Junoon Humnawa By Ayesha Majeed Novels





Sneak Peak From The Novel


 وہ بن ماں باپ کی بچی تھی گھر میں اپنے دادا کی لاڈلی تھی اسکے چچا چچی تایا ان کے بچے سب اسے ناپسند کرتے تھے۔ وہ دل ہی دل میں اسفند جو اسکا کزن تھا اس سے بے انتہا محبت کرتی تھی اسکی پسند سے پورا گھر واقف تھا۔۔ مگر اسفند کو وہ اپنے لائف پارٹنر کے طور پر سخت ناپسند تھی اسکے کزنس اسے دھمکی دیکر اسفند کے پاس بھیجتے ہیں کے انکا لایا گفٹ اسفند کو دے جسے دیکھ کر اسفند اسے گفٹ کھولنے کا کہتا ہے اور جو ہوتا ہے۔۔۔"اگر آپ واقعی مرد ہیں تو مجھے ابھی طلاق دیں " وہ سب کے سامنے غرائی تھی جبکہ اسفند کی آنکھیں غصے سے سرخ پڑنے لگی تھی۔ چھ سال پہلے اس کا اپنے سے کئی سال چھوٹی مہرو سے نکاح ہوا تھا۔ وہ جو اس سے نفرت کرتا تھا جب محبت کرنے لگا تھا اسے اندازہ نہیں ہوا تھا لیکن شادی کے دو سال بعد ہی اسفند کو اپنی ماں سے معلوم ہوا مہر و بانجھ ہے۔ بابا سائیں کے مستقل زور دینے پر شادی کے چھ سال بعد اس نے مجبورا اپنے باپ کے دوست کی بیٹی سے اولاد کے لیے نکاح کیا تھا گھر آنے پر مہرو کا طلاق کا مطالبہ سن اس کے منہ پر تھپڑ مارا تھا اس بات سے بے خبر کے وہ دو دن سے اس کے گھر لوٹنے کی منتظر تھی تاکہ اسے اپنے حاملہ ہونے کی خوشخبری دے سکے۔۔ "آپ ترس جائیں گے سائیں مجھے اور اپنی اولاد کو دیکھنے کے لیے " آدھی رات اپنا ضروری سامان لے کر وہ حویلی سے بہت دور۔۔۔


"اسفند بھائی! یہ آپ کے لیے ہے۔۔" وہ دونوں ہاتھوں میں ایک گفٹ باکس پکڑے کھڑی تھی وہ جو کورٹ کے لیے نکل رہا تھا اسے دیکھ کر۔۔ آنکھوں میں اچھنبا اترا۔ وہ گھبرائی ہوئی سی لگتی تھی۔"کیوں؟ میرے لیے ایسا کیا خاص ہو گیا ہے کہ تحفہ لائی ہو؟" اس نے سرسری نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی کل ہی عائشہ بیگم نے اسے مہر النساء کے متعلق سوال کیا تھا اور اس نے ٹال دیا تھا۔ کیا وہ اس سلسلے سے واقف تھی؟"بس ایسے ہی۔۔ یہ لے لیں۔۔" وہ سمجھ نہ پا رہی تھی کہ اور کیا ہے وہ نظریں تک نہ ملا پا رہی تھی۔ اور اسفند نے تو جیسے یہیں کٹہرہ لگا لیا تھا۔ "وجہ بتاؤ تحفے کی؟" "بس ایسے ہی آپ لے لیں پلیز۔۔" 


"کھولو اسے۔۔" "اس کے حکم پر اس کا چہرہ سفید پڑا اس نے تیزی سے نفی میں گردن ہلائی۔۔ "پلیز آپ لے لیں اور خود دیکھ لیں۔۔" وہ کہہ کر تحفہ قریبی میز پر رکھ کر جانے لگی جب اسفند کی کرخت آواز پر اسے رکنا پڑا۔ "واپس آؤ۔۔ اور یہ تحفہ کھولو۔۔" "سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس وقت مہر النساء کو موت کا فرشتہ لگا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ ڈبہ اٹھایا۔ ڈرتے ڈرتے اسفند کو دیکھا۔ پیکر ڈبے کو دیکھنے لگی جس پر ربن چڑھی ہوئی تھی۔ اس نے پھر گھبرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا وہ ہنوز سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔


مہر و نے جیسے ہی کانپتے ڈبا کھولا ایک مینڈک کا بچہ اچھل کر باہر نکلا۔ مہر و چیختی ہوئی اس کی طرف لپکی تھی اور اس کے بازو کو سختی سے جکڑتی اس کے پیچھے چھپی وہ "اللہ مجھے بچائیں۔۔" کا نعرہ لگا رہی تھی۔ مینڈک وہی اچھل کر راہداری سے بھاگا تو وہ یہ دم چپ ہوئی اور خود ہی اس کا بازو چھوڑتی سامنے آئی۔ اسفند ایک ابرو اٹھائے اسے چھبتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔"کس جماعت میں ہو تم؟" "ج۔۔جی؟" وہ گڑبڑائی اس کی جماعت کا یہاں کیا ذکر؟ "میں نے پوچھا کس جماعت میں ہو تم؟!" وہ اسے گھور کر پوچھ رہا تھا۔ "انٹر میں ہوں۔۔" "اور یہ حرکت کس کے کہنے پر کی؟" سوال تھا یا دھماکہ خیز مواد بڑے بڑے ستونوں کے پیچھے چھپے دبی دبی ہنسی ہنستے اس کے کرنز کو سانپ سونگھ گیا تھا۔


 "مجھے ڈیئر ملا تھا اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ اس میں کیا ہے۔۔" وہ بے چارگی سے بولی اور اسفند نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کی معصومیت کے ناٹک کو سمجھ نہ رہا ہو۔ "تو پھر اسے کھولتے ہوئے تمہارے ہاتھ کیوں کانپ رہے تھے؟" وہ جھڑک کر بولا تو وہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹی۔ "یہ عمر ہے تمہاری ایسے بچکانہ کھیل کھیلنے کی اور کون کون تھا ساتھ! یہ جو پلرز کے پیچھے چوہوں کی طرح سب چھپے ہوئے ہیں باہر نکل کر آئیں۔۔" اس کی بلند آواز پر پہلے تو کوئی نہیں نکلا۔ "ایک، دو۔۔" "اس کے گنتے سب ایک ایک کر کے باہر نکلتے گئے۔ وہ ان سب کو سخت نگاہوں سے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔


 "اتنا دماغ پڑھائی پر لگا لیا ہوتا تو تم لوگ جانے کہاں ہوتے۔۔ کھیل تماشوں سے بڑھ کر بھی زندگی میں اور بہت کچھ کرنا ہوتا ہے۔۔" "بس یہی سمجھانے کے لیے تو ہم نے یہ پلان کیا تھا اسفند بھائی۔۔ دراصل مہر النساء کو آپ پر کرش ہے۔۔" یہ سنتے مہر کا چہرہ جہاں سرخ پڑا تھا وہیں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگیں۔ "یہ سارا وقت آپ کی تصویریں دیکھتی ہے اس کی کالج بکس میں بھی آپ کی تصویریں ہیں۔۔ دھیان پڑھائی پر ہے ہی نہیں اس کا۔۔۔"مہر النساء نے سختی سے آنکھیں میچ کر شاہ زین کو دل ہی دل میں بری طرح کوسا اس کے کان سے دھواں نکلنے لگا تھا۔ 


"اتنے وقت سے ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہم اسے کیسے سمجھائیں۔۔ تو پھر ہم نے سوچا کیوں نہ اسے ایک۔۔" "بس! فضول باتیں کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ آج کے بعد میں کسی کو ایسی بے وقوفیاں کرتے نہ دیکھوں یہاں سے اب۔۔" وہ سب کو تنبیہہ کرتا شاہ زین کی پوری بات سنے بغیر وہاں سے جانے لگا۔۔ جاتے جاتے اس نے مہر النساء پر نگاہ ڈالی جو آنسوؤں سے بھری آنکھیں لیے تیزی سے وہاں سے جانے لگی تھی۔ وہ بھی گہری سانس لیتا وہاں سے چل دیا۔ لیکن شاہ زین کی باتیں اس کے ذہن میں رہ گئی تھیں۔ وہ چاہ کر بھی انہیں جھٹلا نہ سکا کیوں کہ وہ اس کی دلچسپی سے واقف تھا۔ اس نے کئی دفعہ خود پر مہر النساء کی نظریں محسوس کی تھیں وہ اکثر اس کی نگاہوں اور توجہ پانے کی کوشش کرتی تھی مگر وہ اس کی کم عمری اور کم عقلی سمجھتا کبھی دھیان نہیں دیتا تھا۔۔۔۔۔۔


 کیوں کہ وہ اس سے بارہ سال چھوٹی تھی۔ وہ اٹھارہ کی تھی اور اسفند تیس کا۔ "انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں نے یہ گفٹ نہیں نہیں دیا تو وہ جا کر اسفند بھائی کو بتا دیں گے اور جب وہ میں نے دے دیا تب بھی جا کر انہوں نے بتا دیا سب کچھ بتا دیا آئی۔۔" وہ بری طرح رو رہی تھی۔ سامنے ہی سفینہ بیٹھی اپنی چھوٹی بہن کو روتے دیکھ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اس کی بہن اسفند کو پسند کرتی تھی عمر کے فرق کو ہٹا کر دیکھا جائے تو غلطی مہر کی بھی نہ تھی۔ اسفند کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ جو دیکھے ٹھٹک کر رہ جائے۔ کامیاب وکیل ہونے کے ساتھ وہ نہ صرف بارعب اور ذہین تھا بلکہ گھر میں بھی اس کی حیثیت کافی اہم تھی۔



"اب وہ میرے بارے میں پتا نہیں کیا سوچیں گے۔۔ مجھے اتنا برا لگ رہا ہے۔۔ میں ان کا سامنا کیسے کروں گی اب۔۔" وہ ہچکیوں میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ "تم نے پچھلے دو گھنٹے سے رو رو کر اپنا ستیاناس کر ڈالا ہے مہر۔۔ اب بس کرو میری جان۔۔" "سفینہ نہ صرف مہر کی بہن بلکہ اسفند کے بڑے بھائی تیمور کی بیوی بھی تھی۔ "شاید میری امی نہیں۔۔ اس لیے وہ لوگ مجھے ایسے ٹریٹ کرتے ہیں۔۔" سفینہ کا دل ایک دم دکھا۔


"تم سے جلتے ہیں تم دادا کی لاڈلی ہو۔۔ دادی کی لاڈلی ہو۔۔ اور اوپر سے اتنی خوبصورت ہو۔۔ ماشاءاللہ! تم سا حسین تو پورے گھر میں کوئی نہیں۔۔ اوپر سے پڑھائی میں بھی۔۔" "انھوں نے اسفند بھائی سے یہ بھی کہا کہ میں پڑھائی میں دھیان ہی نہیں دیتی۔۔" "دفع کرو نا انھیں۔۔ تم میری پیاری سی بہن ہو۔۔ اسفند کوئی چھوٹا بچہ نہیں کہ ان کی باتوں میں آئے گا۔۔ سمجھی تم! اب رونا بند کرو اور جا کر کمرے میں آرام کرو۔۔" وہ اسے دلاسہ دیتی بولی تو وہ گہری سانس بھرتے اس کی بات پر سر ہلاتی وہاں سے اٹھ کر باہر کی طرف آئی۔۔۔۔۔


 وہ سوجی آنکھیں سرخ چہرہ لیے راہداری سے گزر رہی تھی جب سامنے سے اسفند آتا دکھائی دیا۔ اس کی نگاہ اچانک اس پر پڑی اس نے تیزی سے سر جھکایا تھا۔ "ایک منٹ! رو رہی تھی تم؟" اس نے سنجیدگی سے پوچھا تو اس نے تیزی سے نفی میں گردن ہلائی۔۔۔۔۔"لک ایٹ می۔" اس کے حکم پر اس نے چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا سوجی آنکھیں سرخ ناک سرخ چہرہ۔ صاف رنگت پر یہ تیکھے نقوش اوپر سے معصومیت بھرا چہرہ۔۔۔۔۔"وہ سب جھوٹ بول۔۔" وہ کہتے جملہ ادھورا چھوڑ گئی۔۔۔۔۔


 "کیا جھوٹ تھا اس میں؟" وہ آنکھیں سکیڑے پوچھ رہا تھا۔ "کہ میں پڑھائی میں دھیان نہیں دیتی۔۔۔" اس نے کہا تو اسفند نے لب بھینچ لیا وہ سوچ رہا تھا کہ وہ اس کے حوالے سے اپنی پسند اور دلچسپی سے انحراف کرے گی۔۔۔ "اور دوسری بات؟" اس نے ایک ابرو اچکاتے سوال کیا۔ "دوسری کون سی؟" وہ ایک دم گڑبڑا گئی آنکھیں پھر آنسوؤں سے بھرنے لگیں "اسٹاپ کرائنگ..." اسفند نے اسے گھورا۔ اسے کوفت ہوتی تھی اس روندو لڑکی کے آئے دن بہتے آنسوؤں سے۔۔۔۔


 وہ تقریبا ہر بات پر روتی تھی۔ اسے وہ کبھی کبھی اٹینشن سیکر لگتی تھی۔ "اوکے۔" وہ منمنائی۔ "تمہارے آنسو بہنے کے لیے کیوں ہر وقت تیار رہتے ہیں؟ اب تم بچی نہیں رہی۔۔ اٹھارہ سال عمر ہو چکی ہے تمہاری۔۔ اور تم اب بھی آئے دن نیا مسئلہ لیے کبھی دادی کے پاس تو کبھی اپنی بہن کے پاس! اپنے مسئلے خود حل کرنا سیکھو اور بے وقوفیاں چھوڑ دو۔۔"وہ اسے سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا وہ سر جھکائے سنتی رہی "سمجھ گئیں؟" اس نے آخر میں استفسار کیا تو وہ اثبات میں گردن ہلانے لگی۔


 "وہ سب جھوٹ بول رہے تھے میں نے تو ہر سبجیکٹ میں اس دفعہ ٹاپ ہی کیا ہے۔۔" وہ پھر دھیمے انداز میں کہہ رہی تھی اسفند نے اس کی بات پر سر جھٹکا۔ "اوکے اوکے۔ سمجھ گیا تم اس گھر کی آئین اسٹائن ہو۔۔" اس کی بات پر وہ خفیف سی ہو کر اسے دیکھنے لگی۔ "جاؤ!" اسے جانے کا اشارہ کرتے وہ ایک پل کو وہیں رکا۔ وہ جانے لگی۔ پشت پر بکھرے بال کمر سے نیچے تک جا رہے تھے۔ اسفند گہری سانس لیتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ "ہمارے پیچھے کچھ بھی ایک جیسا نہیں ہے وہ بے وقوف کم عمر بات بات پر رونے والی لڑکی اور کہاں میں۔۔ "اس نے سوچتے ہوئے دادا سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔


 کہ وہ اس سے نکاح نہیں کرے گا۔ ابھی کمرے میں قدم رکھے اسے کچھ دیر ہی گزری تھی جب کامل درانی اندر آئے۔ اس سے حال احوال پوچھا۔ مگر وہ جانتا تھا کہ وہ صرف حال احوال پوچھنے ہی نہیں آئے تھے۔"مجھے مہر کی بڑی ٹینشن رہتی ہے اسفند۔۔ بن ماں باپ کی بچی ہے۔۔ ""جانتے ہیں دادا یہ بن ماں باپ کی بچی کر کر کے آپ نے اسے ایک دبو، روندو اور بہت کم اعتماد لڑکی بنا دیا ہے۔۔ میری شخصیت سے میل ہی نہیں کھاتی۔۔ "وہ بے دلی سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔"ایسے نہ کہو۔ وہ بہت مضبوط اور نڈر ہے بس اس نڈر پن کا اسے خود احساس نہیں۔ بہت پیارا دل ہے اس کا۔ صاف اور شفاف! ہر کھوٹ سے پاک۔۔ اور تمہیں وہ پسند بھی بہت کرتی ہے۔۔ "


 "بچے اس عمر میں متاثر ہو جاتے ہیں اب کیا میں اس بات پر اسے دلہن بنا لوں۔۔ "وہ تنگ آ کر بولا۔ "تم مجھے اتنے ہی عزیز ہو جتنی وہ۔۔ اور میں اس کو لے کر صرف تم پر بھروسہ کرتا ہوں۔۔ مجھے اسے باہر کسی کو دینے میں بالکل بھی دل نہیں کرتا۔۔ تمہاری زوجیت میں رہے گی تو میری بوڑھی ہڈیاں قبر میں بھی سکون سے پڑی رہیں گی۔۔ ""ایسی باتیں تو نہ کریں دادا۔۔ "وہ زچ ہوتا ان کے سامنے آ بیٹھا۔ "مہر میرے باغیچے کا سب سے لاڈلہ پھول ہے اسفند! میں اسے کسی اور باغ میں کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتا۔۔" ""میں سوچوں گا دادا! تم کہہ رہے تھے ناں کہ تمہیں پی ایچ ڈی کے لیے لندن جانا ہے تم وہاں بھی چلے جانا۔۔" وہ اسے آفر کر رہے تھے۔ "وہ میں خود بھی جا سکتا ہوں دادا۔۔" اس نے جیسے آنکھیں باور کروایا ہو کہ وہ ان کا محتاج نہیں۔۔۔۔


"تم میرے پاس آیا کرتے تھے اپنی فرمائشیں لے کر اب خود پوری کر سکتے ہو تو میری خواہشیں اور پیشکش رد کر رہے ہو۔۔" "ایسی بات نہیں ہے دادا۔ ایموشنل بلیک میل نہ کریں۔۔ ٹھیک ہے میں سوچ کر جواب۔۔" ""نہیں آج میں جواب لے کر جاؤں گا تم کتنے ہفتوں سے جواب نہیں دے رہے۔۔" وہ بولے تو اسفند ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا۔ "دادا! وہ مجھے پسند۔۔" ""ارے کیا کمی ہے۔۔" "کمی نہیں ہے کوئی۔۔ مگر اس لحاظ سے میں نے کبھی نہیں دیکھا اسے۔۔" وہ پھر بہانہ گڑ چکا تھا "ایک دفعہ نکاح میں آئے گی تو لحاظ اور احساس بدل جائیں گے اسفند۔۔" انھوں نے اس بہانے کو بھی خاطر میں نہ لیا "میں امی بابا۔۔" ""ان سے میں نے بات کر لی ہے۔۔" اسفند کئی پل کشمکش میں گھرا دادا کو دیکھتا رہا۔دادا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے بوڑھی آنکھوں میں امید اور حسرت تھی۔ "ٹھیک ہے دادا!" وہ بھی بولا ہی تھا کہ انھوں نے اٹھ کر اسے گلے لگا لیا اور ڈھیروں ڈھیر چوم لیا۔ اسفند ان کی خوشی پر خود بھی ہنس دیا۔ اور اگلے دن ہی یہ خبر گھر بھر میں پھیل چکی تھی۔ سب سے پہلا جھٹکا اسفند کی ماں راشدہ کو لگا تھا۔

"How can you do that ? you said yes to her ? "


Story From The Novel


Mehr-un-Nisa is an orphan who is deeply loved by her grandfather but disliked by most of her extended family. She secretly loves her cousin Asfand, a twelve-year-older, successful and authoritative lawyer, and everyone knows about her feelings. Asfand, however, sees her as an immature eighteen-year-old who is too emotional and childish for him. One day, her cousins trick her into taking a gift to Asfand and threaten to expose her crush if she refuses. The gift contains a frog, which terrifies Mehr and makes her cling to Asfand in fear. Her cousins then reveal her feelings in front of him, leaving her humiliated and heartbroken.

Later, Mehr cries to her sister Safeena, worried about what Asfand must think of her. Safeena comforts her and reminds her that she is intelligent, beautiful, and has topped all her subjects despite what the cousins claimed. When Asfand encounters Mehr with swollen, tearful eyes, he tells her to stop crying and learn to handle her own problems. Although he considers her immature, he cannot deny that he has noticed her frequent attempts to gain his attention. Asfand eventually speaks to his grandfather, Kamal Durrani, and explains that Mehr is too young and emotionally different from him, insisting that he has never viewed her as a potential wife.

Kamal refuses to accept Asfand’s objections and tells him that Mehr is his most precious responsibility. He does not want to send her to another family and believes she would be safest and happiest as Asfand’s wife. After emotionally persuading him, Kamal finally gets Asfand to agree to the marriage. Asfand reluctantly says yes, and his grandfather is overjoyed, embracing and kissing him. The news spreads through the household the very next day, but Asfand’s mother, Rashida Begum, is shocked and angry when she learns that her son has agreed to marry Mehr.


Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD







Post a Comment

Previous Post Next Post