Sneak Peak From The Novel
شادی رات اپنی محبوبہ کی جگہ کسی اور کو دیکھ کر ہادی اپنے اوسان کھو بیٹھا۔ ایک سال تک جسے اپنی منگیتر سمجھ کر وہ جذبے لوٹاتا رہا وہ کہاں تھی؟؟ وہ حسین پری پیکر،، جسکا وہ عاشق ہو چکا تھا۔ اور یہ سانولی سی لڑکی کون تھی؟ اسکے بستر پر دلہن بن کر کیوں بیٹھی تھی؟؟ کیا اسکی شادی اس لڑکی سے ہوئی تھی پھر وہ کون تھی؟؟؟ کس نے یہ گندا کھیل کھیلا تھا کس نے اسے تباہ و برباد کیا تھا اسکی آنکھیں پانی سے بھر گئیں عکس دھندھلا رہا تھا بلکل اسکے مفلوج ذہن کی طرح۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے بات بات پر ذلیل کرتا اس خوداری لڑکی کو ریزہ ریزہ کر چکا تھا یہ جانے بغیر غلطی کس کی تھی؟؟ وہ گہرا راض کیا تھا؟؟ اور جب معلوم ہوا وہ کون تھی؟ کیوں تھی یہاں؟ وہ دنگ رہ گیا مگر وہ اس لڑکی کے پیڑ کی دھول برابر بھی نہ تھا جس نے اسکے گھروالوں کو اپنا اسیر بنا لیا اور وہ لڑکی معاف کرنے والوں میں سے کبھی تھی ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
" تم کون ہو؟ یہاں کیا کر رہی ہو؟ " ہادی جیسے چیخ پڑا تھا۔ اس کے سامنے زرتار لباس میں اس کی محبوبہ نہیں بیٹھی تھی۔ یہ کوئی اور ہی تھی۔ یہ آخر کون تھی؟ وہ جیسے ضبط و تحمل کو ایک طرف رکھے چلا اٹھا۔ "میں خود چل کر یہاں نہیں آئی. مجھے آپ کے بابا اور آپ خود نکاح کے بعد لائے ہیں۔۔۔۔۔۔ میں اسما خلیل ہوں،،، اسمارا شکیل نہیں ہوں۔۔۔۔ میں آپ کی بیوی ہوں۔۔۔۔" اسما نے بڑے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھیگی پرنم آواز میں کہا تھا۔
اپنی عزت نفس کا گلا گھونٹ کر اتنے منت بھرے انداز میں کسی کو بھی یقین دلانا کتنا مشکل ہوتا ہے اور وہ کسی جب آپ کا شوہر ہو اور آپ کے وجود کو تسلیم ہی نہ کرے تو پھر ایسی سچویشن میں کیا کرنا چاہیے؟؟؟
" تم میری بیوی نہیں ہو سنا تم نے تم اتنی کوچی، کم شکل میری بیوی کیسے ہو سکتی ہو؟ میرے ساتھ اتنا بڑا فراڈ ہوا ہے تم یہاں کیسے آئیں میں تمہیں جانتا بھی نہیں" وہ غم و غصے کی انتہا پر ساری تہذیب اور شائستگی کو بھلا کر چلا رہا تھا۔ مارے غصے اور اشتعال کے اس نے کمرے کی آرائشی چیزوں پر زہر نکالنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے اندر آگ بھر گئی تھی۔۔۔۔
اس کا دماغ الٹ رہا تھا۔ ہادی کو یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے بھرے بازار میں اسے کوڑے مارنے شروع کر دیے ہیں ۔ یہ کیسا بھیانک مذاق تھا؟ یہ کس نے اتنا شرمناک کھیل کھیلا تھا؟ کس نے اسے۔۔۔۔ بے وقوف بنایا تھا۔ کون اس کے جذبوں اور احساسات کی دھجیاں اڑا گیا تھا؟ دلہن کی خوب صورتی یا کم صورتی ایک طرف تھی یہاں پہ تو پورے کا پورا وجود ہی بدلہ ہوا تھا۔۔۔۔۔
پورا ایک سال وہ کس حسین تصویر کے ساتھ محو کلام رہا تھا؟ وہ کس کو سپنوں میں بسائے ہوئے تھا۔۔۔۔۔ وہ کون تھی جو اس کے پاک، ان چھوئے، کورے جذبوں، محبت، اعتبار، مردانہ خودی، انا اور دل جیسی متاع کو لوٹ کر لے گئی تھی۔ یہ کس نے اس کی مردانگی پہ شب خون مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ تو پورے قد سے ذلیل و خوار ہو گیا تھا۔ شرمسار ہو گیا تھا۔آخر یہ ڈراما کس نے کیا تھا؟ کیا سامنے کھڑی اس خون آشام بلا نے؟ یا بابا کو دھوکا دیا گیا؟ ہادی کا سر دھجی، دھجی بکھر رہا تھا۔ اس کی شریانوں میں بہو ابل رہا تھا۔
"جاؤ۔۔۔۔ دفع ہو جاؤ۔۔۔۔ اپنی صورت گم کرو مجھے ایک پل کے لیے بھی دکھائی مت دو۔۔۔" اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ وہ زخمی شیر کی طرح دہاڑتا رہا غراتا رہا پھینکارتا رہا۔ اسما آنکھیں نیچے کیے بےآواز رورہی تھی۔ اس کے چہرے پر دکھ، کرب، اذیت اور اپنے مٹی مٹی ہوجانے کا احساس لکھا کرلا رہا تھا۔ اس کے آنسو ٹوٹ، ٹوٹ کر گر رہے تھے اور وہ کسی شکستہ عمارت کی طرح
ڈھے چکی تھی۔۔۔۔۔
ہادی نے اسے زمین پر گرتے دیکھا تو ایک زہر آلود، شعلے اگتی نگاہ ڈالی اور تن فن کرتا باہر نکل گیا۔ جانے سے پہلے اس نے کرسٹل کے کارنز کو ٹھوکر سے اڑایا تھا۔ اوپر رکھے بہت سے ڈیکوریشن پیس اڑتے ہوئے دیوار سے ٹکراتے رہے اور زمین پہ چکنا چور ہو کر گرتے رہے جیسے اسما زمین پر کرچی کرچی ہو کر بکھر چکی تھی۔
Story From The Novel
On his wedding night, Hadi is devastated when he discovers that the bride sitting before him is not the woman he believed was his fiancée, Asmara Shakeel. For an entire year, he had fallen deeply in love with the woman he thought he would marry, sharing his feelings, dreams, and emotions with her. But now, instead of his beloved, he finds a completely different girl dressed as his bride. Confused and furious, he demands to know who she is and why she is in his room.
With tears in her eyes, the girl calmly tells him that she is Asma Khalil, not Asmara Shakeel, and that she did not come there by choice—Hadi and his father brought her home after the nikah. She insists that she is his lawful wife, but Hadi refuses to believe her. Feeling betrayed and humiliated, he cruelly insults her appearance and accuses her of being part of a terrible fraud. He lashes out in anger, destroying the decorations around the room while Asma silently endures his harsh words.
As Hadi leaves her broken and crying, he remains unaware that the real truth is far more complicated than he imagines. Someone has deceived him and completely changed the course of his life, but he has blamed and humiliated the one person who may have been innocent all along. Asma collapses under the weight of his rejection, while Hadi storms away consumed by rage, convinced that his emotions and trust have been deliberately destroyed. The shocking truth about Asma's identity and the reason behind the marriage is yet to be revealed—and when Hadi finally discovers it, he will realize that he was wrong about the woman he so cruelly rejected.
Download Novel By Clicking Download Button Below
