Ramz E Ishq By Saba Novels - Novelians Library


 

Sneak Peak From The Novel



" کیا تمہارا پہلا شوہر تمہارے قریب نہیں آتا تھا۔۔۔۔۔" سردار آبان خان ذرمش کی گردن چومتے ہوئے بولا۔ جو اس کے دشمن کی بیوہ بہو تھی جس کا مطالبہ سردار آبان خان نے جرگے میں کیا تھا۔ مخالف پارٹی نے اپنی جان بچانے کے لیے اپنی کمسن کنواری بیوہ بہو کو سردار آبان خان کے ساتھ ونی کر دیا۔ آبان خان اس بات سے انجان تھا وہ بیوہ کنواری ہے۔۔۔۔۔


وہ پوری شدت سے اس کے وجود کے پور پور پر اپنا لمس بکھیرتا اسے تڑپا رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے ذرمش کے وجود میں خود کو داخل کیا اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی مگر سردار اپنی خماری میں مست تھا۔ جب  اس کی نظر بیڈ پر پڑی سرخ دھبے دیکھتے سردار نے روتی ہوئی ذرمش کو۔۔۔


" مجھے میرے بھائی کے قتل کے بدلے میں ونی چائیے۔"اسکی سرد آواز بھرے جرگے میں گونجی۔ " تمہارے بیٹے نے سردار ابان خان کے بھائی کا قتل کیا ہے جس کے بدلے میں ونی مانگ رہے ہیں اور سبھی معززین سردار کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔۔۔۔۔" ایک بزرگ نے کھڑے ہوتے سنجیدگی سے کہا۔۔۔


" آپ سب جانتے ہیں کہ میرے میری کوئی بیٹی نہیں ہے سردار جتنی چاہے میں زمین اور دولت دینے کو تیار ہوں۔۔۔۔" راشد خان نے کھڑے ہوتے مکمل اعتماد کے ساتھ کہا تھا اسے لگ رہا تھا فیصلہ اس کے حق میں ہی آئے گا "بیٹی نہیں ہے تو کیا ہوا؟؟؟ اس کی بیوہ بہو تو ہے مجھے وہ ونی چاہیے۔۔۔۔" سردار آبان خان نے سنجیدگی سے کہا راشد خان کے جبڑے بھینچ گئے۔۔۔۔


 اسے امید نہیں تھی کہ سردار اتنا بڑا گیم کھیلے گا اب اس آدھی جائیداد جو اس کے بھائی کی تھی اور ساتھ میں اس کے بیٹے کی بیوہ ہونے توسط سے جو اس کی بھتیجی کے حصے میں جائیداد آئی تھی سب ہاتھ سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی "سب سردار کی بات سے متفق ہیں۔۔۔ آج شام میں ہی بچی کا نکاح سردار سے کروایا جائے گا۔۔۔ راشد خان کو یہ فیصلہ ماننا پڑے گا ورنہ اس کی ساری جائیداد ضبط کر کے اسے گاؤں سے بے دخل کر دیا جائے۔۔۔۔۔۔" وہ بزرگ باقی سب سے مشورہ کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔


 چونکے معاملہ خود سردار کے گھر کا تھا اس لیے سردار آبان خان یہ فیصلہ خود نہیں لے سکتا تھا یہ فیصلہ وہاں جرگے کے تمام معززین کے ہاتھ میں تھا آبان خان نے فیصلہ سنتے اپنی سرخ نظریں راشد خان پر ٹکائیں جو بےچینی سے پہلو بدل رہا تھا وہ انکار کسی صورت نہیں کر سکتا تھا ورنہ جو رہی سہی جائیداد تھی اس سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے۔۔۔۔


اس لیے مجبورا سر جھکا گیا۔۔۔ " شام کے وقت نکاح کے لیے تیار رہیے گا۔۔۔۔" راشد خان کے پاس سے گزرتے وہ سپارٹ لہجے میں کہتا آگے بڑھ گیا راشد خان خود سے مٹھیاں بیچ کر رہ گیا کچھ ہی دیر میں اس کی جیب اور اس کے پیچھے گارڈز کی دو گاڑیاں دھول اڑاتی وہاں سے نکلیں تھیں۔۔۔۔۔


Story From The Novel

Sardar Aban Khan demands a vani marriage in the jirga as revenge for the murder of his brother. The opposing family has no choice but to surrender their young widowed daughter-in-law, Zarmish, to save themselves. Aban Khan assumes that Zarmish was previously married and is no longer innocent, completely unaware that her first marriage was never consummated and that she is still a virgin.

After the jirga, Aban Khan takes Zarmish as his wife. In the intimacy that follows, Zarmish cries out in pain, leaving Aban Khan stunned when he notices the bloodstains on the bed. Only then does he realize that his supposedly widowed wife had never been intimate with her first husband. The discovery leaves him shocked as he looks at the frightened, tearful Zarmish.

Earlier in the jirga, Zarmish’s father-in-law, Rashid Khan, had offered Aban Khan land and wealth instead of a woman, insisting that he had no daughter to give. But Aban Khan coldly demanded his widowed daughter-in-law instead. The elders unanimously supported his demand and ordered that Zarmish’s nikah with Aban Khan take place that very evening. Rashid knew he could not refuse without risking the seizure of his remaining property and exile from the village, so he reluctantly bowed to the decision. Aban Khan left with a final warning that Rashid should have Zarmish ready for the wedding that evening, while Rashid could only clench his fists in helpless anger.


Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post