"زایان سر۔۔۔" اس بار اس نے ذرا بلند آواز میں پکارا تو زایان نے بے زاری سے کروٹ بدلی۔ "ہمم۔۔" "مجھے آپ سے بات کرنی ہے" اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ "صبح صبح" زایان نے آدھی بند آنکھیں کھولیں وہ ابھی پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوا تھا۔ "پلیز۔۔۔" اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ زایان نے آنکھیں کھول دیں۔ "کیا ہوا" "م۔۔ میرے بابا۔۔" نام لیتے ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ "آپ نے کہا تھا آپ پیسے دیں گے مجھے پیسے دے دیں تاکہ میں چلی جاؤں" وہ دھیرے سے بولی زایان چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر ہلکا سا مسکرایا۔ "میں نے کہا تھا نا دے دوں گا جلدی کیا ہے" وہ لاپرواہی سے بولا۔ "مجھے ابھی پیسوں کی ضرورت ہے" اس نے ایک لمبی سانس لی جبکہ زایان نے شرارتی انداز میں کہا۔ "اتنی جلدی بھی کیا ہے ابھی ایک سال مجھے مزید خوش کرو پھر ایک سال بعد پیسے اور طلاق دونوں لے لینا۔" وہ ہلکے سے ہنسا اور سامنے والے کی پوری دنیا ہل کر رہ گئی تھی۔
---
آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے ہلکی بوندا باندی شہر کی سڑکوں کو نم کر رہی تھی لوگوں کا ہجوم اپنی اپنی منزلوں کی طرف بھاگ رہا تھا مگر ان سب کے درمیان ایک لڑکی ایسی بھی تھی جس کی منزل صرف ایک نوکری نہیں بلکہ اپنے باپ کی زندگی تھی وہ اپنے ہاتھ میں موجود فائل کو مزید مضبوطی سے پکڑے سفید سوٹ پر ہلکی سیاہ چادر اوڑھے شیشے کی بلند و بالا بلڈنگ کے سامنے کھڑی تھی بلڈنگ کی دیواروں پر چمکتے سنہری حروف اس کے دل میں عجیب سا خوف پیدا کر رہے تھے۔ *"ملک گروپ آف کمپنیز"* اس نے ایک گہرا سانس لیا کیونکہ یہ اس کی زندگی کا پانچواں انٹرویو تھا اور شاید آخری امید بھی اس نے بلڈنگ کے شیشے میں اپنا عکس دیکھا چہرے پر تھکن واضح تھی آنکھوں کے نیچے پڑے ہلکے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اسے کئی راتوں سے نیند نصیب نہیں ہوئی تھی
مگر پھر اچانک اس کے ذہن میں وہ منظر ابھرا جس نے اس کی زندگی کو جہنم بنا دیا تھا۔
"آپ پیشنٹ کی بیٹی ہیں" ڈاکٹر کی سنجیدہ آواز سن کر اربیہ اور اس کے والد دونوں چونک گئے تھے۔ "جی ڈاکٹر صاحب" وہ بولی۔ "حاجی سلیم صاحب کی حالت اتنی اچھی نہیں ہے بی بی جتنی ہم سمجھ رہے تھے" ڈاکٹر نے رپورٹ میز پر رکھتے ہوئے گہرا سانس لیا تو اربیہ کا دل زور سے دھڑکا۔ "کیا مطلب" "دل کی تین بڑی شریانیں بلاک ہیں جتنی جلدی ہو سکے سرجری کرنی ہوگی" ان کی بات پہ کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ "س۔۔ سرجری" اس کے ہونٹ لرز گئے۔ "جی اور اس میں کافی خرچہ آئے گا" وہ نرمی سے بولے۔ "کتنا" وہ سہمی۔ "پینتالیس لاکھ" ڈاکٹر نے فائل بند کرتے ہوئے وہ رقم بتائی جس نے اربیہ کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی۔
اس کو لگا جیسے اس کے کانوں نے غلط سنا ہو۔ پینتالیس لاکھ۔۔۔ وہ تو پینتالیس ہزار بھی اکٹھے نہیں کر سکتی تھی اس نے بے اختیار اپنے باپ کی طرف دیکھا جس کی آنکھوں میں نمی لیکن لبوں پر حسب معمول مسکراہٹ موجود تھی۔ "بیٹا فکر نہ کر اللہ بڑا کارساز ہے" مگر اربیہ جانتی تھی کہ اللہ کے بعد اس دنیا میں کچھ دروازے انسانوں کو بھی کھٹکھٹانے پڑتے ہیں اور پھر وہ دروازے تھے جو اس کے منہ پر بند کر دیے گئے تھے۔
"معاف کرنا اربیہ اتنی بڑی رقم ہمارے بس میں نہیں" "ہم خود قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں" "ویسے تمہارے ابو نے ساری زندگی خود مختاری دکھائی ہے اب اچانک ہم کیا کریں" "بیٹا ہم تو بس دعا کر سکتے ہیں" سب کے پاس صرف اس قسم کے الفاظ تھے مگر کسی کے پاس مدد نہیں تھی اربیہ کو آج بھی یاد تھا جب وہ اپنی پھوپھی کے گھر سے باہر نکلی تھی تو ان کے الفاظ اس کے پیچھے تیر کی طرح آئے تھے۔ "غریب آدمی کو اتنی مہنگی بیماری ہونی ہی نہیں چاہیے" وہ الفاظ سن کر بھی اس نے خود کو سنبھال لیا تھا مگر گھر پہنچ کر وہ رات بھر روتی رہی تھی۔
"کب تک روئے گی" اس کی دوست ماہین نے اس کے سامنے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے کہا تھا۔ "پھر کیا کروں" وہ جھنجھلائی۔ "لڑو" وہ پیار سے بولی۔ "کس سے" "حالات سے یوں بھیک مانگنے یا رونے سے بہتر ہے کہ نوکری تلاش کرو" وہ اسے سمجھانے لگی تو وہ ہنس دی ایسی ہنسی جس میں خوشی کا کوئی عنصر نہیں تھا۔ "ایک نوکری پینتالیس لاکھ نہیں دے سکتی"
---
وہ خاصی میں واپس آئی جب اس کے پیچھے سے گارڈ نے کہا۔ "ریسپشن دوسری منزل پر ہے" وہ مسکرا کر بولا۔ "تھینکس" اس نے سر ہلایا اور عمارت کے اندر داخل ہو گئی اندر کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی ہر چیز اتنی شاندار تھی کہ وہ خود کو یہاں حقیر محسوس کرنے لگی چمکتا فرش، قیمتی سجاوٹ، مہنگے کپڑوں میں ملبوس لوگ اور ان سب کے درمیان وہ ایک ایسی غریب لاچار لڑکی جو اپنے باپ کی جان بچانے کے لیے نوکری مانگنے آئی تھی بہر حال لفٹ کے دروازے کھلے تو وہ اندر داخل ہوئی جیسے جیسے لفٹ اوپر جا رہی تھی اس کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جا رہی تھی۔
"یا اللہ پلیز مجھے یہ نوکری مل جائے" اس نے دل ہی دل میں دعا کی نظریں لفٹ کی دیوار پر جم گئیں اسے اپنے باپ کا زرد پڑتا چہرہ اور کمزور آواز یاد آئی۔ "میری وجہ سے خود کو مت تھکانا بیٹا میں کیا پتہ تب بھی نا بچوں" اور تب اربیہ نے پہلی بار دل میں ایک عہد کیا تھا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے چاہے اسے کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے وہ اپنے باپ کو بچائے گی اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ قسمت اس سے صرف محنت یا وقت نہیں مانگنے والی بلکہ بہت جلد اس کے سامنے ایک ایسا سودا رکھا جانے والا تھا جو اس کی پوری زندگی بدل دے گا لفٹ کی "ڈنگ" کی آواز کے ساتھ دروازے کھلے کیونکہ دوسری منزل آ چکی تھی اس لیے وہ اپنی قسمت کے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
"یس کم ان" گہری، پُر اعتماد آواز سن کر اربیہ نے دروازہ دھیرے سے کھولا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظریں چند لمحوں کے لیے رک گئیں وسیع و عریض آفس، شیشے کی دیواروں سے نظر آتا پورا شہر، مہنگا فرنیچر اور درمیان میں بیٹھا ایک شخص یقیناً وہ *زایان ملک* تھا ملک گروپ کا مالک۔۔۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھا فائل دیکھ رہا تھا جب اربیہ کے داخل ہونے پر اس نے سر اٹھایا اور چند لمحوں کے لیے خاموش رہ گیا فائل میں لگی تصویر اور سامنے کھڑی لڑکی میں زمین آسمان کا فرق تھا وہ تصویر سے کئی گنا بڑھ کر حسین تھی سادہ لباس، بناوٹ سے پاک چہرہ، بڑی بڑی نم آنکھیں اور ایسی معصومیت جو آج کل کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی زایان کی نظریں چند لمحے کو ٹھہر سی گئیں دل ناجانے کیوں دھڑکنے لگا تھا۔
"مس اربیہ" نرمی سے پوچھتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ "ج۔۔ جی۔" وہ سنبھل کر بیٹھ گئی جبکہ زایان نے فائل بند کر دی۔ "تعلیم آپ کی نارمل ہی ہے لیکن لکس کافی اچھی ہے" وہ مسکرا کر بولا۔ "تھینکس سر" وہ اور کیا کہتی۔ "جاب کا ایکسپیرینس ہے آپ کو" وہ سوال پوچھتا ہے۔ "نو سر کبھی موقع نہیں ملا" وہ معصومیت سے سر پر دوپٹہ لے کر کہتی ہے۔ "تو پھر آپ کو کیوں لگتا ہے کہ ہم آپ کو ہائر کریں گے" زایان نے ہلکی سی بھنویں اٹھائیں اربیہ خاموش ہو گئی کیونکہ اس سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔
زایان مسلسل اسے دیکھ رہا تھا وہ کاروباری دنیا کا ایسا آدمی تھا جو لوگوں کے چہروں کے پیچھے چھپی کہانیاں پڑھ لیتا تھا اور اربیہ کا چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ کسی بہت بڑے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ "آپ بہت پریشان لگ رہی ہیں" ٹوہ لینے والے انداز میں پوچھا تو اربیہ چونکی۔ "ن۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں" وہ گھبراہٹ کا شکار ہوئی۔ "جھوٹ بولنا نہیں آتا آپ کو" وہ مسکرایا تو وہ نظریں جھکا گئی۔ "ریلیکس رہیں میں پرسنل ہونے والوں میں سے نہیں ہوں" وہ بظاہر نرمی سے بولا مگر اربیہ کو اس کا انداز عجیب لگا تھا۔
"آپ کی ایج کیا ہے" جان بوجھ کر پوچھا حالانکہ سی وی پہ سب کچھ درج تھا۔ "ج۔۔ چوبیس سال" وہ بولی۔ "میرج اور انگیج" بھنویں اٹھا کر سوال کیا تو اربیہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ "نو سنگل ہوں سر" وہ بے آرام سی ہونے لگی تھی کیونکہ یہ سوالات جاب سے متعلق نہیں تھے۔ "بوائے فرینڈ وغیرہ۔۔۔" "سر اگر آپ جاب سے متعلق سوال کریں تو بہتر ہو گا" بالآخر وہ بول ہی پڑی تو زایان نے مسکرا کر کرسی سے ٹیک لگا لی۔ "سوری اب آپ جا سکتی ہیں" وہ بولا تو کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
"آپ کا انٹرویو ختم ہو گیا ہے" اس کی بات پہ اربیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی "جی مطلب کیا مجھے جاب مل گئی ہے" وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔ "نو آپ سلیکٹ نہیں ہوئیں کیونکہ آپ کے پاس ایکسپیرینس نہیں ہے" وہ حتمی فیصلہ سناتا ہے اور اربیہ کو لگا جیسے کسی نے اس کے کانوں میں بارود پھونک دیا ہو۔ "لیکن سر" "لک مس میرے پاس آپ سے بہتر امیدوار موجود ہیں" وہ کندھے اچکاتا ہے تو اربیہ کے ہاتھ کانپنے لگے "سر پلیز" وہ منت کرنے لگی۔ "آئی ایم سوری" وہ ظالم بنا۔ "سر مجھے یہ نوکری لازمی چاہیے پلیز سر" وہ مزید منت کرتی ہے۔ "ہر کینڈیڈیٹ یہی کہتا ہے" اس کا انداز بے رحم تھا "نہیں آ۔۔ آپ سمجھ نہیں رہے مجھے واقعی ضرورت ہے" اس کی آواز بھر آنے لگی۔
پہلی بار اسے لگا یہ لڑکی اداکاری نہیں کر رہی وہ واقعی مجبور ہے اور زایان کے اندر کا مرد نا جانے کیوں فوری جاگنے لگا تھا۔ "کتنی ضرورت ہے" یہ سوال سنتے ہی اربیہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "م۔۔ میرے بابا بہت بیمار ہیں سر ان کی سرجری ہونی ہے اور۔۔ اور میرے پاس پیسے نہیں ہیں" وہ سر جھکا گئی۔ "کتنے پیسے" وہ آئی برو اٹھاتا بولا تو اربیہ نے لرزتی آواز میں اسے رقم بتائی جسے سن زایان کے چہرے پہ ہلکا سا حیرت کا تاثر آیا یہ کوئی معمولی رقم نہیں تھی۔ "اور آپ کو لگتا ہے ایک نوکری سے یہ سب ہو جائے گا یونا پچاس ہزار والی جاب پینتالیس لاکھ کہاں سے لائے گی پھر انسان کی دوسری ضرورت تین ہوتی ہیں آپ صرف ایک معمولی جاب سے کچھ نہیں کر سکتی" وہ طنزیہ بولا۔
"مجھے نہیں معلوم سر لیکن میں کوشش کر رہی ہوں" اربیہ نے بے بسی سے سر جھکا لیا زایان چند لمحے میز پر انگلیاں بجاتا رہا جیسے کسی گہری سوچ میں ہو پھر اچانک اس نے کہا۔ "اگر میں یہ رقم دے دوں تو" "جی" اس کی آفر پر اربیہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ "یس اگر میں آپ کے تمام مسئلے حل کر دوں تو" وہ اسی انداز میں بولا اور اربیہ کی سانس رک گئی۔ "آپ کیا مطلب" وہ اب بھی نا سمجھ تھی زایان کرسی سے اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
"میں ایک ڈیل آفر کر رہا ہوں اسے ماننا اور نا ماننا تمہاری مرضی ہے کوئی زور زبردستی بھی نہیں ہے" وہ سرد مہری سے کہتا ہے تو اربیہ کے دل میں انجانا خوف جاگا۔ "کیسی ڈیل" "ایک کنٹریکٹ" زایان نے مڑ کر اسے دیکھا۔ "میں سمجھی نہیں سر" "تمہیں ایک محدود مدت کا نکاح کرنا ہوگا آئی مین ایک رات کے لیے نکاح کر کے مجھے خوش کرنا ہوگا" وہ دھیرے سے آفر کرنے لگا۔ "ک۔۔ کیا" اربیہ کا رنگ اڑ گیا۔
"بدلے میں وہ پیمنٹ جو تمہیں چاہیے میں وہ دوں گا ساتھ ہی ڈائیورس بھی ہو جائے گی" اس کی بات پر کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ چند لمحوں تک اربیہ کو لگا جیسے اس نے غلط سنا ہو پھر حقیقت سمجھ آتے ہی اس کی آنکھوں میں غصہ بھر گیا۔ "آپ میری مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔" "میں ایک آفر کر رہا ہوں" وہ نرمی سے بولا۔ "یہ آفر نہیں سودا ہے سوری مجھے ایسی جاب نہیں چاہیے" وہ فوراً کھڑی ہوتی فائل اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی آنکھوں میں آنسو اور دل میں غصہ تھا جبکہ روح میں ٹوٹ پھوٹ مچی ہوئی تھی وہ ابھی جانے ہی لگی تھی کہ عین اسی لمحے اس کا فون بج اٹھا اسکرین پر ہسپتال کا نمبر چمک رہا تھا اس نے لرزتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔
"جی ڈاکٹر صاحب۔۔ ک۔۔ کیا" دوسری طرف سے آنے والے الفاظ سنتے ہی اس کے قدم ڈگمگا گئے۔ "ن۔۔ نہیں پلیز" اس کا رنگ زرد پڑ گیا زایان نے پہلی بار اس کے چہرے پر حقیقی خوف دیکھا۔ کال ختم ہوئی تو اربیہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "ب۔۔ بابا کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں وقت بہت کم ہے" وہ سرگوشی میں بولی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے چند لمحے وہ دروازے کے پاس کھڑی رہی پھر جیسے اپنی ساری خودداری نگل گئی ہوا اس لیے آہستہ آہستہ واپس پلٹی جہاں زایان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
"اگر۔۔ اگر میں مان جاؤں۔۔ تو آپ واقعی میرے بابا کا علاج کروا دیں گے" اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ زایان کی نظریں چند لمحے اس پر ٹکی رہیں پھر اس نے دھیرے سے جواب دیا۔ "یس آف کورس" اس کی آمادگی پر اربیہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے محسوس ہوا جیسے قسمت سے اسکے راستے دھندلا رہے ہوں۔
Download Novel By Clicking Download Button Below
