کلائی کو اپنی لوہے جیسی گرفت میں دبا لیا "آآآہ...!" زرمین کے حلق سے دردناک چیخ نکلی۔ لیکن افنان کے دل میں رحم کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ اس نے زرمین کو گاڑی سے باہر یوں کھینچا جیسے کوئی کسی بے جان کھلونے کو گھسیٹتا ہے۔ چودہ سالہ زرمین کے نازک پاؤں حویلی کے نوک دار پتھروں اور سخت سیڑھیوں سے جا رہے تھے۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں۔ اس کے قدموں سے خون کی باریک لکیریں بنتی جا رہی تھیں، لیکن افنان کی رفتار میں کوئی کمی نہیں آئی۔ "تمہارے باپ کو لگتا ہے وہ تمہیں 'ونی' میں بھیج کر، تمہاری قربانی دے کر اس خاندانی دشمنی کو ختم کر سکتا ہے؟" افنان کی بھاری اور غصے سے کانپتی آواز حویلی کی ویران راہداریوں میں گونجی۔۔۔۔
اس نے زرمین کو کھینچتے ہوئے کمرے کے اندر داخل کیا اور بستر پر بے دردی سے پھینک دیا۔ "تو یہ اس کے باپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے! میرا افنان بدلہ لینا جانتا ہے...اور بدلے کی آگ کبھی اتنی آسانی سے نہیں بجھتی!" زرمین بستر پر گری، اس کا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنے وجود کو ڈھانپنے کی کوشش کی۔ وہ معصوم تھی، دنیا کے سرد و گرم سے ناواقف، لیکن عورت کی وہ فطری حس جو اسے غلط نظر اور خطرے کا احساس دلاتی ہے، اس وقت زرمین کے اندر بیدار ہو چکی تھی۔۔۔۔
"پلیز... خدا کے لیے... مجھے چھوڑ دیں..." وہ ہاتھ جوڑ کر رونے لگی۔ اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو اس کے زرد رخساروں پر بہنے لگے۔ اسے یاد آیا... ابھی چند گھنٹے پہلے ہی تو اس کے بابا اسے حویلی لانے کے لیے گھر سے نکلے تھے۔ تب ان کے گاؤں اور خاندان کی عورتیں چیخ چیخ کر رو رہی تھیں۔ زرمین کی ماں نے اس کے قدموں میں گر کر فریاد کی تھی، لیکن بابا کے چہرے پر صرف بےبسی اور ڈر تھا۔ اس وقت زرمین نہیں سمجھی تھی کہ سب کیوں رو رہے ہیں؟ کیوں اسے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح رخصت کیا جا رہا ہے؟ لیکن اب... افنان کی ان درندہ صفت آنکھوں کو دیکھ کر وہ سب کچھ سمجھ رہی تھی!
"خاموش!" افنان کی دھاڑ سے کمرے کی دیواریں ہل گئیں۔
وہ کسی حیوان کی طرح اس معصوم لڑکی پر جھپٹا زرمین کی دلدوز چیخ نے رات کے سناٹے کو چیر کر رکھ دیا۔ ساری حویلی پر خوف کا سکوت طاری تھا۔ نیچے کمروں میں موجود حویلی کی عورتیں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھے سسک رہی تھیں۔ میر قادر کی بہن رولی، جو تین سال پہلے بیوہ ہو کر اسی حویلی کے ایک کونے میں زندگی گزار رہی تھی،اپنے بستر پر لیٹی اپنے کانوں کو تکیے سے ڈھانپنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
سب کو معلوم تھا کہ اس معصوم لڑکی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، سب کو اس پر ترس آرہا تھا جو اتنی کم عمری میں نکاح جیسے مقدس بندھن کو انتقام کی بھینٹ چڑھتے دیکھ رہی تھی... لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ میر افنان کے سامنے ایک لفظ بھی بول سکے۔ میر افنان کا خوف حویلی کے ہر فرد کے دل پر نقش تھا۔ پوری رات... وہ دردناک چیخیں حویلی کی فضاؤں میں گونجتی رہیں۔ جب سحر کی پہلی کرن نے افق سے سر ابھارا، تو کمرے میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔ افنان نے بستر پر پڑی اس بے جان، زخمی اور نیم بے ہوش وجود کو دیکھا۔۔۔
اس کے چہرے پر فتح کا کوئی احساس نہیں تھا، صرف ایک گہری نفرت اور انتقام کی تاریکی تھی۔ اس نے زرمین کے وجود کو نفرت سے پرے دھکیلا، بستر سے اٹھا اور غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔ آدھے گھنٹے بعد، وہ اپنے ٹریولنگ بیگز اٹھائے بغیر کسی کی طرف دیکھے حویلی کے عقبی دروازے سے نکل گیا۔ اس نے اس معصوم کی روح اور جسم پر اذیت کی ایسی داستان رقم کر دی تھی جو شاید کبھی نہ مٹ سکتی، اور خود اگلی صبح ہی دوسرے ملک جانے کے لیے ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔ حویلی کے کسی ملازم، کسی فرد نے اسے جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔۔
Story From The Novel
Zarmin had been given in vani because of a bitter family feud and was brought to the Mir Haveli against her will. Mir Afnan, consumed by anger and revenge, treated her cruelly and dragged her into the haveli. Zarmin was terrified and helpless, unable to understand why her family had sent her away amid so much crying and grief. Her mother had begged for her, while her father had looked helpless and frightened. Only after seeing the hatred in Afnan’s eyes did Zarmin realize that she had been sacrificed to settle an old family enmity. She pleaded with him to let her go, but he showed no mercy.
That night, Zarmin’s cries echoed throughout the haveli. The women living there knew she was suffering, and many covered their ears and wept, but none dared confront Afnan because of the fear he commanded. Roli, the widowed sister of Mir Qadir, also lay helplessly in her room, trying to block out the heartbreaking screams. Everyone pitied Zarmin for becoming the victim of a revenge-driven marriage, but no one had the courage to intervene. The entire night passed in an atmosphere of fear and helplessness, while Zarmin endured terrible suffering at the hands of the man who had married her only to take revenge on her family.
At dawn, the haveli finally fell silent. Afnan looked at Zarmin lying injured and barely conscious on the bed, then walked away without showing any remorse. After bathing and packing his travel bags, he quietly left through the back entrance of the haveli. He had inflicted deep physical and emotional trauma on Zarmin and then left the very next morning for the airport, intending to travel abroad. No servant or family member even saw him leave. Zarmin was left behind, alone with the consequences of a marriage that had been forced upon her because of a feud she had never caused.
Download Novel By Clicking Download Button Below
