Mere Saiyaan By Dia Novels - Novelians Library

 





Sneak Peak From The Novel


"یقین نہیں آتا اس انسان کی بیٹی میرے سامنے کھڑی ہے ایک معمولی ورکر کی حیثیت سے، جس نے کبھی میرے باپ سے پوری فیکٹری چھین لی تھی! کیا ہوا؟ کیا تمہارے گھر کے حالات اتنے خراب ہو گئے کہ تم لوگ سڑکوں پر آ گئے ہو؟" وہ اس کی حیثیت کا مذاق اڑا رہا تھا۔ ابیہا جانتی تھی کہ یہی سب ہوگا۔۔۔۔۔۔

"سر! میں یہاں کسی رشتے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ملازم کی حیثیت سے جاب کر رہی ہوں، اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ کام اور نوکری کے حوالے سے ہی مجھ سے بات کریں۔" وہ سنجیدہ اور سپاٹ لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔

شمشیر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ بکھر گئی: "رسی جل گئی پر بل نہیں گئے! تم بھول گئی ہو کہ میں کون ہوں اور تم کون ہو۔" شمشیر کی تلخ بات پر اس نے لب بھینچ لیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

"اینی ویز (Anyways)۔۔۔۔۔ ایک بات اپنے ذہن میں بٹھا لو کہ خبردار جو اپنے اور میرے رشتے کے بارے میں یہاں کسی کو بتایا بھی تو! یا کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر یہ سوچا کہ میں شاید تم پر ترس کھا کر اس رشتے کو قبول کر لوں گا یا پھر تمہارے خاندان اور اپنے خاندان کے آپس میں تعلق کو لوگوں کے سامنے ظاہر کروں گا، تو یہ تمہاری بھول ہوگی مس ابیہا احمد۔۔۔ اس لیے اپنی حیثیت اور اوقات میں رہنا، میں نے تم پر ترس کھا کر یہاں نوکری دی ہے۔۔۔ کسی کو بھی ہمارے رشتے کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں!"

وہ اسے گھورتا ہوا زہر اگل رہا تھا، ابیہا کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی تھیں لیکن اس نے آنکھوں کا پانی چہرے پر نہ ٹپکنے دیا بلکہ سارا اندر ہی اتار لیا۔۔۔ بھرے ہوئے لہجے میں کہنے لگی: "میں جانتی ہوں سر۔۔۔۔ مجھے خود بھی اس بات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔"

یہ کہتے ہی وہ پلٹ کر جانے لگی تبھی شمشیر نے غصے سے اسے پکارا تھا: "میں نے ابھی تمہیں جانے کے لیے نہیں کہا مس ابیہا!" اس کے قدم وہیں جم گئے تھے، تبھی وہ اٹھ کر اس کے سامنے آیا۔۔۔۔

"حلیہ دیکھو اپنا۔۔۔۔ یہ بد رنگ کے کپڑے، یہ ٹوٹی پھوٹی چپل! اگر کسی کو پتہ چل جائے کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ ہے تو اس سوسائٹی میں میں بدنام ہو کر رہ جاؤں گا۔۔۔۔" اس نے ایک آخری وار کیا تھا اور ابیہا کا چہرہ زرد پڑ گیا۔۔۔۔ بس زندہ درگور ہونے کی کسر رہ گئی تھی، تبھی وہ ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔۔۔

"آپ فکر نہ کریں سر! کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔" اس کی آنکھیں مسلسل زمین میں گڑی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔ پھول سا نازک چہرہ پل بھر میں مرجھا گیا تھا۔ شمشیر نے اس کی سیاہ گھنی پلکوں والی آنکھیں دیکھیں۔۔۔ وہ لاکھ اس کی غربت اور اس کی حالت کا مذاق اڑا لیتا، لیکن حسن خدا نے اسے ٹوٹ کر دیا تھا جو لوگوں کی نظروں سے چھپ نہیں سکتا تھا۔

وہ ہوا کے جھونکے کی طرح اس کے پاس سے گزرتی چلی گئی، لیکن شمشیر خانزادہ نہیں جانتا تھا کہ چند دن بعد وہی اس کی تڑپ بن جائے گی۔۔۔

کتنی ہی دیر وہ اسے وہاں سے جاتے دیکھتا رہا اور پھر ایک گہری سانس خارج کر کے رہ گیا۔ اس کے بعد تو اکثر یہ معمول بن گیا تھا؛ صبح صبح جب شمشیر آفیس میں آتا تو سبھی ورکرز کھڑے ہو کر اس کا استقبال کرتے تھے اور وہ بیزاری سے بس فضا میں ہاتھ ہلا کر آگے بڑھ جاتا اور پھر کسی نہ کسی بہانے سے وہ ابیہا کو آفیس میں بلاتا تھا۔

باقی لڑکیاں جل کر رہ جاتی تھیں، باقاعدہ ایک نے تو اس کے منہ پر کہہ دیا تھا کہ: "ایسا کیا ہے تم میں جو روز سر تمہیں اپنے آفیس بلا رہے ہوتے ہیں؟" پہلے تو انہیں لگا تھا کہ شاید اس نے کچھ کام ٹھیک نہیں کیا ہوگا تبھی سر اسے آفیس میں بلا کر ڈانٹتے ہیں، لیکن باہر تک انہیں کبھی بھی ان کے ڈانٹنے کی آواز نہیں آئی تھی۔ ایک گہری سانس خارج کر کے وہ کہنے لگی: "کچھ نہیں، مجھے کچھ کام کے سلسلے میں سمجھا رہے تھے۔"

اس روز بھی وہ ابھی بیٹھی ہی تھی جب شمشیر کو کچھ سوجھا اور پھر اس نے اسے اپنے آفیس میں دوبارہ آنے کو کہا۔ وہ فائل اٹھا کر جیسے ہی آفیس میں داخل ہوئی تو شمشیر سامنے بیٹھا ہوا تھا، سامنے سے شرٹ کے بٹن کھولے ہوئے تھے، ٹائی کی ناٹ ڈیلی کر کے وہ اتار چکا تھا۔ آج موسم خاصا گرم تھا اور ایئر کنڈیشنر بھی جیسے کام نہیں کر رہا تھا۔ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے کہنے لگا: "میرا دل کافی پینے کو چاہ رہا ہے، میرے لیے کافی بنا دو۔"

ابیہا نے یہ سنا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ چکے تھے۔ ابھی تو اس کا اتنا زیادہ کام کرنے کو رہتا تھا اور وہ اس کے لیے کافی بنوائے؟ اس نے سپاٹ لہجے میں کہنے لگی: "سر! کافی بنانے کے لیے الگ سے یہاں پر آپ کا کک موجود ہے، اگر کہتے ہیں تو میں اسے کہہ دیتی ہوں وہ آپ کے لیے کافی بنا دے گا۔"

اس کا یہ کھرا سا جواب سن کر شمشیر اپنے لب کاٹ کر رہ گیا، کہنے لگا: "میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے کافی بنا کر دو! اگر مجھے اس سے کہنا ہوتا تو میں خود ہی کہہ چکا ہوتا۔ مجھے تمہارے ہاتھ کی بنی ہوئی کافی پینی ہے، یا پھر بنانی نہیں آتی تمہیں؟ کبھی کافی پی بھی ہے کہ نہیں؟" وہ ایک بار پھر طنز کر رہا تھا اور وہ ایک گہری سانس خارج کر کے کہنے لگی: "ٹھیک ہے، میں بنا دیتی ہوں۔"

وہ جانتی تھی کہ وہ اسے نیچا دکھانے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔ وہ چپ چاپ باہر آئی اور ایک جانب بنے ہوئے چھوٹے سے کچن میں جا کر وہ اس کے لیے کافی بنانے لگی۔ کافی بنانے کے بعد جب اس کے لیے لے کر آئی تو سبھی ورکرز کرسی کی طرف مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ شمشیر نے اس کافی کو دیکھا اور پھر اپنے لبوں سے لگا لیا۔ چند گھونٹ بھرنے کے بعد وہ کپ اس کی جانب بڑھا چکا تھا، کہنے لگا: "ایسی کافی بناتے ہیں مس ابیہا؟ آپ کو کافی بنانے کا بھی نہیں پتہ! آپ کے ہاں تو مجھے لگتا ہے چائے بھی دودھ کے بغیر بنتی ہوگی! ایسے ہی ہوتا ہے جب حرام سر چڑھے اور زبردستی کسی کی محنت پر قبضہ کیا جائے تو مکافاتِ عمل میں یوں ہی تباہیاں سر اٹھاتی ہیں۔"

ابیہا کی آنکھوں میں ایک بار پھر سے آنسو آ چکے تھے، وہ کہنے لگی: "سر! پلیز ہم یہاں پر ایک ورکر اور باس کی حیثیت سے ہیں، پلیز مجھے بار بار طعنے دینا بند کر دیں۔ اگر آپ کو کافی پسند نہیں آئی تو آپ اپنے پرسنل کک سے بنوا سکتے ہیں، یہ میرا کام نہیں ہے، میں یہاں پر جو کام کرنے آئی ہوں وہی کروں گی۔"

مگر وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہنے لگا: "رونا دھونا بند کرو مس ابیہا! اور اب تمہاری سزا یہ ہے کہ یہ کڑوی کافی تم پیو گی۔" آدھا کپ تو وہ پی چکا تھا اور آدھا بچا پڑا تھا۔ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی، کہنے لگی: "سر! میں آپ کا جھوٹا کیسے پی سکتی ہوں؟"

وہ بیزاری سے کہنے لگا: "منہ سے! ان لبوں سے جن سے صرف تمہیں باتیں کرنا آتا ہے۔"

وہ کہنے لگی: "میں آپ کا جھوٹا نہیں پیوں گی۔"

شمشیر کہنے لگا: "کیوں نہیں پیو گی؟ میں تمہارے لیے غیر تو نہیں ہوں، شاید تم بھول رہی ہو کہ میں تمہارا شوہر ہوں۔" وہ ایک بار پھر اس کے اور اپنے بیچ کا رشتہ اجاگر کر رہا تھا اور ابیہا کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو خون نہ نکلے۔ ڈرتے ڈرتے اس نے کپ اٹھایا اور اپنے لبوں سے لگا لیا۔ کافی بالکل پرفیکٹ بنی تھی مگر جان بوجھ کر شمشیر اس کے ساتھ ایسا کر رہا تھا۔

سارا کپ خالی کرنے کے بعد ہی اس نے اسے جانے دیا تھا اور وہ باہر آ کر اپنی چیئر پر بیٹھ کر کتنی ہی دیر گہرے سانس لیتی رہی۔ آج تو شمشیر نے حد ہی کر دی تھی، نہ جانے آگے چل کر اسے کیا کچھ سہنا پڑتا!

جب ابیہا کو پہلی تنخواہ ملی، گھر میں عید کا سماں تھا! اس نے ماں سے کہہ دیا تھا: "امی! سب سے پہلے ابو کی دوائیاں لے کر آنی ہیں آپ نے۔" اسے اپنے باپ کی ہر وقت فکر رہتی تھی۔ وہ گھر میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، اس سے چھوٹی تین بہنیں اور ایک بھائی تھا۔ دونوں بہنیں کالج جبکہ دونوں چھوٹے بہن بھائی اسکول میں پڑھ رہے تھے۔

امی تو ان کا کالج اور اسکول دونوں ہی چھڑوانا چاہتی تھیں، گھر میں اتنے بھی پیسے نہیں تھے کہ وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا لیتے۔۔۔۔۔۔ ابو کی بیماری کے لیے لیا گیا قرضہ ہی اتنا تھا۔۔۔۔ دو چار دن میں ہی اس کی تنخواہ ختم ہو گئی۔

امی دبے دبے لہجے میں کہنے لگیں: "بیٹا! دو تین جوڑے بنوا لیتی، تیرے سارے سوٹ پرانے ہو گئے ہیں۔"

وہ کھانا کھاتے ہوئے کہنے لگی: "کوئی بات نہیں امی! اگلی تنخواہ پر بنوا لوں گی، آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔"

سردیوں کے دن چل رہے تھے، سردی بھی عروج پر تھی۔ وہ اپنی ضرورتوں کو نظر انداز کیے صرف کام پر فوکس رکھتی، یہی وجہ تھی کہ چند دن میں ہی اس نے اپنا ایک مقام بنا لیا تھا، لڑکیوں کا رویہ بھی اب اس سے بہتر ہو گیا تھا۔ اس دن بھی رحمہ اسے کہنے لگی: "تم کینٹین جا کر کیوں نہیں کھانا کھاتی ہو؟"

وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیتی: "وہ بس مجھے تھوڑا کام کرنا ہوتا ہے۔" وہ کیسے اسے بتاتی کہ کبھی وہ گھر سے کھانا نہیں لاتی تھی تو کبھی اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے، تو ایسے میں کینٹین جا کر وہ کیا کرتی! اس لیے لنچ کے ٹائم بھی آفیس میں ہی بیٹھی رہتی۔۔۔۔

پھر اس دن وہ سردی سے بری طرح کانپ رہی تھی۔۔۔ دو دن سے اسے مسلسل بخار ہو رہا تھا، موسم بھی تبدیل ہو رہا تھا، اوپر سے اے سی کی ٹھنڈک اسے راس بھی نہیں آ رہی تھی، ٹھنڈ سے اس کا جسم درد کرنے لگا تھا۔ ایک بار اس نے ایک ورکر سے کہا تھا کہ: "اے سی کو تھوڑا سلو کر دو، مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔"

مگر وہ تو الٹا اسی کا مذاق اڑا چکا تھا کہ: "کبھی اے سی کی ہوا لی ہو تو پتہ ہو نا! اب تمہاری ٹھنڈ کے لیے باقی تو گرمی میں نہیں بیٹھ سکتے۔" یہ سن کر وہ چپ ہو چکی تھی کیونکہ بات بات پر یہاں سبھی لوگ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔

اسے اے سی کی ٹھنڈک بھی برداشت نہیں ہو رہی تھی کیونکہ رات سے ہی اس کا جسم کچھ گرم گرم سا ہو رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا جیسے اسے بخار ہونے والا ہے، لیکن وہ پھر بھی آفیس آ گئی تھی۔ اس کے آفیس کولیگ حاشر نے یوں کانپتے دیکھا تو پریشانی سے کہنے لگا: "آپ کو سردی لگ رہی ہے تو آپ میری جیکٹ پہن لیں۔۔۔۔۔"

ابیہا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا، سچ میں ہی اسے بہت شدید سردی لگ رہی تھی۔ حاشر اس کے بہت قریب کھڑا تھا اور شیشے کے اس پار اپنے آفیس میں بیٹھا شمشیر خانزادہ یہ منظر دیکھ کر سلگ گیا تھا۔۔۔۔۔ ابیہا نے چند لمحے سوچا پھر کہنے لگی: "آپ کی مہربانی ہوگی، تھوڑی دیر کے لیے مجھے یہ جیکٹ دے دیں۔"

جیکٹ پہن کر اسے تھوڑی گرمائش کا احساس ہوا تھا، تبھی اس کی ٹھنڈی انگلیاں پھر سے کمپیوٹر کی اسکرین پر جادو جگانے لگی تھیں۔۔۔۔ وہ تیزی سے فائل مکمل کرنے میں مصروف تھی جب مینیجر ہاشم آ کر اسے کہنے لگا: "آپ کو شمشیر صاحب نے اپنے آفیس میں بلایا ہے۔"

"کیا ہے یہ شخص؟ کیوں مجھے بلاتا ہے اپنے آفیس میں؟ شاید آج پھر اس کا دل چاہ رہا ہوگا مجھے ذلیل کرنے کے لیے۔۔۔" وہ لب کاٹتے ہوئے اٹھی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہی اس کے سامنے کھڑی ہوئی تو شمشیر اسے کاٹدار نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

"شرم نہیں آتی لوگوں کو اپنی طرف اٹریکٹ کرتے ہوئے! یہاں کام کرنے آئی ہو یا پھر اپنے حسن کا جادو چلانے؟ یہ ڈرامے یہاں نہیں چلیں گے، سنا تم نے!" وہ غصے سے اس پر دھاڑ رہا تھا۔

آفیس کے دروازے بند تھے ورنہ آواز باہر جاتی، ابیہا اس کے غصے اور آواز پر ہی بری طرح کانپنے لگی۔۔۔۔۔

"سر۔۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آپ کو۔۔۔۔ آپ مجھے ایسے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔۔۔" وہ حیران تھی۔۔۔

تبھی شمشیر غصے میں اس کے پاس آیا تھا: "لگتا ہے کہ اپنے معصوم حسن کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے میں ماہر ہو! مام ٹھیک کہتی ہیں؛ سڑکوں پر پھرنے والی لڑکیوں کو کبھی اپنے گھر کی عزت نہیں بنانا چاہیے۔"

"شمشیر صاحب! پلیز آپ بار بار میری انسلٹ (Insult) نہیں کر سکتے، آخر میں نے کیا کیا ہے؟" اسے اپنی آنکھوں کی نمی چھپانا مشکل ہو گئی تھی۔ اب وہ اس کے کردار اور اس کی عزت پر بات کر رہا تھا، تبھی شمشیر نے تمسخر سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

"یہ جو جیکٹ پہن کر کھڑی ہو، جانتی بھی ہو ایک غیر مرد کی ہے؟ زیب دیتا ہے تمہیں یوں غیر مرد کی چیزیں پہننا اپنے جسم پر؟"

ابیہا نے اس کی بات پر اپنے آنسو پی لیے تھے: "زیب تو مجھے یہ بھی نہیں دیتا سر کہ میں یہ نوکری کروں، لیکن مجبوریاں انسان سے بہت کچھ کروا لیتی ہیں۔" اس کی آواز بھری ہوئی تھی۔۔۔۔۔ "اور سر! آپ کو مجھ پر ایسے چلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔"

وہ لال آنکھیں لیے شمشیر کو دیکھنے لگی، ایک دم ہی اس کا خاندانی غصہ باہر آ گیا تھا۔ جس طرح شمشیر غصے کی ہر حد پار کر سکتا تھا، اس طرح غصہ اسے بھی آتا تھا، اتنا ہی شدید! اور شمشیر خانزادہ تو اس منظر پر ہی دنگ رہ گیا تھا۔۔۔ آنسوؤں سے بھری ہوئی غلافی آنکھیں، پلکوں پر اٹکے آنسو اور گلابی لب۔۔۔۔ پورا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ شمشیر کا بس نہ چل رہا تھا کہ آگے بڑھ کر وہ کوئی گستاخی کر بیٹھے۔۔۔۔

وہ شاید غصے میں اس پر زیادہ ہی چلا بیٹھا تھا تبھی تو ابیہا کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ بھرے ہوئے لہجے میں کہنے لگی: "آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میری معمولی سی بات کو اتنا بڑھائیں اور مجھ پر بلاوجہ کردار کشی کریں۔ میں آج ہی اس نوکری پر لعنت بھیج کر جا رہی ہوں۔"

وہ غصے میں پلٹنے لگی تھی لیکن آگے بڑھ کر شمشیر نے آفیس کے دروازے بند کر دیے، پھر دھیرے دھیرے اس کے قریب آنے لگا: "بھول گئی ہو مس ابیہا کہ میرا اور تمہارا رشتہ صرف مالک اور ملازم کا نہیں بلکہ کچھ اور بھی ہے؟"

ابیہا کی جان ہتھیلی میں آ گئی، وہ اس کے بہت قریب کھڑا تھا، اتنے نزدیک کہ اس سے سانس لینا بھی دشوار ہو گیا۔ تبھی شمشیر نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا، وہ مچل کر پیچھے ہٹنا چاہتی تھی لیکن شمشیر نے بنا یہ لحاظ کیے کہ اس وقت وہ دونوں آفیس میں کھڑے ہیں، اسے تھامے رکھا۔ اس کا وجود کانپ رہا تھا، چہرہ بھی سرخ لال ہو رہا تھا، صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ جس طرح وہ کانپ رہی ہے اسے بخار ہے۔

شمشیر نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے کاندھوں پر رکھے تو وہ آگ کی طرح جھلس رہی تھی، وہ اس کے وجود کی گرمائش محسوس کر چکا تھا، کہنے لگا: "تمہیں بخار ہے!"

وہ کہنے لگی: "جو بھی ہے آپ فکر مت کریں، میں آپ کا کام وقت پر کر کے ہی جاؤں گی، چھوڑیں مجھے!"

لیکن شمشیر ایک جھٹکے سے وہ جیکٹ اتار کر دور پھینک چکا تھا، کہنے لگا: "تمہارا کوئی حق نہیں بنتا کہ تم کسی غیر محرم کی چیز اپنے وجود پر اوڑھوں، سمجھی تم؟ خود کو دوسروں کی چیزوں سے ناپاک مت کرو۔"

اس نے سر اٹھا کر شمشیر کی طرف دیکھا، خانزادہ کی غیرت ایک دم سے جاگ اٹھی تھی تو وہ پھیکا سا مسکرا کر کہنے لگی: "میں جو مرضی کروں، آپ کوئی نہیں ہوتے مجھے کہنے والے! آپ کی ماں جو کہتی ہے ٹھیک کہتی ہے، مجھ جیسی لڑکی کو تو آپ کو طلاق دے دینی چاہیے کیونکہ مجھ جیسی لڑکیاں بے غیرت ہوتی ہیں جو اپنے باپ کو مرتے ہوئے دیکھ کر گھر سے کام کی نیت سے نکل آتی ہیں! میں نے اپنا جسم تو نہیں بیچا تھا سر، صرف نوکری ہی کی تھی اور بقول آپ کے، اپنے ہی شوہر کے آفیس میں نوکری کرنے آئی تھی، کہیں اور نہیں!"

شمشیر کو اس کے الفاظ سیدھا اپنے دل پر وار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے تھے، اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا، لیکن شاید اتنے سالوں سے جو زہر اس کے ذہن میں گھول دیا گیا تھا، اسی کا اثر تھا کہ وہ اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، ابیہا ایک دم سے لڑکھڑا گئی۔ بخار کی شدت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اسے چکر آنے لگے، آنکھوں کے آگے دھندلاپن آنے لگا۔ وہ باہر جانا چاہتی تھی مگر گرنے ہی لگی تھی کہ شمشیر نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا تھا۔

"ابیہا! مس ابیہا! اپنی آنکھیں کھولیں، کیا ہو گیا آپ کو؟" وہ اس کے گال تھپتھپانے لگا، لیکن بخار کی شدت بڑھ چکی تھی۔

ایک جھٹکے سے اس نے اسے اپنی گود میں اٹھایا اور پھر اپنے کیبن کا دروازہ کھولا۔ سامنے کھڑے سارے ورکرز تھے، تمام اپنی سیٹ سے کھڑے ہو چکے تھے۔ وہاں کئی لڑکیاں تھیں جو آہ بھر رہی تھیں کہ بس ایک دفعہ سر شمشیر ان کے قریب آ جائیں، کسی طرح ان کا ہاتھ پکڑ لیں یا وہ سر شمشیر کو چھو کر دیکھ لیں، لیکن کبھی انہیں یہ موقع میسر نہیں آیا تھا اور اس لڑکی کی قسمت دیکھو! سر اسے گود میں اٹھا کر لے کر جا رہے تھے۔

"کیا ہوا اس لڑکی کو؟ سر! آپ فکر مت کیجیے، اسے میرے حوالے کیجیے، میں اس کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہوں۔" حاشر نے فوراً آگے بڑھ کر کہنے کی کوشش کی تھی، مگر شمشیر نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، کہنے لگا: "اس کی ضرورت نہیں ہے، میں اسے خود ہاسپٹل لے کر جاتا ہوں، یہ بے ہوش ہو چکی ہے۔"

یہ کہہ کر وہ نیچے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور پھر گاڑی پوری اسپیڈ سے چلاتا ہوا سیدھا ہاسپٹل پہنچا۔ ڈاکٹر نے اسے ڈرپ لگائی تھی، بخار حد سے زیادہ تیز تھا، دھیرے دھیرے اس کا بخار اترا اور اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔ اپنے قریب شمشیر کو دیکھ کر وہ ہکا بکا رہ گئی۔

شمشیر کہنے لگا: "اب کیسی ہے طبیعت تمہاری؟ اتنی سی بات پر ہی تم بے ہوش ہو گئیں، ابھی تو تم نے بہت غصہ سننا ہے!"

مگر وہ آنکھوں میں آنسو لیے کہنے لگی: "آپ کا بہت بہت شکریہ سر! آپ نے اپنا قیمتی وقت میرے لیے ضائع کیا، آپ چلے جائیں یہاں سے، گھر میں خود چلی جاؤں گی۔"

لیکن شمشیر نے اس روز اسے خود گھر ڈراپ کیا تھا اور وہ چپ چاپ اپنے گھر کی طرف چلی آئی تھی۔ جب تک وہ گھر کے اندر داخل نہ ہوئی، شمشیر باہر کھڑا اسے دیکھتا رہا اور پھر اپنے گھر کی طرف واپس لوٹ گیا۔ اگر اس کی ماں کو پتہ چل جاتا کہ وہ اپنی منکوحہ کو یوں گھر تک چھوڑنے آیا ہے، تو اس کی ماں تو شاید اس کی جان ہی لے لیتی!

"اس دو ٹکے کے انسان سے آپ اپنے خاندان کا رشتہ جوڑیں گے؟ حیثیت کیا ہے آپ کی اور اس کی!" غزالہ بیگم آنکھوں میں قہر لیے اپنے شوہر پرویز خانزادہ کو دیکھ رہی تھیں۔

"میں تو اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا غزالہ بیگم جو اس نے میرے ساتھ کیا، لیکن یہ بات مت بھولنا کہ ایک رشتہ جو ابا جان نے طے کیا تھا، وہ ابھی بھی میرے بیٹے اور اس کی بیٹی کے درمیان قائم ہے۔"

پرویز خانزادہ کی بات پر تو غزالہ بیگم کو آگ ہی لگ گئی: "اچھا! تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس بھکاری کی اولاد کو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے ہیں؟ جانتے بھی ہیں کہ اس شہر میں ہماری کیا حیثیت ہے؟ پانچ پانچ فیکٹریاں چل رہی ہیں میرے بیٹے کے نام پر! اس نے آپ کے اس معمولی کاروبار کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ہرگز نہیں! آج شمشیر آئے تو اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا، وہ آج ہی آپ کی بھتیجی کو طلاق دے گا اور میری پسند سے شادی کرے گا۔۔۔۔ شاہ صاحب کی بیٹی رملہ۔۔۔۔ وہ منتیں کرتے پھر رہے ہیں میری، اپنی بیٹی کا رشتہ کروانے کے لیے، تو پھر آپ اس غریب گھر سے رشتہ جوڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں؟"


کمپلیٹ ناول یوٹیوب پر اپلوڈ ہے۔۔ لنک چاہیے تو کمنٹ کردیں ۔۔ پیج کو فالو کریں۔۔ انباکس میسج کردیں لنک مل جائے گا۔۔۔


Story From The Novel


Abia Ahmed is forced to work as an ordinary employee in Shamsher Khan’s factory after her family falls into poverty. Shamsher humiliates her because of their past: Abia’s father once took over his father’s entire factory, and now Shamsher sees Abia as nothing more than the daughter of the man who ruined his family’s status. What makes things even more complicated is that Shamsher and Abia are secretly married, but Shamsher refuses to acknowledge their relationship publicly. He repeatedly reminds her of their unequal social status and orders her never to reveal that she is his wife. Despite his cruel behavior, he keeps finding excuses to call her into his office, while Abia silently tolerates his insults to support her sick father and younger siblings.


One day, Shamsher deliberately humiliates Abia over a cup of coffee, forcing her to drink from the same cup after insulting her. Later, when Abia becomes sick with a high fever, her male colleague Hasher lends her his jacket because she is freezing. Seeing this, Shamsher becomes intensely jealous and angrily accuses her of attracting other men. Abia finally loses patience and confronts him, telling him that she only works because her family desperately needs money. She reminds him that she has never compromised her dignity and that he has no right to question her character. When she decides to quit, Shamsher stops her and reminds her that he is not merely her boss—he is her husband. During the confrontation, he realizes she has a dangerously high fever. Soon afterward, Abia collapses in his arms, and Shamsher rushes her to the hospital himself.


After Abia recovers, Shamsher takes her home and secretly waits until she enters safely, revealing that beneath his hatred and pride, his feelings toward her are beginning to change. Meanwhile, his mother, Ghazala Begum, is furious at the possibility of Abia becoming her daughter-in-law. She considers Abia’s family far beneath their social status and insists that Shamsher divorce Abia and marry Ramla, the daughter of a wealthy Shah family. Shamsher’s father, however, reminds Ghazala that the marriage arranged by his own father still legally exists between Shamsher and Abia. With Shamsher caught between his mother’s hatred, his family’s pride, and the emotions he is beginning to develop for Abia, their secret marriage is about to become the center of a much bigger family conflict.


Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post