پاس موجود کئی لوگوں نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ عالیار نے بھی اس کو بغور دیکھا اس نے سادہ سی فراک پہن رکھی تھی، شانوں پر دوپٹہ سلیقے سے رکھا ہوا تھا اور سر پر حجاب تھا۔ اس کے لباس میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، لیکن چہرے پر موجود بے باکی اور آنکھوں میں جھلکتا اعتماد اسے سب سے الگ بنا رہا تھا۔ عورت نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور حقارت سے بولی، "تم کون ہوتی ہو میرے معاملات میں بولنے والی؟ اپنی شکل دیکھی ہے اور باتیں دیکھو!" لڑکی کے چہرے پر ناگواری ابھری۔ "اپنی شکل تو میں دیکھ لوں گی، آپ پہلے اپنا رویہ دیکھ لیں۔ آپ خود موبائل میں مصروف ہو کر چل رہی تھیں، انکل جی سے ٹکرائیں، اور اب الٹا انہیں بے عزت کر رہی ہیں۔ شرم آنی چاہیے آپ کو!" عورت کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ "تم جیسی چیپ لڑکی مجھے شرم سکھائے گی؟ تمہیں معلوم بھی ہے میں کون ہوں؟ میرے کتنے فالوورز ہیں؟"
لڑکی نے پرس سے موبائل نکالتے ہوئے کہا، "نہیں معلوم، اور مجھے جاننے کا شوق بھی نہیں۔ لیکن اب سب کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ آپ نے ایک بزرگ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ آخر آپ کے بھی فینز کو پتہ چلنا چاہیے کہ آپ کس طرح کی عورت ہیں۔" اس نے موبائل کا کیمرہ آن کر لیا۔
کیمرہ آن کیا تو عورت بوکھلا گئی۔ "بند کرو یہ موبائل! تم میری ویڈیو نہیں بنا سکتیں!" لڑکی نے موبائل مضبوطی سے تھام لیا۔ "کیوں نہیں بنا سکتی؟ آپ کو اپنے فالوورز کی فکر ہے، مگر انکل جی کی عزت کی کوئی فکر نہیں؟ جب آپ کو اس بے عزتی کی کوئی پرواہ نہیں، جب آپ سب کے سامنے انہیں ذلیل کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تو اب ویڈیو بننے پر کیوں پریشانی ہو رہی ہے؟" ارد گرد لوگوں کا ہجوم بڑھنے لگا۔ چند اور افراد نے اپنے موبائل بھی نکال لیے تو عورت کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ اس نے آگے بڑھ کر لڑکی کا موبائل چھیننے کی کوشش کی، مگر لڑکی نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیا۔ "خبردار، میرے موبائل کو ہاتھ لگانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا! میں تب تک یہ ویڈیو بند نہیں کروں گی جب تک آپ انکل جی سے ٹھیک طریقے سے معافی نہیں مانگتیں۔"
بزرگ آدمی نے گھبرا کر لڑکی کی طرف دیکھا۔ "بیٹی، رہنے دو۔ مجھے کوئی شکایت نہیں، میں ٹھیک ہوں۔" لڑکی نے ان کی طرف نرمی سے دیکھا۔ "انکل جی، آپ کا دل بڑا ہے کہ آپ انہیں معاف کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی آپ کی عزت کو اپنے پاؤں تلے روند دے۔ آپ بھی کسی کے باپ ہوں گے، کسی کے شوہر ہوں گے۔ صرف اس لیے کہ آپ ایک غریب انسان ہیں تو اس وجہ سے کسی کو آپ کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا حق نہیں مل جاتا۔"
عالیار پر سکون سا کھڑا اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے الفاظ میں تلخی ضرور تھی، مگر اس کے پیچھے چھپا احساس صاف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں، ایک بے بس انسان کی عزت بچانے کے لیے کھڑی تھی۔ اتنے میں مال کا ایک ملازم بھی وہاں پہنچ گیا۔ اس نے بزرگ آدمی کو سہارا دے کر اٹھایا اور عورت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "میڈم، ہم نے بھی دیکھا تھا۔ آپ خود بابا جی سے ٹکرائی تھیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان سے معذرت کر لیں۔" عورت نے چاروں طرف جمع لوگوں کو دیکھا۔ کئی نگاہیں اس پر جمی تھیں اور چند لوگ واضح طور پر لڑکی کی حمایت کر رہے تھے۔
"میں آنکھیں ڈال کر معافی مانگیں، آنٹی جی۔ معافی مانگنا کوئی احسان نہیں ہوتا، اپنی غلطی تسلیم کرنے کا نام ہے۔" عورت نے غصہ ضبط کیا اور اس بار قدرے دھیمے لہجے میں بولی، "مجھے معاف کر دیجیے گا۔ مجھے آپ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔" پھر وہ دھپ دھپ کرتی ہوئی چلی گئی۔ وہ ان کے پاس آئی بزرگ آدمی نے فوراً اسے دعا دی۔ "اللہ تمہیں خوش رکھے، بیٹی۔" لڑکی کے چہرے پر اطمینان پھیل گیا۔ اس نے موبائل بند کر کے بیگ میں رکھا، پھر بزرگ آدمی کا تھیلا اٹھا کر انہیں پکڑاتے ہوئے پوچھا، "انکل جی، آپ کو کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟ اگر ضرورت ہو تو میں آپ کو باہر تک چھوڑ دیتی ہوں۔" بزرگ آدمی کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ "اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے، بیٹی۔ آج تم نے میری بہت عزت رکھ لی۔"
لڑکی نے مسکرا کر جواب دیا، "میں نے کچھ خاص نہیں کیا، انکل جی۔ جو صحیح تھا، وہی کیا ہے۔ اور آپ بھی ایسے لوگوں کے سامنے کبھی جھکیے مت، کیونکہ آپ جتنا جھکتے ہیں یہ اتنا ہی سر چڑھتے ہیں۔ اب مجھے اجازت دیجیے،" اس نے پھر خدا حافظ بولا۔ بزرگ کی خاطر سب کے سامنے کھڑی رہی، حالانکہ اسے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا تھا۔
"ڈیڈ!" حیدر کی آواز پر وہ چونکا۔ "ہم؟" اس نے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ "آپ اس لڑکی کو اتنی دلچسپی سے کیوں دیکھ رہے تھے؟"
عالیار نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "کیونکہ اس نے اچھا کام کیا ہے۔ اس نے ایک بزرگ کی مدد کی، ان کی عزت کے لیے کھڑی ہوئی۔ آج کل ہر کوئی ایسا نہیں کرتا۔" حیدر نے فوراً پوچھا، "تو آپ کو وہ اچھی لگی؟" عالیار نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ "وہ ہے ہی اچھی لڑکی، حیدر۔ کسی کے لیے آواز اٹھانا اور کسی کے لیے کھڑے رہنا یہ اس کی اچھائی بھی ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ وہ خود کے لیے نہیں دوسروں کے لیے بھی جیتی ہے۔" حیدر خاموش ہو گیا، مگر اس کی نگاہیں اس سمت میں تھیں جہاں وہ لڑکی جا چکی تھی۔
کچھ دیر بعد عالیار کا اسسٹنٹ اور اس کی سیکرٹری بھی ان کے پاس آ گئے۔ سیکرٹری نے مسکراتے ہوئے عالیار سے خریداری کے حوالے سے بات شروع کی۔
As Aaliyar Shah stepped out of the shopping mall with his seven-year-old son, Haider Shah, he immediately attracted the attention of several girls. Dressed in a crisp white shirt with his sleeves rolled up, Aaliyar looked as handsome and charming as ever. Haider, however, was far from pleased with the attention his father was receiving. He complained that every girl was staring at his father and even joked that he would have to dress up as his mother, wearing a burqa, to protect his dad from their admiring gazes. Aaliyar laughed at his son’s possessiveness, but Haider was serious about one thing: if his father ever remarried, he would be the one to choose his new wife. Having grown up without a mother, Haider secretly wished for someone who could care for his father and bring warmth into their lives. Although he was only seven, he was determined to make sure that no unsuitable woman ever entered his father’s life.
While walking through the mall, Aaliyar and Haider witnessed an elderly man fall after accidentally colliding with a wealthy woman who was too busy looking at her phone. Instead of helping him, the woman insulted him and humiliated him in front of everyone. Just as Aaliyar was about to intervene, a young woman wearing a simple dress and a hijab stepped forward and fearlessly confronted the arrogant woman. She pointed out that the woman herself had been distracted by her phone and had no right to blame the elderly man. When the woman tried to silence her, the girl began recording the incident, threatening to expose her rude behavior to her followers. She refused to stop filming until the woman apologized properly. Finally, surrounded by disapproving onlookers, the arrogant woman was forced to apologize. The girl then helped the elderly man, returned his belongings, and reassured him that being poor never gave anyone the right to disrespect him. Aaliyar watched the entire scene with admiration, impressed by the girl’s courage, kindness, and willingness to stand up for someone who could not defend himself.
Haider noticed the way his father was looking at the young woman and immediately questioned him about it. When Aaliyar explained that he admired her because she had defended the elderly man’s dignity, Haider asked whether his father liked her. Aaliyar smiled and admitted that she seemed like a genuinely good person, someone who cared about others rather than thinking only of herself. Although Haider remained silent, his eyes followed the direction in which the girl had disappeared. Little did Aaliyar know that this simple encounter would soon become much more significant. Haider, who had already appointed himself the decision-maker in his father’s love life, would take matters into his own hands. A few days later, he would arrive at the girl’s house with an entire army of servants to formally propose a marriage between her and his father. It would be an extraordinary sight—a seven-year-old boy personally arranging his father’s marriage. But there was one unexpected obstacle: the girl he had chosen was already about to marry someone else.
Download Novel By Clicking Download Button Below
