Sazish E Ishq By HF Novels - Novelians Library




Sneak Peak From The Novel


" تم لوگوں کو جو لے جانا ہے لے جاؤ۔۔" وہ باپ روتے ہوئے پھولوں کے زیور میں تیار اپنی بیٹی کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوا تھا۔۔ کل اس معصوم لڑکی کی بارات تھی اور آج رات ان کے گھر ڈکیتی پڑی تھی۔ ڈکیتی مارنے والے کوئی اور نہیں امیر لڑکوں کا بگڑا ہوا گروپ تھا جس میں حسان وجدان بھی شامل تھا مشہور سیاست دان کا اکلوتا بیٹا۔ چہرے پر نقاب باندھے وہ گہرا مسکرایا تھا نظر اس معصوم لڑکی کے اپنے چہرے پر تھی جو باپ کے پیچھے کھڑی کانپ رہی تھی۔ حسان نے اپنے دوستوں کو چلنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ لوگ تو جاچکے تھے پر جہیز کی رقم چوری ہونے پر لڑکے والوں نے یہ کہتے بارات لانے سے انکار کر دیا تھا کہ گزشتہ رات جہیز کے ساتھ لڑکی کی عزت بھی لٹ چکی ہے۔۔ " اوئے حسان۔۔۔اس لڑکی کی بارات نہیں آئی۔۔ باپ نے اپنی جان لے لی۔۔"حسان وجد ان یہ کیا کیا تم نے؟ اس لڑکی کی زندگی برباد کر دی؟؟؟؟ کیا تم اس کا ازالہ کر پاؤ گے؟؟ کیا تم اس کا سامنا کر پاؤ گے؟"حسان نے اپنے ضمیر کے سوالوں پر بے بسی سے سر پکڑ لیا تھا۔


 "بھائی تیری والی کا نکاح ہو رہا ہے وہ بھی اس نکمے سے" رضوان نے آکر خبر دی، حسان ہکا بکا رہ گیا۔ " اس کے گھر والے؟"۔ وہ سوالیہ بولا ۔ " گھر والے ہی کروا رہے ہیں اس کے دونوں بھائیوں نے مل کر رشتہ کروایا ہے اور ماں بےچاری کی کون سنتا ہے حوریہ نے خود ہاں کر دی ہے" "وہ پاگل ہے کیا دماغ خراب ہے اس کا "۔ وہ غصے سے بولا ۔ "ہاں تو مجھ پر کیوں چلا رہا ہے جاکر اسی سے بول نا"۔ رضوان مصنوعی اندر میں سہم کر بولا تھا۔۔۔۔


"ابے کہاں جا رہا ہے؟" حسان غصے سے باہر نکل گیا تو رضوان نے پیچھے سے آواز دی مگر وہ بے حد طیش میں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسٹارٹ کر رہا تھا تو رضوان بھی بیٹھ گیا۔ " اس کے گھر جا رہا ہے؟"۔ میں اسے یہ سب نہیں کرنے دوں گا"۔ "اچھا! اور یہ تو کس حق سےاسے یہ سب 

بولے گا؟"۔ رضوان نے بھی اسی کی طرح چیختے ہوئے جواب دیا۔ " تو میں اسے اس کی زندگی برباد کرنے دوں ؟" حسان نے تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے کہا تو رضوان نے خود کی سکیورٹی کے لیے سیٹ بیلٹ باندھ لیا اور سائڈ ہینڈل کو مضبوطی سے پکڑا۔۔۔۔


 "اسے بچانے کے لیے پہلے خود کی حفاظت کرنی ہوگی بھائی؟"۔ رضوان نے اس کی ہارش ڈرائیو دیکھ کر کہا مگر حسان وجدان بہت غصے میں تھا وہ عہد کر چکا تھا کہ آج یا تو حوریہ کی زندگی بدلے گی یاحسان وجدان نہیں رہے گا۔ حوریہ کے لیے زندگی مشکل سے مشکل ترین ہوتی جارہی تھی اپنی ماں کی خاطر اس نے نادر سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر وہ بے بسی کی انتہا پر تھی اسے کوئی اور رستہ نہیں دکھائی دے رہا تھا پھر بھی خاموش تھی۔۔۔۔


حوریہ کے لیے زندگی مشکل سے مشکل ترین ہوتی جارہی تھی اپنی ماں کی خاطر اس نے نادر سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر وہ بے بسی کی انتہا پر تھی اسے کوئی اور رستہ نہیں دکھائی دے رہا تھا پھر بھی خاموش تھی۔ "حوریہ ذیشان آپ کا نکاح نادر صغیر ولد صغیر کمال به عوض حق مہر سکہ رائج الوقت شرعی حق مہر کے ساتھ آپ کو قبول ہے ؟"" رک جائیں مولوی صاحب " مولوی صاحب کے سوال پر حوریہ سے پہلے حسان نے آکر کہا تو سب حیران ہو گئے۔


 "کون ہو تم ؟"۔ ظفر نے کھڑے ہو کر حیرت سے کہا۔ " بتاتے ہیں اطمینان سے بیٹھو "۔ حسان نے لہجے کو دھیما رکھنے کی کوشش کی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر واپس صوفے پر بٹھایا تو ظفر نے حسان کا ہاتھ جھٹک دیا۔ رضوان اور فرید نے نادر کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر صوفے سے اٹھایا۔ " چھوڑو مجھے تم لوگ اس طرح زبردستی نہیں کر سکتے"۔ نادر نے چیختے ہوئے کہا مگر فرید نے اسے گن دکھا کر ڈرایا تھا۔ وہ ساکت رہ گیا۔ " آپ! آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟"۔ " میں جانتا ہوں تم اسے غلط سمجھو گی مگر اب یہی صحیح ہے" حوریہ نے تشویش سے کہا مگر حسان وجدان اس کے قریب بیٹھ کر بولا تھا وہ کچھ بولنے ہی والی تھی مگر ثریا بیگم نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔


"امی جان "۔ حوریہ نے بے بسی سے کہا مگر انہوں نے آنکھیں جھاکتے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تو حوریہ تذبذب کا شکار ہو گئی مگر رضامندی اس کی مجبوری تھی کوئی اور چارہ بھی نہ تھا۔ " حوریہ کا نکاح نادر صغیر سے نہیں ہوگا بلکہ حسان وجدان سے ہوگا چلیں شروع کریں "۔ فرید نے مولوی صاحب کو مسکراتے ہوئے ایک نیا نکاح نامہ دکھایا جو حسان نے خود بنوایا تھا۔ "مولوی صاحب ان سب کو دیکھ کر خوف زدہ تھے اس لیے نکاح پڑھنا شروع کیا۔ ظفر اور انوار بھی ان کے ہاتھ میں گن دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے ویسے بھی انہیں کیا فرق پڑتا تھا ان کی بہن کہیں بھی شادی کرے انہیں تو زمہ داری سے جان چھڑانی تھی سو وہی ہوا۔ 
 

Story From The Novel


The night before Hooriya’s wedding, armed robbers broke into her house and stole the money meant for her dowry. Her father stood in front of his daughter, crying and trying to protect her while the masked robbers took everything. Among them was Hassan Wajdan, the only son of a famous politician. Hassan noticed the frightened girl hiding behind her father and, despite his attraction toward her, left with his friends. The next day, Hooriya’s groom’s family refused to bring the wedding procession, claiming that both the dowry money and Hooriya’s honor had been “stolen.” Devastated by the humiliation, her father took his own life, leaving Hassan consumed by guilt and questioning whether he could ever face the girl whose life he had unknowingly destroyed.

Later, Hassan learned that Hooriya was going to marry another man named Nadir. His friend Rizwan told him that Hooriya’s brothers had arranged the marriage and that she had agreed herself because she wanted to protect her helpless mother. Furious, Hassan rushed to her house, determined to stop the marriage. Rizwan questioned what right Hassan had to interfere, but Hassan could not bear the thought of watching Hooriya ruin her life. He drove recklessly toward her house, declaring that either Hooriya’s life would change that day—or he would not survive the consequences. Meanwhile, Hooriya silently accepted the marriage because she could see no other way out of her difficult circumstances.

As the Qazi began asking Hooriya for her consent to marry Nadir, Hassan suddenly entered and stopped the ceremony. Everyone was shocked. His friends Rizwan and Fareed dragged Nadir away and threatened him with a gun. Hooriya stared at Hassan in disbelief as he told her, “I know you’ll misunderstand me, but this is the only right thing now.” Before she could respond, her mother silently urged her to remain quiet. Hassan then announced that Hooriya would not marry Nadir—she would marry Hassan Wajdan instead. Fareed handed the frightened Qazi a new marriage contract prepared by Hassan himself, and under pressure, the Qazi began performing the nikah. Hooriya was left trapped in a marriage she had never expected, while Hassan appeared determined to take responsibility for changing her fate.


 Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD


Post a Comment

Previous Post Next Post