Sneak Peak From The Novel
" میں قرآن کی قسم کھاتی ہوں داجی۔۔۔ میں کنواری ہوں مجھے کسی بھی مرد نے آج تک نہیں چھوا " حویلی کے فرش پر گری وہ اپنی پاک دامنی کا ثبوت دے رہی تھی لیکن کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں تھا کیونکہ رپورٹس کے مطابق وہ حاملہ تھی۔ تبھی مجمعے کو چیرتے ہوئے ازلان شاہ اندر داخل ہوا اور اس پر اپنی چادر ڈال دی۔۔ " اب کوئی بھی اس لڑکی کو بد کردار نہیں کہے گا ورنہ میں اس کی زبان کاٹ لوں گا کیونکہ یہ بچہ میرا ہے۔۔" مدیحہ نے حیرت سے پلٹتے ہوئے ازلان شاہ کی جانب دیکھا؟۔۔۔۔
وہ اس وقت پر سکون انداز میں اپنے کمرے میں لیٹی ناول پڑھ رہی تھی۔ رات کے تقریبا گیارہ بجے کا وقت تھا اور حویلی میں گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔ ڈھیلی ڈھالی شرٹ اور ٹراؤزر میں وہ بہت پر سکون ہو کر ناول کو انہماک سے پڑھ رہی تھی جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔اس نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا دل میں ہلکی سی ہلچل مچی تھی۔ ابھی چند دن ہی ہوئے تھے اسے اس کمرے میں رہتے ہوئے کمرہ اس کے دادا کا تھا جو تقریبا دو سال سے کسی کے بھی زیر استعمال نہیں تھا اور اس نے اب ارادہ کیا کہ وہ دادا کے کمرے میں مستقل طور پر رہے گی۔۔۔۔
گھر کے بڑوں نے اسے منع بھی کیا کیونکہ اس کمرے کے حوالے سے کافی خدشات پھیلے ہوئے تھے لیکن ان چند دنوں میں اس نے ایسا کچھ بھی نہیں دیکھا تھا سو اب وہ کافی پر سکون تھی۔ ایک بار پھر دروازے پر ہونے والی ہلکی سی دستک اسے خیالوں اور خدشوں سے کھینچ کر باہر لے آئی اور وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ اٹھی۔ بڑی بڑی آنکھوں میں ہلکا ہلکا خوف پھیلا ہوا تھا لیکن وہ خود کو بزدل ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے آہستگی سے قدم اٹھا کر دروازے کی جانب بڑی اور پھر ہلکے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں سے دروازہ کھول دیا جب باہر کھڑے اذلان شاہ پر نظر پڑتے ہی اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔۔۔
" میرے خیال میں تم ابھی تک سوئی نہیں تھی لیکن پھر بھی اتنی دیر لگا دی تم نے دروازہ کھولنے میں ۔۔" وہ آج بھی مکمل سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بول رہا تھا اور مدیحہ نے اپنے لبوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے اس کی آنکھوں میں جھانک کر نظروں کو جھکا لیا۔ یہ شخص بھی کسی جن بھوت سے کم نہیں ہر وقت کا روعب اور غصہ وہ ہلکی سی بڑبڑاہٹ کے ساتھ خود سے ہی مخاطب تھی جب ازلان نے بھنویں آچکا کر اسے دیکھا۔۔۔
" کچھ کہہ رہی ہو تم ۔۔۔؟؟" " نہیں تو آپ یہاں پر اس وقت کوئی کام تھا آپ کو؟؟ " وہ جلدی سے خود پر قابو پاتے ہوئے اس سے مخاطب ہوئی۔۔ ورنہ وہ جانتی تھی کہ مقابل کا غصہ ایک بار پھر اپنے عروج پر چلا جائے گا۔ اپنی شان میں وہ کسی کی ہلکی پھلکی گستاخی بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ " مما کی طبیعت کافی خراب رہی ہے اور شاید آج تم نے ان سے ملاقات نہیں کی اس لیے تمہیں اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں۔" تایا جان کی فیملی حویلی کے دوسرے پورشن میں مقیم تھی جہاں وہ ہر روز ہی تائی کی عیادت کے لیے جاتی کیونکہ ان کی طبیعت کافی دنوں سے خراب رہنے لگی تھی۔
آج پورا دن گزر گیا لیکن وہ تایا کے پورشن میں نہیں گئی وجہ یہ تھی کہ وہ تھی کہ آج ازلان شاہ گھر پر تھا اور اس کی توقع کے عین مطابق تائی نے اسے طلب کر لیا۔ " اگر تائی کی طبیعت خراب تھی تو آپ ان کے پاس رک جاتے " اس نے بالکل دھیمے لہجے میں کہا جب کہ مقابل نے گہری نظروں سے اسے دیکھا اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے وہ اس پر طنز کر رہی ہے۔۔ " میرے خیال میں جو باتیں تم ان سے کرتی ہو وہ میں نہیں کر سکتا اور ویسے بھی اگر تمہیں اب وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تمہیں مما سے اتنا کلوز نہیں ہونا تھا۔" اس کی ہلکی پھلکی بات کے جواب میں بھی اسنے اچھا خاصا لیکچر دے دیا جو مقابل کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔
اپنے لب کچلتے ہوئے وہ کچھ بھی نہیں کہہ پائی۔ " جی میں ابھی کچھ دیر میں آتی ہوں۔۔۔۔" وہ نرمی سے کہتے ہوئے پلٹ گئی جب اذلان بھی اس کی جانب سے مثبت جواب سن کر مطمئن ہو کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
پرینسی رپورٹ پوزیٹو تھی۔ اس کے ہاتھ مسلسل کپکپا رہے تھے جبکہ ازلان کے الفاظ ابھی بھی اس کے کانوں میں گردش کر رہے بچہ اس کا ہے اور پھر اس کا ہارتا ہوا باپ اور سب کی نظروں میں پھیلی ہوئی بے یقینی اسے پل پل مار رہی تھی اس نے آج تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا لیکن اس کے باوجود اس کے مقدر میں صرف اور صرف ذلالت آئی ایک بار پھر شدت سے روتے ہوئے اس نے اپنا سر گھٹنوں پر ٹکا لیا کسی اور کے نہ صحیح اسے ایک بار ازلان شاہ کے دماغ سے وہ بد گمانی نکالنی تھی۔۔۔
اسے ایک بار اس سے بات کر لینی چاہیےتھی اور اسے یقین تھا کہ وہ اس کی بات ضرور سنے گا اپنے سر پر دوپٹہ لیتے ہوئے وہ آہستگی سے کمرے سے نکل کر ازلان کے کمرے میں چلی گئی جس کا دروازہ ہاتھ لگاتے ہی کھل گیا وہ کمرے میں موجود نہیں تھا شاید وہ اس وقت ٹیرس پر تھا اس کا دل عجیب و غریب انداز میں دھڑک رہا تھا اور خوف کی شدت کے باعث اس کے ہاتھ مسلسل کپکپا رہے تھے لیکن ازلان سے بات کرنا ضروری تھی اسی لیے وہ اس کے پیچھے ہی ٹیرس پر چلی آئی۔ آج ان سب کی نظروں میں ہارتا ہوا مان دیکھ کر اس نے اس کی عزت رکھ لی۔۔۔۔
اس کا بھرم رکھتے ہوئے اس بچے کو اپنا نام دے دیا لیکن اس وقت اس کے دل کی جو حالت تھی۔ اس حالت سے کوئی بھی واقف نہیں تھا ایک ایسی لڑکی جس سے اس نے بے پناہ معصوم سمجھتے ہوئے اپنے دل میں جگہ دی اور اس کے لیے اپنے دل میں جذبات پیدا کیے آج اس کے لیے جس قدر بدنامی کا باعث بنی تھی۔۔ وہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا کمرے میں آتے ہی اس کا دم گٹھنے لگا وہ جس قدر وحشت محسوس کر رہا تھا شاید کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا اور تب سے سگریٹ اٹھائے وہ ٹیرس پر اپنے ذہن میں چلتی ہوئی الجھنوں سے لڑ رہا تھا جب اسے اپنی پشت پر قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی اور اس نے پلٹ کر دیکھا اس کے پیچھے ہی وہ سیاہ دوپٹے کے حالے میں اپنا معصوم چہرہ چھپائے کھڑی تھی جس کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھی۔
ایک پل کے لیے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں رحم اتر آیا لیکن پھر اس کی حقیقت جان کر وہ بے رحم بنتے ہوئے رخ پھیر چکا تھا جب اسے یوں بدگمانی سے نظریں پھیرتے ہوئے دیکھ کر وہ بے یقینی سے اس کے قریب کھڑی ہو گئی۔ " کیا مجھ پر اعتماد نہیں کرتے کیا آپ کو بھی لگتا؟؟۔۔۔۔" اور مقابل نے اس کی بات کاٹ دی وہ شاید پہلے ہی غصے سے تپا ہوا تھا اور اس کا کمرے میں آنا اسے مزید وحشت زدہ بنا رہا تھا۔۔ " اپنے کمرے میں چلی جاؤ مدیحہ اس سے پہلے کہ میں تمہیں یہیں سے اٹھا کر نیچے پھینک دوں۔۔۔" وہ اس کی آنکھوں میں موجود سرخ ڈوروں کو دیکھ کر گھبرا گئی۔۔
بے اختیاری دو قدم پیچھے اٹھاتے ہوئے وہ اس سے دور ہو گئی تھی۔ اسے تو یہ لگ رہا تھا کہ وہ اس پر اعتماد کرتا ہے اور اج اسی اعتماد کی وجہ سے بھری محفل میں اس کے ساتھ کھڑا رہا لیکن اس وقت اس کی آنکھوں میں شک اور بے یقینی دیکھ کر وہ ٹوٹ چکی تھی " ایسا کچھ نہیں ہے میں بالکل بےگناہ ہوں۔" " میں نے کہا چلی جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔ " وہ اتنی شدت سے دھاڑا کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے دوڑ کر اس کے کمرے سے نکلتی چلی گئی۔ اپنے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹتے ہوئے وہ شدت سے رو پڑی تھی اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس کی آنے والی زندگی میں کس قدرزہر گھولا جا چکا ہے۔۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ سب کچھ ہو کیا رہا ہے کوئی بھی اس کی بات پر یقین کیوں نہیں کر رہا ۔۔۔؟؟؟
Story From The Novel
Madiha is publicly accused of having an immoral relationship after a medical report reveals that she is pregnant, despite her desperate claim that she is still a virgin and has never been touched by any man. Humiliated and heartbroken, she falls to the floor of the haveli, swearing before her family that she is innocent. When everyone refuses to believe her, Azlan Shah suddenly steps into the gathering, covers her with his shawl, and declares that no one will dare call her characterless because the child is his. Madiha is stunned by his words, unable to understand why Azlan would take such a responsibility upon himself.
Only a few days earlier, Madiha had moved into her grandfather’s abandoned room in the haveli. Despite the elders warning her about strange rumors surrounding the room, she had found nothing frightening there and had begun feeling comfortable. One night, Azlan comes to her door and tells her that his mother is unwell and wants to see her. Their conversation turns tense when Madiha innocently suggests that he should have stayed with his mother, prompting Azlan to lecture her about becoming too close to her. Although she is intimidated by his stern personality, she agrees to visit his mother. Later, everything changes when the pregnancy report comes out. While the entire family looks at Madiha with suspicion and disappointment, Azlan unexpectedly protects her honor by claiming the unborn child as his own.
After the gathering, Madiha is desperate to clear the misunderstanding in Azlan’s mind. She goes to his room and eventually finds him on the terrace, struggling with his own emotions. Although Azlan once considered her innocent and had developed deep feelings for her, the pregnancy has shattered his trust and left him feeling betrayed and humiliated. When Madiha approaches him with tears in her eyes and asks whether he truly does not trust her, Azlan coldly orders her to leave, threatening to throw her off the terrace if she refuses. Completely broken by his reaction, Madiha returns to her room and sobs uncontrollably, unable to understand why no one believes her innocence. Meanwhile, Azlan remains trapped between his feelings for the girl he once trusted and the painful belief that she has deceived him.
Download Novel By Clicking Download Button Below

Or bhi h agy kya h to snd kr dain please
ReplyDelete