Sneak Peak From The Novel
"خون کے بدلے عزت جائے گی! اگر ذاکر مرد بن کر پنچایت کے سامنے پیش نہیں ہو سکتا اور بزدلوں کی طرح روپوش ہوگیا ہے، تو اس کے گناہ کی سزا اس کے خاندان کو بھگتنا ہوگی!" سردار فیصل خان کی رعب دار اور زہریلی آواز نے کھلے میدان میں چھپے برگد کے پرانے درخت کے نیچے اپنا فیصلہ سنایا تو وہاں موجود ہر
شخص کے وجود میں کپکپی دوڑ گئی۔ پنچایت کا ماحول اتنا بوجھل اور خوفناک تھا کہ ہر کوئی سہما ہوا تھا۔ گاؤں کے تمام بڑے بوڑھے سر جھکائے بیٹھے تھے جبکہ فیصل کے محافظ غضب ناک نگاہوں سے بھیڑ پر نظریں جمائے کھڑے تھے۔۔۔۔۔
میدان کے بیچوں بیچ زمین پر بیٹھی زہرا بی بی بے بسی اور غم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ان کا سارا وجود کانپ رہا تھا اور چادر کا کونہ آنکھوں سے لگائے وہ زار و قطار رو رہی تھیں۔ ان کا جوان بیٹا ذاکر ایک شخص کے قتل کے الزام میں گاؤں سے فرار ہو چکا تھا اور اب ان کا پورا خاندان سردار کے قہر کی لپیٹ میں تھا۔ "سردار صاحب خدا کے لیے رحم کریں! میری عمر دیکھیے، میں ذاکر کی ماں ہوں، میرا بیٹا بےگناہ ہے وہ ڈر کر بھاگ گیا ہے۔ اس کے بدلے میں مجھے ونی بنا کر حویلی کی ٹھوکروں میں نہ پھینکیں!" زہرا نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے التجا کی، لیکن فیصل خان کے چہرے پر رحم کا ایک سایہ بھی نہ ابھرا۔
اس کی سرخ آنکھوں میں صرف بدلہ اور غرور ناچ رہا تھا۔ "سردار کا فیصلہ بدلا نہیں کرتا زہرا! اگر تیرے بیٹے نے ہمارے خاندان کے بندے کا خون بہایا ہے تو اس کا تاوان تجھے ہی ادا کرنا پڑے گا۔ پنچایت کا حکم ہے کہ تو آج ہی ہماری حویلی میں ونی بن کر قدم رکھے گی!" فیصل نے حتمی اور سخت لہجے میں کہا اور فیصلے کی مہر ثبت کرنے ہی والا تھا کہ اچانک بھیڑ کو چیرتی ہوئی ایک تیز نڈر آواز فضا میں گونجی۔ "چھوڑ دو میری امی کو! میری ماں کا کوئی قصور نہیں ہے!" سب کی نگاہیں گھوم کر اس سمت اٹھیں جہاں سترہ سالہ افشین کھڑی تھی۔ اس کے سفید دوپٹے میں لپٹا معصوم چہرہ غصے، دکھ اور شدید کرب سے لال ہو رہا تھا مگر اس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے ایک عجیب سی بہادری اور غیرت کی چمک تھی۔ وہ قدم سے قدم ملاتی ہوئی آگے بڑھی اور سیدھی سردار فیصل خان کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ "اگر آپ کو اپنے خون کا بدلہ ہی چاہیے، اگر پنچایت کی انا کسی عورت کی تذلیل سے ہی تسکین پاتی ہے، تو میری ماں کو چھوڑ دیں! میں اپنے بھائی کے جرم کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے ونی میں لے جاؤ!" افشین کے اس جرأت مندانہ اعلان نے پوری پنچایت میں سناٹا طاری کر دیا۔۔۔۔۔
بھیڑ میں سے ہلکی ہلکی آوازیں آنا شروع ہو گئیں لیکن سردار فیصل خان کی نظریں جیسے ہی افشین کے معصوم اور بے داغ چہرے پر پڑیں، اس کی آنکھوں کی ہوس اور نیت کا رنگ یکلخت بدل گیا۔ اس نے پہلی بار سترہ سالہ
افشین کو غور سے دیکھا؛ اس کی گہری آنکھیں، چہرے
کی معصومیت اور اس کی کھلی رنگت فیصل کی ہوس پرستی کو بیدار کر گئی۔ فیصل کے ہونٹوں پر ایک مکروہ
مسکراہٹ ابھر آئی۔ اس نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے
ہوئے اس کچی کلی کے جسم اور چہرے کا جائزہ لیا اور
ایک گہری سانس کھینچی۔۔۔۔
"ہنہ... تو بیٹی اپنی ماں کی ڈھال بننے آئی ہے؟" فیصل نے اپنی نشست سے ذرا آگے جھکتے ہوئے کہا جس میں ایک زہریلی مٹھاس تھی۔ "ٹھیک ہے افشین! اگر تیرے اندر اتنا حوصلہ ہے کہ تو اپنے خاندان کی عزت بچانے چلی ہے، تو سردار فیصل خان بھی تیرا یہ جذبہ رد نہیں کرے گا۔ اب زہرا نہیں بلکہ تو ونی ہو کر حویلی جائے گی!" یہ سنتے ہی زہرا تڑپ اٹھیں۔ اس نے چیخ کر اپنی بیٹی کے ہاتھ پکڑ لیے، "نہ افشین نہ! میری بچی، یہ تو جیتا جاگتا جہنم ہے۔ میں مٹ جاؤں گی لیکن اپنی معصوم بیٹی کو ان درندوں کے آگے نہیں پھینک سکتی! سردار صاحب میری بیٹی کو بخش دیں، مجھے لے چلیں!" لیکن افشین نے اپنی ماں کے ہاتھ تھامے اور انہیں اپنے چہرے سے لگایا۔ اس کے گال پر ایک موٹا سا آنسو ڈھلک کر گرا مگر اس کا لہجہ اب بھی پختہ تھا۔۔۔۔۔
"امی! آپ نے ساری زندگی ہمارے لیے دکھ سہے ہیں۔ آج میں آپ کی عزت پر کوئی داغ نہیں لگنے دوں گی۔ اگر رب کو میری یہی قربانی منظور ہے تو مجھے جانے دیں۔" فیصل خان نے مولوی صاحب کی طرف اشارہ کیا۔۔"مولوی صاحب! دیر کس بات کی؟ کاغذات تیار کریں اور اس لڑکی کا نکاح فوراً مجھ سے پڑھائیں۔ آج ہی یہ ہماری حویلی کے قدموں کی دھول بنے گی۔" مولوی صاحب نے لرزتے ہاتھوں سے رجسٹر نکالا۔ افشین نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور خود کو اپنی قسمت کے سپرد کر دیا۔ فیصل خان کی آنکھوں میں فتح اور ہوس کا ننگا ناچ جاری تھا جبکہ پورا گاؤں اس ناانصافی پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔
نکاح کے کلمات شروع ہونے ہی والے تھے کہ پنچایت کے ایک کونے میں خاموش کھڑا ایک قد آور اور سچی آنکھوں والا جوان آگے بڑھا۔ اس کے چہرے پر غصے کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں اور اس کے قدموں میں بلا کی پھنک تھی۔ وہ زوریز خان تھا۔ سردار فیصل خان کا چھوٹا بھائی، جس کی شرافت اور غیرت کی مثالیں پورے علاقے میں دی جاتی تھیں۔ زوریز نے مولوی کے ہاتھ سے رجسٹر کو ایک طرف کیا اور اس کی پُرعزم آواز پوری پنچایت میں گونج اٹھی۔
"ٹھہر جائیں! یہ نکاح نہیں ہو سکتا!" فیصل خان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے غرّایا۔۔۔"یہ کیا بدتمیزی ہے زوریز؟ تمہاری جرات کیسے ہوئی سردار کے فیصلے اور پنچایت کے بیچ میں بولنے کی؟ ہوش میں آؤ اور پیچھے ہٹو!" لیکن زوریز کی نظریں ایک لمحے کے لیے افشین کے لرزتے وجود اور بند آنکھوں پر پڑیں اور پھر وہ ایک عزم کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
زوریز کی آنکھوں میں سچائی اور غیرت کا ایسا طوفان تھا جس نے فیصل کے غرور کو للکارا تھا۔ زوریز نے پوری پنچایت کے سامنے بآوازِ بلند نڈر ہو کر اعلان کیا، "بھائی! آپ شادی شدہ ہیں، آپ اس لڑکی سے نکاح نہیں کریں گے۔ میں اس سے نکاح کروں گا!" زوریز کا یہ اعلان کسی دھماکے سے کم نہ تھا۔ پنچایت میں موجود ہر شخص کی سانسیں تھم گئیں۔ زہرہ نے حیرت اور امید سے بھری نظروں سے زوریز کی طرف دیکھا جبکہ افشین نے جھٹکے سے اپنی آنکھیں کھول دیں اور اپنے سامنے کھڑے اس باوقار اور نڈر جوان کو دیکھا جس نے اس کی بربادی کے راستے میں خود کو حائل کر دیا تھا۔ فیصل خان کی آنکھوں سے جیسے چنگاریاں نکلنے لگیں۔
Story From The Novel
Sardar Faisal Khan declares before the village panchayat that since Zakir has fled after being accused of murder, his family must pay the price. He orders Zakir’s elderly mother, Zahra Bibi, to be taken as vani to his haveli. Zahra desperately begs for mercy, insisting that her son is innocent and pleading that she should not be punished for his actions. Just as Faisal is about to finalize the decision, seventeen-year-old Afshin steps forward and boldly offers herself instead, saying she is ready to suffer the punishment to protect her mother’s honor.
Faisal accepts Afshin’s offer and orders the cleric to prepare the marriage documents so that he can marry her immediately. Zahra is devastated and begs her daughter not to sacrifice herself, calling Faisal’s haveli a living hell. Afshin, however, remains determined, telling her mother that she has sacrificed her whole life for her children and that she will now protect her mother’s dignity. She closes her eyes and prepares herself to accept her fate as Faisal watches with a sense of victory.
Just as the nikah is about to begin, Faisal’s younger brother, Zoreez Khan, steps forward and stops the ceremony. Known throughout the area for his honesty and sense of honor, Zoreez refuses to let his married brother marry Afshin. Standing fearlessly before the entire panchayat, he declares, “Brother, you are already married. You will not marry this girl. I will marry her.” His words leave everyone stunned. Zahra looks at him with newfound hope, while Afshin opens her eyes and sees the man who has suddenly placed himself between her and the fate that awaited her. Faisal, however, is furious, his eyes burning with rage at his brother’s defiance.
Download Novel By Clicking Download Button Below
DOWNLOAD