Dill Bas Tera Howa By Ayesha Majeed - Novelians Library



Sneak Peak From The Novel

"اپنی بیوی کیلئے کیا گفٹ لائے ہو ؟"سب کے پوچھنے پر اس نے مسکراتی آنکھوں سے ابیھا کو دیکھا۔وہ سانس روکے اس کے جواب کے انتظار میں تھی پہلے ہی اس ستمگر نے بہت ستایا تھا اسے۔"بہت اسپیشل تحفہ لایا ہوں۔۔۔اور ہاں سب کے سامنے دوں گا، بے فکر رہیں۔" اس کے ہنسنے پر  ابیھا کا دل زور سے دھڑکا۔زبردستی دونوں کے ساتھ ہوئی تھی پھر بھی وہ سزا اسے دے رہا تھا قصور وار اس کو ٹھہراتا رہا تھا۔"یہ رہا تمہارا گفٹ مسز عاصم خان۔ تمہاری سوتن! "اچانک ماحول ساکت ہو گیا۔ سب کے منہ حیرت سے کھلے رہ گئے ۔ چار سال بعد آیا تھا وہ بھی خالی ہاتھ نہیں۔اس کے پہلو میں خوبصورت لڑکی ساتھ کھڑی مسکراتی سب کو دیکھ رہی تھی۔ابیھا کو لگا اس کی زندگی ختم ہو گئی ہے۔پہلے ہی کم ظلم ہوتا رہا گھر میں جو اب شوہر کی طرف سے یہ تحفہ ملا۔اس کے جسم میں جان نہیں رہی اور پھر وہ لہراتی زمین پر گری۔ عاصم کے چہرے کے زاویے مزید سخت ہوئے وہ۔۔۔

"بڑی دیر بعد آئے ہو کچھ لائے ہو کیا ہمارے لیے؟" اس کے کزن نے آگے بڑھتے ٹہوکا کروا کر گلے سے لگتے سوال کیا تو وہ دلکشی سے قہقہہ لگا گیا! "آف کورس سب کے لیے لایا ہوں!" وہ بولا تو اس کی آواز ابیہا کو اپنی روح میں اترتی محسوس ہوئی! چار سالوں بعد وہ اس کو سن رہی تھی! انجانے میں وہ ستون کی اوٹ سے نکل کر سامنے آ گئی تھی جس کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا! اس کے یوں منظرِ عام پر آنے پہ سب کزنز نے ہوٹنگ کرتے اگلا سوال داغا۔۔  "اپنی بیوی کے لیے کیا گفٹ لائے ہو عابص؟" سب کے پوچھنے پر اس نے اپنے لبوں پر راسرار مسکراہٹ سجائی اور اپنی چمکتی، مسکراتی آنکھوں سے ستون کے پاس کھڑی ابیہا کو دیکھا۔ ابیہا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ بالکل سانس روکے اس کے جواب کے انتظار میں تھی، اس ستمگر نے پہلے ہی اسے بہت ستایا تھا اب کہ وہ اس سے تھوڑی نرمی چاہتی تھی۔۔ یہ جانے بغیر کہ وہ کیا قہر ڈھانے والا ہے اس پہ۔۔ "بہت اسپیشل تحفہ لایا ہوں۔۔۔" عابص نے طنزیہ مگر گہرے لہجے میں کہتے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔ اس کی نظروں میں استحقاق تھا! "ہمیں بھی دیکھاؤ گے کہ نہیں؟" ایک چچی نے شریر آواز میں پوچھا تو عابص کے لبوں کی مسکان گہری ہوئی! "ہاں بالکل۔! سب کے سامنے دوں گا بے فکر رہیں۔" اس کے اس طرح ہنسنے پر ابیہا کا دل زور سے دھڑکا۔ کاش یہ مسکراہٹ اس کے لیے ہوتی! مگر وہ تو اس سے سیدھے منہ بھی بات نہیں کر پایا تھا کبھی! زبردستی تو اس رات دونوں کے ساتھ ہوئی تھی، حالات کی قربانی تو دونوں نے دی تھی، پھر بھی وہ مسلسل اس کی سزا صرف ابیہا کو کیوں دے رہا تھا؟ قصور وار ہمیشہ اسی کو کیوں ٹھہراتا تھا؟ عابص نے تھوڑا سا مڑ کر اپنی گاڑی کے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور بلند اور سرد آواز میں پکارا! "باہر آ جاؤ ہنی" اس کے لہجے کی مٹھاس محسوس کرتے ابیہا کا دل سکڑا تھا! جب کہ باقی سب بھی نا سمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے! یہ کون تھا جس کو وہ اتنے پیار سے بلا رہا تھا؟ گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت غیر ملکی لڑکی باہر نکلی۔ وہ مسکراتی ہوئی عابص کے بالکل پہلو میں آ کر کھڑی ہو گئی اور وہاں موجود تمام دم بخود لوگوں کو بڑی بے نیازی اور مسکراہٹ سے دیکھنے لگی۔ "یہ رہا تمہارا گفٹ، مسز عابص خان۔۔ تمہاری سوتن!" اس کے الفاظ ابیہا کے دل میں کسی خنجر کی طرح لگے! یہاں تک کہ وہاں موجود پورا ہجوم بالکل ساکت ہو گیا، سب کے منہ حیرت اور صدمے سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ خوشیوں سے چہکتا ہوا گھر لمحوں میں خاموشی کی دوزخ میں بدل گیا۔ چار سال بعد وہ واپس آیا تھا، لیکن خالی ہاتھ نہیں تھا! ابیہا اس ظلم پہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس کا گریبان پکڑ کر سوال کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس شخص کو مار دینا چاہتی تھی جو جدائی سنانے کے بعد بھی اس کی زندگی میں کو اس جہنم میں دھکیل گیا تھا! وہ اتنا چیخنا چاہتی تھی کہ سب کے دل پھٹ جائیں مگر اس کی چیخ اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ پہلے کیا کم ظلم ہوتا تھا اس گھر میں جو اب شوہر نے واپس لوٹ کر یہ بے رحم تحفہ دیا تھا۔ ابیہا کے جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی، اس کے گھٹنے جواب دے گئے اس کے قدموں تلے زمین بری طرح لہرانے لگی اور پھر اگلے ہی پل وہ بے جان ہوتی فرش پہ ڈھلک گئی۔۔ "ابیہا۔۔۔" آخری منظر کو اس نے دیکھا تھا وہ عابص کا اپنی طرف بھاگنا تھا اور پھر اس کے بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی! 

کچھ وقت پہلے۔۔۔

ان چار سالوں میں پورے خاندان کا رویہ تو ابیہا کے ساتھ معمول کے مطابق ہی رہا، لیکن فرزانہ بیگم کی نفرت اور بغض دن بہ دن بڑھتا ہی چلا گیا۔ وہ اپنے اکلوتے لاڈلے بیٹے کی دور بھاگنے کی تمام تر ذمہ داری ابیہا کے سر ہی ڈالتی تھیں۔ ان کے نزدیک ابیہا ایک منحوس لڑکی تھی جس نے ان کے بیٹے کی زندگی میں قدم رکھتے ہی ان کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا اور ان کے بیٹے کو ان سے دور کر دیا۔ گھر کی تمام چھوٹی بڑی ذمہ داریاں، طعنے اور سخت رویے ابیہا کا مقدر بن چکے تھے۔ وہ خاموشی سے ہر ظلم برداشت کرتی، اپنے آنسو پیتی جیتی رہتی  اور پھر وہ دن آ ہی گیا جس کا پورے خان ہاؤس کو سالوں سے انتظار تھا۔ چار سال کچھ عرصے بعد بالآخر عابص خان نے واپس پاکستان آنے کا فیصلہ سنا دیا تھا۔ اس خبر کا ملنا تھا کہ خان ہاؤس میں جیسے عید کا سماں بن گیا۔ پورا گھر دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا۔ قیمتی فانوس، تازہ پھولوں کی لڑیوں اور خوشبوؤں سے ہر کونہ مہک رہا تھا۔ گھر کا لاڈلا، مغرور اور اکلوتا چشم و چراغ واپس لوٹ رہا تھا۔ ہر فرد کے چہرے پر ایک انوکھی خوشی اور بے تابی تھی۔ فرزانہ بیگم خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں، جبکہ ابیہا کا دل کسی ان جانے خوف سے مسلسل ڈوب رہا تھا۔ اس کا سارا وجود کانپ رہا تھا اسے عابص کا آخری جملہ حرف بحرف یاد تھا! "اب جب ہماری اگلی ملاقات ہوگی تو حالات بہت مختلف ہوں گے۔۔۔" وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ طوفان اس کی زندگی کو کس سمت لے جائے گا۔ 
کچھ دیر بعد آخرکار اس کی گاڑی بنگلے کے پورچ میں آ کر رکی جس کا سب کو انتظار تھا۔ پورا خاندان ہال روم کے مرکزی دروازے اور صحن میں جمع ہو چکا تھا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور چار سال بعد عابص خان نے اپنے آبائی گھر کی زمین پر قدم رکھا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ وجیہ، مغرور اور پروقار دکھائی دے رہا تھا، لیکن ایک چیز جو پرانی تھی وہ تھی اس کی آنکھوں میں موجود سرد مہری اور تلخی۔۔ فرزانہ بیگم نے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا۔۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے! سب باری باری اس سے مل رہے تھے، مبارکبادیں دی جا رہی تھیں اور ہر طرف ایک شور برپا تھا۔ ابیہا ہجوم سے تھوڑا فاصلے پر، ایک ستون کی اوٹ میں خاموش اور ساکت کھڑی، سانس روکے اس ستمگر کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل سینے میں زبردست انداز میں دھڑک رہا تھا، مقابل کی نظر اس پہ نہیں پڑی تھی مگر وہ ابیہا کو دیکھے بغیر بھی اس کی موجودگی کو اپنے اردگرد محسوس کر رہا تھا۔ تبھی خاندان کے چند کزنز اور تائی جان نے مسکراتے ہوئے عابص سے پوچھا۔ "بڑی دیر بعد آئے ہو کچھ لائے ہو کیا ہمارے لیے؟" اس کے کزن نے آگے بڑھتے ٹہوکا کروا کر گلے سے لگتے سوال کیا تو وہ دلکشی سے قہقہہ لگا گیا! "آف کورس سب کے لیے لایا ہوں!" وہ بولا تو اس کی آواز ابیہا کو اپنی روح میں اترتی محسوس ہوئی! چار سالوں بعد وہ اس کو سن رہی تھی! انجانے میں وہ ستون کی اوٹ سے نکل کر سامنے آ گئی تھی جس کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا! اس کے یوں منظرِ عام پر آنے پہ سب کزنز نے ہوٹنگ کرتے اگلا سوال داغا۔۔  "اپنی بیوی کے لیے کیا گفٹ لائے ہو عابص؟" سب کے پوچھنے پر اس نے اپنے لبوں پر راسرار مسکراہٹ سجائی اور اپنی چمکتی، مسکراتی آنکھوں سے ستون کے پاس کھڑی ابیہا کو دیکھا۔ ابیہا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھا، وہ بالکل سانس روکے اس کے جواب کے انتظار میں تھی، اس ستمگر نے پہلے ہی اسے بہت ستایا تھا اب کہ وہ اس سے تھوڑی نرمی چاہتی تھی۔۔ یہ جانے بغیر کہ وہ کیا قہر ڈھانے والا ہے اس پہ۔۔ "بہت اسپیشل تحفہ لایا ہوں۔۔۔" عابص نے طنزیہ مگر گہرے لہجے میں کہتے اس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔۔ اس کی نظروں میں استحقاق تھا! "ہمیں بھی دیکھاؤ گے کہ نہیں؟" ایک چچی نے شریر آواز میں پوچھا تو عابص کے لبوں کی مسکان گہری ہوئی! "ہاں بالکل۔! سب کے سامنے دوں گا بے فکر رہیں۔" اس کے اس طرح ہنسنے پر ابیہا کا دل زور سے دھڑکا۔ کاش یہ مسکراہٹ اس کے لیے ہوتی! مگر وہ تو اس سے سیدھے منہ بھی بات نہیں کر پایا تھا کبھی! زبردستی تو اس رات دونوں کے ساتھ ہوئی تھی، حالات کی قربانی تو دونوں نے دی تھی، پھر بھی وہ مسلسل اس کی سزا صرف ابیہا کو کیوں دے رہا تھا؟ قصور وار ہمیشہ اسی کو کیوں ٹھہراتا تھا؟ عابص نے تھوڑا سا مڑ کر اپنی گاڑی کے پچھلے دروازے کی طرف اشارہ کیا اور بلند اور سرد آواز میں پکارا! "باہر آ جاؤ ہنی" اس کے لہجے کی مٹھاس محسوس کرتے ابیہا کا دل سکڑا تھا! جب کہ باقی سب بھی نا سمجھی سے اسے دیکھ رہے تھے! یہ کون تھا جس کو وہ اتنے پیار سے بلا رہا تھا؟ گاڑی کا دروازہ کھلا اور اس میں سے ایک انتہائی خوبصورت غیر ملکی لڑکی باہر نکلی۔ وہ مسکراتی ہوئی عابص کے بالکل پہلو میں آ کر کھڑی ہو گئی اور وہاں موجود تمام دم بخود لوگوں کو بڑی بے نیازی اور مسکراہٹ سے دیکھنے لگی۔ "یہ رہا تمہارا گفٹ، مسز عابص خان۔۔ تمہاری سوتن!" اس کے الفاظ ابیہا کے دل میں کسی خنجر کی طرح لگے! یہاں تک کہ وہاں موجود پورا ہجوم بالکل ساکت ہو گیا، سب کے منہ حیرت اور صدمے سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ خوشیوں سے چہکتا ہوا گھر لمحوں میں خاموشی کی دوزخ میں بدل گیا۔ چار سال بعد وہ واپس آیا تھا، لیکن خالی ہاتھ نہیں تھا! ابیہا اس ظلم پہ چیخنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس کا گریبان پکڑ کر سوال کرنا چاہتی تھی۔۔ وہ اس شخص کو مار دینا چاہتی تھی جو جدائی سنانے کے بعد بھی اس کی زندگی میں کو اس جہنم میں دھکیل گیا تھا! وہ اتنا چیخنا چاہتی تھی کہ سب کے دل پھٹ جائیں مگر اس کی چیخ اندر ہی کہیں گھٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔ پہلے کیا کم ظلم ہوتا تھا اس گھر میں جو اب شوہر نے واپس لوٹ کر یہ بے رحم تحفہ دیا تھا۔ ابیہا کے جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی، اس کے گھٹنے جواب دے گئے اس کے قدموں تلے زمین بری طرح لہرانے لگی اور پھر اگلے ہی پل وہ بے جان ہوتی فرش پہ ڈھلک گئی۔۔ "ابیہا۔۔۔" آخری منظر کو اس نے دیکھا تھا وہ عابص کا اپنی طرف بھاگنا تھا اور پھر اس کے بعد وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی!
ہسپتال کے کمرے میں پھیلی ڈرپ کی سنسناہٹ اور مانیٹر کی مدہم بیپ کے درمیان جب ابیہا نے بوجھل پلکیں کھولیں، تو سب سے پہلے اس کی نظر سفید چھت اور اپنے ہاتھ میں لگی سوئی پر پڑی۔ جسم بخار سے ٹوٹ رہا تھا، لیکن دل کے اندر جو درد بیدار ہوا تھا، وہ اس جسمانی تکلیف سے ہزار گنا زیادہ شدید اور جان لیوا تھا۔
کمرے میں اس کے والد سجاد صاحب، والدہ شائستہ بیگم، اور دا جان (دادا سائیں) خاموش اور نڈھال سے کھڑے تھے۔ ابیہا نے دھندلی نظروں سے ان سب کو دیکھا اور پھر اچانک جیسے اس کے حافظے میں وہ تمام تر ذلت، وہ الفاظ اور وہ چہرہ واپس لوٹ آیا۔۔ "یہ رہا تمہارا گفٹ۔۔۔ تمہاری سوتن!" ایک شدید سسکی ابیہا کے حلق سے نکلی اور پھر وہ رو پڑی۔ وہ محض رو نہیں رہی تھی، بلکہ اس کے وجود سے ایک ایسا دردناک ماتم ابھرا کہ کمرے میں موجود ہر شخص کا کلیجہ کٹ کر رہ گیا۔ "بابا۔۔۔!" وہ بستر پر اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے سسکی، اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، "بابا خدا کے لیے مجھے بچا لیں۔۔۔ مجھے اس جہنم سے نکال لیں بابا!"
سجاد صاحب آگے بڑھے اور تڑپ کر بیٹی کا ہاتھ تھاما، ان کی اپنی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔ وہ باپ اپنی بیٹی کی تکلیف پہ رو رہا تھا جس بیٹی نے آج پہلی بار انہیں اپنی حفاظت کے لیے پکارا تھا "بابا! آپ تو کہتے تھے نہ کہ بیٹی کی عزت اور خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا؟" ابیہا نے اپنے والد کے آگے کانپتے ہوئے ہاتھ جوڑ دیے، اس کے آنسو گالوں پر بہتے ہوئے چادر میں جذب ہو رہے تھے، "مجھے طلاق دلوائیں بابا! میں اب ایک سیکنڈ بھی اس شخص کے نام کے ساتھ نہیں جی سکتی۔۔۔ مجھے نہیں چاہیے ایسا شوہر، مجھے نہیں چاہیے ایسا رشتہ! مجھے آزاد کروا دیں بابا، خدا کے لیے مجھے طلاق دلوائیں!" شائستہ بیگم نے تڑپ کر اپنی بیٹی کو سینے سے لگانا چاہا، لیکن ابیہا نے روتے ہوئے ان کا ہاتھ بھی پکڑ لیا، "امی۔۔۔ آپ تو ماں ہیں نہ؟ آپ تو میری تکلیف سمجھتی ہیں؟ آپ کیوں خاموش ہیں امی؟ آپ نے کیوں نہیں روکا اپنے سسر اور شوہر کو اس دن؟ آپ اپنی بیٹی پہ ترس کیوں نہیں کھاتیں؟ دیکھیں کیا کر دیا اس شخص نے میرے ساتھ! چار سال کا انتظار اور بدلے میں یہ ذلت؟ امی، میں مر جاؤں گی۔۔۔ میں واقعی مر جاؤں گی اگر مجھے اس کی قید سے نہ نکالا!" دا جان نے دکھ اور ندامت سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ان کا سراپا، جو ہمیشہ رعب اور دبدبے کا مظہر ہوا کرتا تھا، آج اپنی ہی پوتی کے سامنے جھکا ہوا تھا۔ "ابیہا بیٹا۔۔۔ حوصلہ کرو، اپنے آپ کو سنبھالو۔۔۔" شائستہ بیگم نے روتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دینے کی کوشش کی، مگر ابیہا مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔ وہ اپنے دا جان کی طرف مڑی، اس کی آواز میں التجا اور درد کا طوفان تھا۔ "دا جان۔۔۔ آپ نے اپنی عزت بچانے کے لیے میری قربانی دی تھی نہ؟ بولیں نہ دا جان! آج کہاں گئی وہ عزت؟ آج جب وہ مجھے رسوا کر کے میرے پہ سوتن لے آیا ہے تب آپ کی عزت بچ گئی؟ میں نے آپ کے ایک حکم پر اپنا آپ مار دیا تھا دا جان۔۔۔ اب مجھے اس کی سزا سے معافی دے دیں، مجھے طلاق دلوائیں!" سب لوگ نظریں چرا رہے تھے، کسی کے پاس اس کی چیخوں اور سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کمرے میں صرف ابیہا کے رونے اور سسکنے کی آوازیں گونج رہی تھیں کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ عابص خان اندر داخل ہوا اس کے چہرے پر سپاٹ اور سرد تاثرات تھے، مگر اس کی گہری آنکھوں میں ابیہا کی بدحالی دیکھ کر عجیب سی بے چینی بھری ہوئی تھی! عابص کو سامنے دیکھتے ہی ابیہا کا روپ دم بھر میں بدل گیا۔ اس کے اندر جیسے خوف اور درد کی جگہ شدید نفرت نے لے لی۔ وہ بستر پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، اس کا پورا وجود غصے سے کانپنے لگا۔ "تم۔۔۔! تم یہاں کیوں آئے ہو؟" وہ چیخی، اس کی آواز حلق سے پھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، "باہر نکالو اس شخص کو! بابا۔۔۔ دا جان۔۔۔ اسے باہر نکالیں! میں اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی! مجھے اس سے نفرت ہے، مجھے اس کی موجودگی سے گھٹن ہو رہی ہے! باہر نکالو اسے!"۔وہ ہاتھوں میں لگی ڈرپ کو نوچنے کی کوشش کرنے لگی۔ شائستہ بیگم نے گھبرا کر اس کے ہاتھ تھامے۔ "عابص، تم ابھی باہر جاؤ۔۔۔ دیکھ رہے ہو اس کی حالت؟" سجاد صاحب نے سخت لہجے میں کہا آج ان کی آواز میں غصہ اور تکالیف واضح تھیں۔ مگر عابص نے کسی کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ اس کے قدم بے باکی سے بستر کی طرف بڑھے۔ اس کی نظریں ابیہا کے سرخ اور آنسوؤں سے بھیگے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ "آپ سب لوگ باہر جائیں مجھے اس سے بات کرنی ہے" اس کا لہجہ دو ٹوک تھا! ابیہا نے نفی میں سر ہلایا! "کوئی نہیں جائے گا! بابا اس سے کہیں یہ چلا جائے! اگر یہ یہاں سے نہیں گیا تو میں اپنی رگیں کاٹ لوں گی!" ابیہا کی چیخوں میں دیوانگی شامل ہو چکی تھی، وہ مسلسل عابص کو پیچھے ہٹنے کے اشارے کر رہی تھی۔ عابص نے ایک گہری سانس لی اور گردن موڑ کر کمرے میں موجود تمام لوگوں کو دیکھا۔ اس کا لہجہ دو ٹوک اور سرد تھا۔ " سب لوگ باہر جائیے۔۔۔ مجھے اپنی بیوی سے بات کرنی ہے۔ ابھی کے ابھی۔" "عابص! یہ کیا بدتمیزی ہے؟" دا جان کی آواز میں سختی لوٹ آئی، "لڑکی کی حالت دیکھ رہے ہو؟ تم نے پہلے ہی۔۔۔" "میں نے کہا آپ سب باہر جائیے۔" عابص نے ان کی بات کاٹتے ہوئے انتہائی دھیمے مگر مضبوط لہجے میں دہرایا۔۔ اس کی آنکھوں میں جمود تھا کہ سجاد صاحب اور دا جان بھی لمحے بھر کے لیے ٹھٹھک گئے۔ "نہیں! امی خدا کے لیے مت جائیں۔۔۔ بابا، اسے کہیں یہ باہر جائے!" ابیہا نے تڑپ کر اپنی ماں کا آنچل تھامنا چاہا، مگر عابص کے لہجے اور ماحول کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے، سجاد صاحب نے دکھ سے ابیہا کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ "ہم باہر ہی ہیں ابیہا۔۔۔" سجاد صاحب نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا اور شائستہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر کی طرف لے جانے لگے، دا جان بھی ایک گہری، بوجھل سانس بھرتے ہوئے باہر نکل گئے۔ "بابا! دا جان! مت جائیں۔۔۔!" ابیہا کی التجا دروازے کے بند ہونے کے ساتھ ہی اندر ہی گھٹ کر رہ گئی۔ کمرے میں اب صرف وہ دونوں تھے۔ عابص نے آگے بڑھ کر دروازے کو اندر سے لاک کیا اور مڑ کر ابیہا کو دیکھا، جو بستر کے کونے میں خود کو سمیٹے، نفرت اور خوف سے جلتی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔ 

After four long years, Aabiz Khan finally returned to Pakistan, leaving the entire Khan family overjoyed. The mansion was beautifully decorated to welcome their beloved son, but Abiha’s heart was filled with fear and uncertainty. She had endured years of humiliation, taunts, and cruelty from her mother-in-law, Farzana Begum, who blamed her for her son’s departure. Abiha had sacrificed her happiness because of family circumstances, hoping that one day her husband would return and treat her with kindness. However, when Aabiz arrived, he had a shocking surprise waiting for her. When his family playfully asked what gift he had brought for his wife, he smiled mysteriously and called out to a beautiful foreign woman named Honey. Introducing her to everyone, he coldly declared, “Here is your gift, Mrs. Aabiz Khan—your co-wife!” Abiha was devastated by his cruel words and collapsed to the floor, unable to bear the humiliation.

When Abiha regained consciousness in the hospital, the memories of that heartbreaking moment overwhelmed her. Unable to control her tears, she begged her father, mother, and grandfather to free her from the marriage. She reminded them that she had sacrificed her life and happiness to protect the family’s honour, yet all she had received in return was pain and humiliation. She pleaded with them to arrange her divorce, insisting that she could no longer live with a man who had treated her so mercilessly. Her family was heartbroken, but they had no answers to her desperate questions. Just then, Aabiz entered the hospital room, his face cold and expressionless. The moment Abiha saw him, her grief turned into intense hatred. She screamed at him to leave, refusing even to look at him. When he ignored her pleas and demanded that everyone leave the room so he could speak to his wife privately, Abiha became terrified and threatened to hurt herself if he came any closer.

After everyone reluctantly left, Aabiz locked the hospital room door and turned toward Abiha, who sat trembling in the corner of her bed, staring at him with fear and hatred. Their marriage had been shaped by circumstances neither of them had chosen, yet Aabiz had spent years making Abiha suffer for something that was never entirely her fault. His return, accompanied by another woman, had shattered whatever hope remained in her heart. Now, with Abiha demanding freedom and Aabiz determined to speak to her alone, their painful relationship was about to enter another turbulent chapter. Would Aabiz reveal the real reason behind his cruel behaviour, or would he continue to punish Abiha for their troubled past? And would Abiha finally find the courage to break free from a marriage that had brought her nothing but heartbreak?



Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post