Mr Khan Ki Malika By Sharia Khan - Novelians Library



Sneak Peak From The Novel


یہ رہا آپ کے سین کا درست اور صاف ستھرا نسخہ — میں نے املا، جملے، اور مکالمے سب ٹھیک کر دیئے ہیں:

---

نیوز پیپر میں یاور خان اپنے لیے "ضرورتِ رشتہ" کا اشتہار دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا تھا۔

"کس کی حرکت ہے یہ تم تینوں میں سے؟"

"ملکہ کی!"

"جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو" کا ورد کرتے ہوئے وہ بھاگنے لگی۔

"پیدا ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور رشتہ کروانے والی ماسی بن گئی ہو؟"

"میں نے تو آپ کا بھلا کرنا چاہا۔ بوڑھے ہو رہے ہیں آپ۔"

"بہت شوق ہے تمہیں میری شادی کروانے کا؟ تو ٹھیک ہے، اب تم ہی سے کروں گا شادی۔"

"ایویں کریں گے۔ خود کو دیکھیں، پورے باڈی بلڈر ہیں، اور آٹھ سال بڑے ہیں مجھ سے، انکل۔"

"یہ تو اب تمہیں نکاح کے بعد بتاؤں گا۔"

یاور خان غصہ ضبط کرتا نیوز پیپر لیے آفس سے باہر آیا۔ گاڑی نکالی اور خود ڈرائیو کرتا گھر پہنچا۔ اندر کی جانب قدم بڑھائے، سامنے ہی وہ آفت نظر آ گئی۔

"جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو..." کا ورد کرتی وہ وہاں سے بھاگنے لگی، جبکہ پاس بیٹھے سمیر کی اس طرف پیٹھ تھی۔ وہ آنے والے یاور کو نہ دیکھ سکا۔

"ایک منٹ... رکو یہیں۔" سرد آواز میں کہتا وہ ملکہ کے دل کو دھڑکا گیا۔ ورد اور تیز ہو گیا۔ سمیر بھی پلٹتا ہوا فوراً کھڑا ہوا۔

"یہ سب کیا ہے؟"

صارم بھی فوراً یوں یاور کو غصے میں دیکھ کر باہر سے آتا وہیں ان کے پاس ٹھہر گیا۔ پتہ تو اسے بھی چل گیا تھا، لیکن وہ اس شرارت میں ان دونوں کے ساتھ شامل نہیں تھا۔

"کیا... ہوا ہے؟ کس بارے میں بات کر رہے ہیں؟" ملکہ نے بھولے پن سے پوچھا۔

"زیادہ اوور سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں، اور جو پوچھا ہے وہ بتاؤ۔" جارحانہ تیور دیکھتے ملکہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔

"ضرورتِ رشتہ! ایک ہینڈسم، پڑھے لکھے، رئیس زادے کے لیے ایک خوبصورت اور پڑھی لکھی دوشیزہ کا رشتہ درکار ہے۔"

اخبار میں یہ سب پڑھتے یاور کا اتنا دماغ نہیں گھوما جتنا نیچے دیے گئے نام، فون نمبر اور ایڈریس پر غصہ آیا تھا۔

یاور بیگ ارزم خان... جو ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ پورے آٹھ ہوٹلز کا مالک ہے۔ خواہش مند دوشیزائیں فوری رابطہ کریں

لب بھینچے وہ ان تینوں کو قطار میں سامنے کھڑا خشمناک نگاہوں سے دیکھے جا رہا تھا۔

"کس کی حرکت ہے یہ؟" سرد آواز، مانو ان تینوں کے کان میں جیسے کسی نے سیسہ پگھلا کر ڈال دیا ہو۔ تینوں خاموش رہے۔

"میں نے پوچھا کس نے کی یہ حرکت؟" اب کی بار آواز اونچی تھی۔ ڈر کے مارے سمیر کی انگلی ملکہ کی جانب اٹھی۔ ساتھ کھڑے صارم نے بھی سیدھی انگلی ملکہ کی طرف اٹھا دی۔ جبکہ ملکہ اپنی ہرنی جیسی آنکھیں چھوٹی کیے سامنے کھڑے یاور کو ماتھے پر تیوری ڈالے گھور رہی تھی، اس بات سے انجان کہ اس کے کرائم پارٹنرز اسے دھوکہ دے چکے تھے۔

"شرم نام کی کوئی چیز ہے تم تینوں میں یا نہیں؟" یاور کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو قتل کر دے۔

"بھئی... یہ سب ان دونوں کا سوچا ہوا مشترکہ پلان تھا، مجھے تو ابھی ابھی آپ کے سامنے آنے سے پہلے پتہ چلا۔" صارم نے صاف اپنا دامن بچایا۔

سمیر اور ملکہ نے گردن موڑ کے پہلے اسے دیکھا، اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کھا جانے کا ارادہ کیا، جبکہ دوسری نظر سامنے دھاڑتے شیر پر۔

"حد ہوتی ہے احمق پن کی! صبح سے کتنی کالز اٹینڈ کر چکا ہوں۔" یاور کی غصے بھری آواز پر وہ تینوں یکدم سیدھے ہو گئے۔

"یہ خبر ایڈیٹر تک کس نے پہنچائی؟" وہ شیر کی طرح غراتے ہوئے آگے بڑھا۔ ان تینوں کا سانس رکا۔

"یقیناً تم کام ہو گے؟" سمیر اپنے اوپر لگنے والے اس الزام پر دم بخود رہ گیا، جبکہ پاس کھڑی ملکہ نے کان کھجاتے فوراً دوسری طرف رخ موڑا۔

فلیش بیک

"دیکھو ایڈیٹر صاحب! اگر یہ خبر تمہارے نیوز پیپر میں چھپ گئی نا، تو سوچو کیا ہی فیمس ہو جائے گا تمہارا نیوز پیپر، وارے نیارے ہو جائیں گے تمہارے۔" ملکہ نے ایڈیٹر کو سبز باغ دکھاتے کہا۔

"لیکن اگر یہ خبر جھوٹی ہوئی تو؟ مسٹر خان مجھے قتل کر دیں گے!"

ملکہ نے مڑ کے سمیر کو گھور کے دیکھا، جو کھسیانی ہنسی ہنسا۔

"ارے ایسے تھوڑی نا قتل کریں گے؟ ہم ان کے گھر سے آئے ہیں، ان کی اجازت سے۔ دیکھیں! انہوں نے اپنا ایڈریس، فون نمبر سب دیا ہے۔ کیوں جھوٹ بولنے لگے بھلا؟ ہیں بولو سمیر؟" وہ شرارتوں کی نانی معصوم شکل بنا کے سمیر سے تائید مانگ رہی تھی۔ سمیر نے ہاں میں ہاں ملائی۔

"میں یہ چھاپ دیتا ہوں، انعام ملے گا نا؟" وہ ایڈیٹر لالچ میں آ گیا۔

"بالکل! بہت عزت و احترام کے ساتھ نوازا جائے گا انعام سے!" ملکہ نے خوش ہوتے ایڈیٹر کو مطمئن کیا۔

فلیش بیک ختم:

"کچھ پوچھا ہے، جواب دو؟" یاور خان کی غصیلی آواز ایک دم سمیر کے رونگٹے کھڑے کر گئی۔ تھوک نگلتا اب کی بار بھی انگلی اٹھاتا جھٹ سے اشارہ ملکہ کی طرف کیا۔ اسے اپنی جان بہت پیاری تھی۔

ملکہ کی تو صدمے سے مر جانے والی حالت ہو گئی تھی، اب توپوں کا رخ ملکہ کی طرف تھا۔

"تمہیں سکون نہیں ہے اپنی زندگی میں؟ پیدا ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور رشتے والی ماسی بن گئی ہو؟" یاور نے اچھا خاصا لتاڑ کے رکھ دیا تھا۔ ماسی کا نام سن کے تو ملکہ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔

"آپ کے بھلے کے لیے!" منہ بناتی وہ منمنائی۔

"میرا بھلا؟ تم ہوتی کون ہو میرا بھلا کرنے والی؟" یاور کا پارہ ہائی ہوا، تو صارم اور سمیر خاموشی سے وہاں سے واک آؤٹ کر گئے۔

"آپ مجھے یوں نہیں ڈانٹ سکتے... یاور ارزم خان!" وہ بھی اب بنا ڈرے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی، جب کہ آنکھوں کے چھوٹے چھوٹے موتی یاور کی زیرک نظروں سے چھپے نہ رہ سکے۔

"میں کیا کر سکتا ہوں تم سوچ بھی نہیں سکتی۔ بہت شوق ہے نا تمہیں میری شادی کروانے کا؟ تو ٹھیک ہے... اب میری شادی ہو گی، اور وہ بھی تم سے!" یاور کے منہ سے غصے میں جو آیا نکلتا چلا گیا۔

"کیا؟" ملکہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ "میں...؟ میں کیوں کرنے لگی آپ سے شادی؟ پتہ بھی ہے آپ کو... پورے... پورے آٹھ سال چھوٹی ہوں میں آپ سے!" انگلیوں پر گنوایا اور منہ بگاڑا۔

"یہ تو اب وقت بتائے گا۔ میرا جینا حرام کیا ہوا ہے تم نے!"

"جینا کیسے حرام کرتے ہیں کسی کا؟ یہ اب میں تمہیں بتاؤں گا۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔"

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غصے سے غراتے ہوئے وہ اسے صم بکم چھوڑ کر جا چکا تھا، اور وہ مٹھیاں بھینچتی وہیں منہ بناتی اگلا لائحہ عمل تیار کرنے لگی۔ ہار ماننا تو اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔

خان ولا میں اس وقت ہو کا عالم تھا۔ سبھی سو رہے تھے، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ سبھی ابھی کچی نیند میں ہی تھے۔ اس سب میں ایک بندی ایسی بھی تھی جو...


Story From The Novel


Yawar Khan became furious when he saw a "Rishta Required" advertisement for himself in the newspaper. "Whose act is this among you three?" he roared. Malka immediately tried to run away chanting "Jal Tu Jalal Tu, Aayi Bala Ko Taal Tu." He shouted, "You were born just eight days ago and you have become a matchmaker? " She replied innocently, "I just wanted to do good for you, you are getting old." Angered, he said, "You are so eager to get me married? Fine, then I will marry you."


Holding the newspaper, Yawar drove home from his office in anger. Inside Khan Villa, he found Malka, Sameer, and Sarim. He held up the newspaper which read: "Rishta required for a handsome, educated rich man Yawar Baig Arzam Khan, owner of eight hotels. Interested girls contact immediately." With his phone number and address printed below. Yawar glared at them and asked again whose plan it was. Out of fear, Sameer and Sarim both pointed their fingers at Malka. Malka was shocked to see her own crime partners betray her. In a flashback, it was shown how Malka had tricked the newspaper editor by promising him fame and a reward.

Yawar scolded all three badly, especially Malka, calling her a "Rishta Aunty." He said, "How many calls have I attended since morning because of this nonsense?" Malka, with tears in her eyes, finally looked him in the eye and said, "You cannot scold me like this, Yawar Arzam Khan!" That broke his control. He came close, looked into her eyes and threatened, "You have no idea what I can do. You love getting me married? So be it, now I will get married, and that too with YOU." Malka was left stunned, counting on her fingers, "I am eight years younger than you, Uncle!" He replied, "Now time will tell. Just wait and watch how I make your life hell," and left her standing there clenching her fists, already planning her next move.


Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD


Post a Comment

Previous Post Next Post