" پلیز یار، چپ ہو جاؤ نا! کیوں اپنی چھوٹی سی، معصوم سی مما کو تنگ کر رہے ہو؟ خدا کے لیے، عدن کے بچے، بس کر دو اب۔۔۔" وہ آٹھ ماہ کے ننھے عدن کو چپ کروانے کی تگ و دو میں بری طرح ہلکان ہو رہی تھی۔ دوسری طرف عدن میاں پورے زور سے منہ کھولے رونے کا شغل فرما رہے تھے۔ وہ بار بار اس کے بازوؤں سے پھسلتا اور مچل کر اس کے سینے سے لگ جاتا۔ وہ نازک اور نادان لڑکی اس صورتحال سے گھبرانے کے ساتھ ساتھ اب زچ بھی ہو رہی تھی۔ عدن کو سنبھالتے سنبھالتے خود اس کی اپنی حالت غیر ہو چکی تھی۔۔۔
" عدن میری جان! پلیز مما کی جان، چپ ہو جاؤ نا۔۔۔ کیوں یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہو کہ تم اس مہا ڈھیٹ زاویان انصاری کی اولاد ہو؟ کچھ تو مجھ پر چلے جاتے!" اس نے جھنجھلا کر کہا، مگر عدن نے اس کی بات کا اثر لینے کے بجائے دوبارہ اپنا سر اس کے سینے پر رگڑنا شروع کر دیا اور اس کے رونے کی شدت میں مزید اضافہ ہو گیا۔" یا اللہ، میں کیا کروں؟ کیسے چپ کرواؤں اسے؟ سمجھ نہیں آ رہا کہ اب اسے کیا کا چاہیے!" ماہم نے بےبسی سے دانت پیسے، جبکہ عدن کا رونا تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ وہ بالکل حواس باختہ ہو چکی تھی۔ آخر وہ خود بھی تو ابھی ایک بچی ہی تھی۔۔۔۔
محض سترہ سال کی کم سن لڑکی۔ اور اتنے چھوٹے بچے کو اکیلے سنبھالنا واقعی اس کے بس کا روگ نہیں تھا۔ وہ نادان اس بات کو سمجھنے سے بالکل قاصر کہ وہ ننھی سی جان ماں کے دودھ کے لیے مچل رہی تھی، اسے شدید بھوک لگی تھی۔ عدن نے ایک بار پھر روتے ہوئے اپنا چہرہ اس کے سینے کی سمت موڑنا چاہا، تو ماہم نے گھبرا کر زبردستی اپنے کندھے سے لگا لیا اور بے ترتیبی سے اس کی پشت تھپکنے لگی۔ ٹھیک اسی پل، کمرے کے چوپٹ پر کھلے دروازے میں کھڑا زاویان یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔
اور آنکھوں میں سلگتا غصہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ اس لڑکی کی ناتجربہ کاری اور بے وقوفی پر کس قدر طیش میں ہے۔ " مجھ پر ریسرچ کرنے سے کہیں بہتر تھا کہ تم یہ جاننے کی کوشش کرتیں کہ بچہ بھوک سے بلک رہا ہے! زاویان کی پاٹ دار! اور سرد آواز کمرے میں گونجی۔ وہ چند قدم آگے بڑھا اور زہریلے لہجے میں بولا، "بہت شوق تھا نا تمہیں اس کی ماں بننے کا؟ اتنی سی عقل بھی نہیں ہے تم میں کہ بچہ بھوک کی وجہ سے رو رہا ہے؟ وہ ماں کے دودھ کی طلب میں تمہارے سینے سے لپٹ رہا تھا اور تم۔۔۔" بات ادھوری چھوڑ کر، زاویان نے سخت غصے میں تلملاتے ہوئے عدن کو جھٹکے سے اس کے بازوؤں سے اپنی پناہ میں لے لیا۔۔۔
زاویان کے مضبوط ہاتھوں کے لمس نے جیسے مچلتے ہوئے عدن کو پل بھر میں کچھ سکون دیا تھا، اس کا بلکنا اور رونا آہستہ آہستہ سسکیوں میں بدلنے لگا۔ دوسری طرف ماہم کے خالی ہو جانے والے بازو ہوا میں معلق خوف اور بے بسی سے بری طرح کانپ رہے تھے۔ زاویان کا غصہ اس کے اعصاب پر سوار ہو چکا تھا۔ " کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو ، اب؟" زاویان نے عدن کو اپنے چوڑے سینے سے لگاتے ہوئے، سرخ ہوتی آنکھوں سے ماہم کو گھورا۔ اس کا لہجہ تپتی آنچ کی طرح سلگتا اور کاٹ دار تھا۔۔۔۔
ماہم نے سہم کر کچھ کہنا چایا مگر زاویان نے اسے بولنے کا موقع ہی نہ دیا اور چنگھاڑ اٹھا " بہت شوق تھا نا تمہیں اس کی ماں بننے کا؟ سب کے سامنے تو بڑے دعوے کیے تھے تم نے کہ تم اس کا خیال رکھو گی! اب کیا ہوا؟ شیر خوار بچے کی بھوک تک کا اندازہ نہیں لگا سکتیں تم؟ اتنی سی عقل، اتنی سی سمجھ نہیں ہے تم میں کہ بچہ سینے سے کیوں لپٹ رہا ہے؟۔۔۔۔۔" اس کی کڑک دار آواز کمرے کے در و دیوار سے ٹکرائی تو ماہم کا دل دہل گیا۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر بہہ نکلے۔ "اگر ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں تھیں تو کیوں میری زندگی کا عذاب بنیں تم؟" زاویان نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا۔۔۔۔۔
اس کے چہرے کی رگیں تن گئی تھیں۔ " آئندہ اگر میرا بچہ تمہاری اس نادانی اور بے وقوفی کی وجہ سے ایک پل کے لیے بھی رویا، تو یاد رکھنا ماہم۔۔۔ میں تم سے ماں کہلانے کا یہ حق بھی چھین لوں گا! جاؤ یہاں سے اور فوراً اس کا فیڈر تیار کر کے لاؤ! "ماہم نے لرزتی ہوئی نظروں سے زاویان کے پتھریلے چہرے کو دیکھا، جہاں رحم کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ وہ اپنے دوپٹے کے پلو سے سسکیاں روکتی ہوئی، لرزتے قدموں سے کچن کی طرف بھاگی یچھے کمرے میں، زاویان اب نرمی سے عدن کی پشت تھپک رہا تھا، مگر اس کی سلگتی ہوئی نظریں اب بھی اسی دروازے پر ٹکی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں وہ عدن کے لیے فیڈر بنا کر لے آئی تھی۔وہ باپ کے کندھے سے لگا بے حد پر سکون تھا۔
Story From The Novel
Zavyan finds his young wife trying to breastfeed his baby and is shocked by what he sees. He teasingly questions whether she even knows how breastfeeding works, while she innocently admits that she has no idea because this is her first marriage. His comments about her appearance and age make her extremely uncomfortable.
Zavyan becomes suspicious that she has been hiding the truth about her age from him. When he tells her to come closer so he can “check” her, she becomes frightened and tries to escape. However, Zavyan catches her and stops her from leaving, turning the situation into a tense confrontation.
His anger grows as he compares her to the woman who abandoned his helpless, breastfeeding child. He warns her that if she continues refusing him as her husband, he will believe she is just like the woman who left the baby behind. The scene leaves their relationship filled with suspicion, misunderstanding, and emotional tension.
Download Novel By Clicking Download Button Below
