Sneak Peak From The Novel
" چینج کیوں نہیں کیا ابھی تک؟ اور یہ رونا بند کرو! جا کر منہ دھو لو اور اپنے یہ بال باندھ کر رکھا کرو، آئندہ میرے سامنے کھلے نظر نہ آئیں۔ " لال جوڑے میں ملبوس، زلفیں بکھری ہوئی، اور روئی آنکھیں. اس کا سجا دھجا روپ اس وقت انتہائی حسین لگ رہا تھا۔ حدید شدید نفرت اور غصے کے عالم میں کمرے میں داخل ہوا تھا۔ بکھرے سحر انگیز روپ کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے اپنا سارا غصہ بھول گیا۔ " لالا! پلیز میرا یقین کریں، بڑے تایا میرا سودا کر رہے تھے۔۔۔۔" " بکواس بند کرو اپنی! لالہ نہیں ہوں اب میں تمہارا!۔۔۔۔ " اس کی دھاڑ پر وہ سہم گئی۔ اس کا بڑا تایا زمین کے بدلے سودے میں دے رہا تھا، لیکن بھاگنے کی کوشش میں وہ حدید کے ہاتھ لگ گئی اور مجبوراً حدید کو اس سے نکاح کرنا پڑا۔ "میری نظروں سے دور نہ ہوئیں تو اپنے حقوق ادا کر لوں گا!" وہ اس کے حصار میں تڑپ اٹھی۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا کمرے میں داخل ہو ا تھا۔ زویا نے ایک جھٹکے سے دروازے کی طرف دیکھا،حدید کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ " چینج کیوں نہیں کیا تم نے اب تک؟" ایک لمحے کے لیے اس کی نظریں زویا کے خوبصورت سراپے پر ٹھہر سی گئیں۔ اس کے سیاہ ریشمی بال آبشار کی مانند کمر پر بکھرے ہوئے تھے، لال جوڑے میں وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اس کی روئی روئی آنکھیں اس کے ماتم کی علامت تھیں۔ زویا نے تڑپ کر اسے دیکھا۔ " میری بات سنیں حدید لالا۔۔۔۔" حدید نے ہاتھ اٹھا کر اسے وہیں روک دیا۔ "اپنے بال باندھ کر رکھا کرو، آئندہ میں تمہارے یہ بال کھلے نہ دیکھوں۔ "زویا نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا،اسے تعجب ہوا تھا۔۔۔۔
"میں آپ سے ضروری بات کرنا چاہتی ہوں، حدید لالا پلیز میری بات سنیں۔" اس نے حدید کا بازو تھامنے کی کوشش کی تو حدید نے ایک جھٹکے سے اسے جھٹک دیا۔ " بال باندھو!۔۔۔۔" اس نے چبا چبا کر کہتے ہوئے اسے حکم دیا۔ وہ حدید کا یہ پہلو پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ زویا نے اس کے کہنے پر فورا عمل کیا اور اپنے کھلے بالوں کو جوڑے میں باندھ دیا۔ حدید کے لیے اس کے خوبصورت سراپے اور سحر انگیز بکھرے روپ سے نظریں چرانا مشکل تھا اس نے اپنا رخ پھیر لیا۔ " تایاجان۔۔۔۔ تایا جان آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں، انہوں نے مجھے بیچنے کی کوشش۔۔۔۔"حدید نے ضبط سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔
"خبر دار! خاموش ہو جاؤ! " اس کی آواز کی گھن گرج پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ زویا سہم کر پیچھے ہٹی۔ حدید غصے میں آگے بڑھا۔ وہ شدید نفرت میں مبتلا کمرے میں داخل ہوا تھا مگر اس کا سجا دھجاروپ، اس کی روئی روئی آنکھیں اور اس کا خوبصورت سراپا ایک لمحے کے لیے اس کے غصے کو بھلانے کے لیے کافی تھے۔ " نہیں ہوں میں تمہار ا لالا، سمجھ گئی تم؟" اس نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھا اور اپنی آنکھیں زویا کی آنکھوں میں گاڑھ دیں۔۔۔۔
زویا کا دل زور سے دھڑکا، اس کا دل پسلی توڑ کر باہر نکلنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔" اور آئندہ اگر تم مجھے اس حلیے میں دوبارہ دکھائی دیں تو پھر میں بھول جاؤں گا کہ ہمارا نکاح کس بنیاد پر ہوا ہے۔" اس کے کان کے قریب جھک کر چبا چبا کر کہتا وہ زویا کے ہوش اڑا گیا تھا۔۔۔ پنی بات مکمل کر کے وہ پلٹا ہی تھا کہ زویا نے ایک بار پھر ہمت کی۔ " میں سچ کہہ رہی ہوں، میں جھوٹ نہیں بول رہی! انہوں نے میرا سودا کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔" حدید نے اس کی کلائی اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے کر اسے اس زور سے خود کی طرف کھینچا کہ وہ اس کے سینے سے جالگی۔۔۔
حدید نے اس کے بکھرے بالوں کی لٹوں کو کان کے پیچھے کیا۔ زویا پھٹی پھٹی نگاہوں سے اس کی اس بے باک جسارت کو دیکھنے لگی۔ " اب اگر تم میری نظروں سے دور نہ ہوئیں یا اپنی آواز بند نہ کی، تو پھر جو نہ میں کروں گا اس کی ذمہ دار تم خود ہو گی۔ اگر تم اب خاموش نہ ہوئیں تو میں اس رشتے کا اصل حق ادا کر دوں گا"حدید کی بات نے زویا کے تن بدن میں آگ لگادی تھی مگر وہ اس کی دھمکی کے آگے مجبور ہو گئی۔۔۔۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ اس کی گرفت میں بری طرح مچلنے لگی۔" چھوڑدیں مجھے! " حدید نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو وہ دور ہوئی۔ "تمہیں کیا لگتا ہے، میں تمہاری ان باتوں میں آجاؤں گا؟ تم پر رحم کھاؤں گا اور تایا جان کے خلاف کھڑا ہو جاؤں گا؟" وہ تلخی سے ہنسا تھا۔ "ہر گز نہیں! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ میں ان پر آنکھ بند کر کے یقین کر سکتا ہوں جبکہ تمہاری سرگرمیاں تو پہلے ہی مشکوک تھیں۔۔۔۔" وہ سرد لہجے میں کہتا پاس رکھے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔
" کیا میں نے تمہیں فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا؟ " وہ اب باری باری اس کی سرگرمیاں گنوانے لگا۔ زویا سامنے رکھی کرسی پر ڈھ جانے والے انداز میں بیٹھ گئی۔ اس کا دوپٹہ اس کے قدموں میں رول رہا تھا۔ " یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔" وہ سسکی۔ " تو کیا یہ بھی جھوٹ تھا جب اپنی دوست شہرین کی برتھ ڈے سے واپسی پر تم کسی مرد کے ساتھ آئی تھیں؟ کیا یہ وہی مر د تھا جس کے لیے تم گھر سے بھاگی تھیں؟ " حدید کے الزام پر وہ تڑپی تھی۔۔۔۔
کچھ کہنے کے لیے اس نے لب وا کیے ہی تھے کہ حدید نے ہاتھ اٹھا کر اسے وہیں روک دیا تھا۔ " میں اب مزید تمہاری کوئی بکواس برداشت نہیں کروں گا! تمہاری فطرت میں ڈسنا لکھا ہے سو تم نے اس خاندان کو ڈس لیا، مگر اب تم حدید کے نکاح میں و ہو اور حدید حسان تم سے تمہارے ایک ایک گناہ کا حساب لے گا۔ " انگلی اٹھا کر اسے وار ننگ دینے والے انداز میں کہتا وہ اس کے پورے وجود میں سنسناہٹ دوڑا گیا تھا۔ " اب جاؤ، جاکر چینج کرو اور اپنی بربادی کے دن گننا شروع کردو! " حدید اسے دھمکی دیتا اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
زویا نے اپنی نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا اور پھر کرسی پر پاؤں اوپر کر کے، گھٹنوں کے گرد بازو لیے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ "میر اقصور کیا ہے؟ مجھے صرف اتنا بتادیں۔۔۔۔ کیا میرا قصور محبت ہے؟" اس نے خود سے سوال کیا تھا مگر کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اگلی صبح حدید کی آنکھ کھلی تو وہ گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ زویا کو ڈانٹ کر گیسٹ ہاؤس میں آگیا تھا، اسے خود بھی معلوم نہ ہوا اور وہیں اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ وہ جسے اپنے کمرے کے بغیر نیند تک نہیں آتی تھی، غصے میں وہ سب بھول گیا تھا۔ تب ہی اسے ہسپتال سے کال آئی تھی کہ تایا جان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ حدید کے ماتھے پر بل پڑے۔ وہ چھلانگ لگا کر اپنی جگہ کھڑا ہوا اور منہ ہاتھ دھو کر انہی کپڑوں میں باہر نکل آیا۔۔۔۔۔
Story From The Novel
Zoya is dressed in a beautiful red bridal outfit, with her long black hair left open and tears in her eyes. Hadeed enters the room furious, believing that Zoya has betrayed his family. In reality, her elder uncle had been trying to trade her away in exchange for land, and while attempting to escape, she ended up in Hadeed’s hands. Circumstances forced Hadeed to marry her, but instead of believing her, he treats her harshly and tells her that she is no longer his “little sister” or someone he can trust.
Zoya desperately tries to explain that her uncle is lying and that she was being sold, but Hadeed refuses to listen. He accuses her of secretly talking to a man and questions her return from her friend Shehreen’s birthday with another man. Zoya insists that everything is a misunderstanding, but Hadeed believes her actions have brought shame and betrayal upon his family. In anger, he warns her that she will have to face the consequences of what he believes she has done and orders her to change her clothes and accept her fate.
After Hadeed leaves, Zoya breaks down completely, wondering what her crime is and whether simply loving someone has become her greatest mistake. Meanwhile, Hadeed spends the night at a guest house after leaving her in anger. The next morning, he receives a call from the hospital informing him that his uncle’s condition has become critical. Although he had been consumed by anger toward Zoya, the news immediately changes his priorities. He quickly washes up and rushes to the hospital, unaware that the truth about Zoya’s situation may soon change everything he believes about her.Download Novel By Clicking Download Button Below
