Aqd E Mohabbat By PC Novels - Novelians Library


 

Sneak Peak From The Novel


"جب دس سال پہلے مجھے چھوڑ ہی گئے تھے تو اب مجھے طلاق بھی دے دیں مسٹر زاویار شاہ!" حورین کی سخت آواز پر زاویار کا ہاتھ کھانا کھاتے رکا۔ ڈائٹنگ پر موجود تمام افراد نے گھوم کر حورین کو حیرت سے دیکھا۔ آج سے دس سال پہلے زبردستی دادا جان نے زاویار کا نکاح نو سالہ حورین سے کروا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ گھر چھوڑ کر جا چکا تھا۔ آیا تو اسے طلاق دینے تھا مگر اپنے سامنے اتنی خوبصورت دوشیزا کو دیکھ کر اب اس کا ارادہ بدل گیا تھا۔ "طلاق چاہیے مجھے آپ سے مسٹر! جب دس سال مجھ سے دور رہیں تو اب بھی آنا نہیں بنتا تھا آپ کا۔۔" اس کی بات سنتے زاویار شاہ کچھ سوچتے کھڑا ہوا۔ " دادا جان! آپ رخصتی کی تیاری کریں یہ رخصتی مجھے اسی ہفتے کے اندر اندر چاہیے، کسی کا دماغ ٹھکانے لگانا ہے اور بڑی شدت سے لگانا ہے۔" اس کی سرد آواز پر حورین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ۔۔۔۔


" جب دس سال پہلے مجھے چھوڑ ہی گئے تھے تو اب مجھے طلاق بھی دے دیں مسٹر زاویار شاہ! "حورین کی سخت آواز پر زاویار شاہ کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا چمچ وہیں رک گیا۔ ڈائٹنگ ٹیبل پر بیٹھے تمام افراد نے ایک ساتھ گردن موڑ کر حورین کو دیکھا۔ کسی کے چہرے پر حیرت تھی، کسی پر خوف اور کسی کی آنکھوں میں ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ اس تماشے کا مدت سے انتظار کر رہا ہو۔۔ مگر زاویار شاہ۔۔۔ وہ صرف حورین کو دیکھ رہا تھا۔ دس سال بعد پہلی مرتبہ۔۔۔ وہی چہرہ جسے اس نے آخری مرتبہ نو سال کی ایک معصوم بچی کے روپ میں دیکھا تھا۔۔۔


اور آج۔۔۔۔ آج اس کے سامنے ایک باوقار، خوبصورت اور خوددار لڑکی کھڑی تھی۔ لمبے سیاہ بال، بڑی بڑی آنکھیں، جن میں اس وقت غصہ بھرا ہو اتھا، اور ماتھے پر بکھری چند لٹیں اس کے چہرےکی سنجیدگی کو مزید نمایاں کر رہی تھیں۔ زاویار نے آہستہ سے چمچ پلیٹ میں رکھا۔ "کیا کہا تم نے؟۔۔۔" اس کی آواز بہت پر سکون تھی۔ حورین نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ " میں نے کہا، طلاق چاہیے مجھے آپ سے۔" کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ دس سال پہلے زبردستی کیے گئے اس نکاح کا رشتہ آج پہلی مرتبہ کسی نے اس طرح سب کے سامنے چھیڑ ا تھا۔۔۔۔


 حورین کے لیے یہ صرف ایک رشتہ نہیں تھا۔ یہ دس سال پرانا بوجھ تھا۔ ایک ایسا بوجھ جو اس نے بچپن سے اپنے کندھوں پر اٹھایا تھا۔ اور اس بوجھ کے ساتھ بے شمار تلخ یادیں بھی تھیں۔ دس سال پہلے۔۔۔۔۔" دادا جان! یہ نہیں ہو سکتا " نو سالہ حورین خوف سے روتی ہوئی اپنے دادا کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کی ننھی انگلیاں اس کے دوپٹے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھیں۔ سامنے بیٹھے بزرگ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "بیٹا، میں تمہارا برا نہیں چاہتا۔ " "تو پھر مجھ سے یہ سب کیوں کروار ہے رہیں؟" حورین کی آواز روتے روتے ٹوٹ گئی۔ کمرے کے دوسرے کونے میں ایک دس سالہ لڑکا غصے سے کھڑا تھا۔۔۔۔


زاویار شاہ۔ وہ بھی اس نکاح کے خلاف تھا۔ "کیا یہ سب مزاق ہو رہا ہے ہماری زندگیوں کے ساتھ ؟ میں یہ شادی نہیں کروں گا!" اس نے غصے سے کہا۔ اس کے والد نے اسے ڈانٹنے کی کوشش کی۔ "زاویار ! " " نہیں ابو! میں نہیں کروں گا۔ مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں! ہم دونوں ابھی ان سب چیزوں کے لئے بہت چھوٹے ہیں اور اسے دیکھیں کتنی نا سمجھ ہے۔۔۔" زاویار نے غصے سے حورین کی طرف دیکھا۔ دادا جان نے تھکی ہوئی آواز میں کہا، "تم ابھی بچے ہو، تمہیں سمجھ نہیں۔ یہ میں تم دونوں کی بھلائی کے لئے ہی کر رہا ہوں خاص طور پر حورین۔   " دادا کی آواز میں غم چھپا تھا جو زاویا کو ابھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔


" مجھے اتنا ضرور سمجھ آرہا ہے کہ میری مرضی کے بغیر میری زندگی کا فیصلہ کیا جارہا ہے! " زاویار کی آواز بلند ہوتی گئی۔ حورین ایک طرف کھڑی روتی رہی۔ اسے شادی کا مطلب تک معلوم نہیں تھا۔ وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ آج اسے خوب تیار کیا گیا ہے، بہت سے لوگ گھر میں جمع ہیں اور دادا جان بار بار اسے تسلی دے رہے ہیں۔ مگر وہ کیوں رورہی تھی؟ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔ ننھی کلی جیسے رو رو کر مر جھائے جارہی تھی اسکی معصوم آنکھوں کے موٹے موٹے موتیوں جیسے آنسوں وہاں کوئی دیکھنے والے نہیں تھا۔ حورین کی ماں اس کی پیدائش کے وقت ہی دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔ 


ماں کی ممتا سے محروم ہو جانے کے بعد ننھی حورین

کو اسکے ابو جی نے اسے دونوں کا پیار دیا ماں کی کمی کو پورا کرنے کی کو شش کرتے کرتے کب وہ سایہ بھی حورین سے قدرت نے چھین لیا اس معصوم کو خبر ہی نا ہوئی۔ وہ بھی اس وقت دنیا چھوڑ گیا جب حورین صرف آٹھ سال کی تھی۔ ایک سڑک حادثے نے اس سے اس کا آخری سہارا بھی چھین لیا تھا۔ تب سے اس دنیا میں اگر کوئی اس کا تھا تو وہ صرف اس کا دادا تھا۔ دادا جان نے اسے اپنی جان سے بڑھ کر پالا تھا۔ اس کی ہر خواہش پوری کی۔ اسے کبھی ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ لیکن وقت کسی کے لیے نہیں رکھتا۔ دادا جان کی عمر بڑھ رہی تھی۔۔۔۔


 اور شاید یہی خوف ان کے دل میں گھر کر گیا تھا کہ اگر وہ بھی چلے گئے تو حورین کا کیا ہوگا؟ اسی خوف نے انہیں ایک ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جس نے کئی زندگیاں بدل دیں۔ دادا جان کے بڑے بیٹے شجاع شاہ برسوں سے بیرون ملک رہ رہے تھے۔ وہ اپنی بیوی نائلہ اور اکلوتے بیٹے زاویار کے ساتھ دوسرے شہر میں مقیم تھے۔ دادا جان نے انہیں فورفورا واپس بلایا۔ "شجاع! میں چاہتا ہوں تم سب واپس آجاؤ۔ '' ابو ، اچانک؟ " " ہاں۔" "خیریت ہے ؟" دادا جان نے کچھ لمحے خاموش رہ کر کہا، "میری

طبیعت اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ " یہ سن کر شجاع پریشان ہو گیا۔۔۔۔


" ٹھیک ہے ابو ہم آتے ہیں۔" شجاع اپنے والد کا بہت فرمانبردار بیٹا تھا۔ چند ہی دن بعد وہ اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ آبائی حویلی پہنچ گیا۔ اور پھر وہ فیصلہ سامنے آیا جو کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ حورین اور زاویار کا نکاح۔ زاویار نے انکار کیا۔ نائلہ نے بھی مخالفت کی کافی ناگواری ظاہر کی۔ لیکن دادا جان اپنی ضد پر قائم رہے۔ " میں حورین کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔ " " ابو ، وہ ابھی بچی ہے اور زاویار بھی! " شجاع نے سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر دادا جان کے دل میں ایک ہی خوف تھا۔ "میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے بعد یہ بچی کسی کے رحم و کرم پر ہو۔ " پھر دادا جان کی ضد کے آگے سب ہار گئے اور دونوں کا نکاح ہو گیا۔۔۔۔


حورین کی آنکھوں سے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ اور زاویار اسکے چہرے پر غصہ تھا۔ نکاح کے فوراً بعد وہ اپنے والد کے پاس گیا۔ " میں یہاں ایک دن بھی نہیں رکوں گا۔ " شجاع نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ مگر زاویار نے صاف جواب دیا۔ " مجھے یہ شادی قبول نہیں۔ میں کل ہی واپس جا رہا ہوں۔" دادا جان نے اسے جانے دیا۔ شاید انہیں امید تھی کہ وقت سب کچھ بدل دے گا۔ مگر وقت نے صرف حورین کو بڑا کیا۔ زاویار کو اس کے دل سے نکال دیا۔ اور حورین کے دل میں اس کے لیے نفرت بھر دی۔ کیوں کہ وجہ صرف زاویار کا جانا نہیں تھا بلکہ اسکی تائی کے وہ ظلم تھے جو انہوں نے زاویار کے جانے کے بعد اس معصوم پر کئے جن کا پتہ دادا کو بھی نا چلا۔ دس سال بعد۔۔۔۔۔


 "طلاق چاہیے مجھے آپ سے، مسٹر!" حورین نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ زاویار نے کرسی سے اٹھتے ہوئے اسے غور سے دیکھا۔ " دس سال مجھ سے دور رہیں تو اب بھی آنا نہیں بنا تھا آپ کا۔'' " تمہیں کیا معلوم میں کیوں گیا تھا؟" حورین تلخی سے مسکرائی۔ " مجھے جاننے کی ضرورت بھی نہیں۔ آپ گئے تھے ، بس کافی ہے۔ '' اور اگر میں طلاق نہ دوں؟ "تو میں عدالت جاؤں گی۔''اچھا؟'' " جی۔ '' اور اگر میں عدالت میں بھی نہ آیا؟ '' " پھر میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی کروں گی۔ " حویلی میں بیٹھی نائلہ کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہی نائلہ جو دس سال سے حورین کو اپنی بہو نہیں بلکہ بوجھ سمجھتی آئی تھی۔۔۔


حورین نے اسے دیکھا تو فوراً نگاہیں ہٹالیں۔ زاویار نے یہ سب نوٹ کیا۔ پھر وہ اچانک اپنے دادا کی طرف مڑا۔ " دادا جان ! '' ہاں؟'' آپ رخصتی کی تیاری کریں۔ " حورین کا دل دھک سے رہ گیا۔" کیا؟" زاویار نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سختی تھی۔ " یہ رخصتی مجھے اسی ہفتے کے اندر اندر چاہیے۔'' مگر "حورین کچھ کہتی اس سے پہلے زاویار نے اپنی بات مکمل کی۔ "کسی کا دماغ ٹھکانے لگانا ہے۔۔۔۔ " وہ ایک لمحے کور کا۔ پھر اس کی نگاہ سیدھی حورین پر گئی۔ " اور بڑی شدت سے لگانا ہے۔ "حورین کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔۔۔۔


 اس رات حورین دیر تک سو نہ سکی۔ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھتی رہی۔ دس سال۔ دس سال پہلے ایک اجنبی لڑکے نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ اور آج وہی اجنبی مرد بن کر اس کی زندگی میں واپس آگیا تھا۔ مگر مسئلہ صرف زاویار نہیں تھا۔ اصل مسئلہ نائلہ تھی۔ وہ عورت جس نے حورین کا ان دس سالوں میں جینا مشکل کر دیا تھا۔۔۔" یتیم بچی ہو، اس گھر میں احسان سمجھ کر ہو" یہ جملہ حورین نے نہ جانے کتنی بار سنا تھا۔ کبھی اس کے کپڑے چھپادیے جاتے۔ کبھی کھانا سب کے بعد ملتا۔ کبھی اسے گھر کے کام میں لگادیا جاتا۔۔۔


اور جب وہ پڑھنے بیٹھتی تو نائلہ کہتی، " تمہیں پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے؟ آخر کار کسی گھر کی بہو ہی بننا ہے۔ " حورین چپ رہتی۔ دادا جان جب سامنے ہوتے تو نائلہ اپنا لہجہ بدل لیتی۔ " میں تو حورین کی بھلائی چاہتی ہوں۔ " اور داداجان، جو اپنی پوتی کی آنکھوں میں چھپی تکلیف نہیں پڑھ پاتے تھے، اسے تسلی دے دیتے۔ "بیٹا، نائلہ کا دل برا نہیں۔ "حورین ہمیشہ سوچتی۔۔۔۔۔اگر دل بر انہیں تو تکلیف اتنی کیوں ہے؟ اگلے دن نائلہ نے حورین کو اپنے کمرے میں بلایا۔ "تمہیں رخصتی کا بہت شوق ہے؟ " حورین نے خاموشی سے اسے دیکھا۔ " میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔" "لیکن تم نے طلاق مانگی تھی نا؟" حورین نے حیرت سے اسے دیکھا۔


Story From The Novel


Ten years ago, nine-year-old Hoorain was forcibly married to ten-year-old Zavyar Shah by their grandfather. Neither child wanted the marriage, and Zavyar was furious that his life had been decided without his consent. Soon after the nikah, he left the family home, intending never to return. Hoorain, meanwhile, lost both her parents at a very young age and was raised by her grandfather, who feared what would happen to her after his death. Believing that marrying her to his grandson would secure her future, he remained determined despite Zavyar and his mother Naila's opposition. After Zavyar left, Hoorain was subjected to Naila's cruelty and grew up carrying the emotional burden of a marriage she had never chosen.

Ten years later, Zavyar returns to the haveli, originally intending to divorce Hoorain. But the moment he sees the innocent little girl he once knew transformed into a beautiful, confident and self-respecting young woman, his decision begins to change. During a family meal, Hoorain boldly demands a divorce, bitterly reminding him that he abandoned her for ten years and has no right to return now. Zavyar calmly asks what she will do if he refuses, and Hoorain threatens to take the matter to court. Instead of agreeing to the divorce, Zavyar orders his grandfather to prepare for Hoorain's rukhsati within the same week, declaring that someone needs to be taught a serious lesson. His words leave Hoorain frightened and confused, while Naila's suspicious smile suggests that she may have her own plans.

That night, Hoorain realizes that Zavyar's return has reopened wounds she spent years trying to bury. She remembers how Naila constantly reminded her that she was an orphan living in the house only because of their favor, deprived her of proper food and clothing, burdened her with household chores, and discouraged her education. Hoorain had endured everything silently because her grandfather never saw the truth behind Naila's false kindness. Now, however, Zavyar has returned as a powerful man who seems determined not to let her go. The following day, Naila calls Hoorain to her room and sarcastically asks whether she is excited about her rukhsati, before reminding her that she was the one who demanded a divorce. Hoorain is left wondering what Naila is planning—and why Zavyar, who once walked away from her, is now determined to bring her into his life.

Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post