" کس گدھے نے میرے لیپ ٹاپ کا چارجر اتارا ہے؟ ہمت ہے تو میرے سامنے آئے۔" سب کزنز بارات کی تیاریاں کر رہے تھے مگر ایمن انٹرویو کی تیاری میں مصروف تھی۔ دو گھنٹے پہلے وہ لیپ ٹاپ چار جنگ پر لگا کر گئی مگر واپس آئی تو وہاں کسی اور کا لیپ لگا دیکھ کر جل بھن گئی۔ اتنے میں شامیر اپنا لیپ ٹاپ لینے وہاں پہنچا۔" او مسٹر! یہ حرکت تم نے کی ہے؟۔۔۔ " " ای ایم ریلی سوری لیکن۔۔۔۔۔" " بس یونانی بندر! تم یہاں مہمان نہ ہوتے تو میں تمہارا سر پھاڑ دیتی۔" وہ جوتے چٹائی جا چکی تھی۔ اگلے دن انٹرویو کے لیے ہیڈ افس پہنچی تو شاہ میر کو باس چیئر پر دیکھ حواس باختہ ہوئی۔۔ " آپ یونانی بندروں کے بارے میں کیا جانتی ہیں؟۔۔۔ " وہ اسکی گھبراہٹ سے محظوظ ہوتے بظاہر سنجیدگی سے بولا۔
حویلی کا صحن مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور ڈھولک کی تھاپ پر گاتی لڑکیوں کے قہقہے فضا میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے مگر برآمدے کے سب سے آخری کونے والے کمرے میں ایمن اپنے کانوں پر مضبوطی سے ہاتھ دھرے لیپ ٹاپ کی روشنی میں گم تھی۔" ایمن او ایمن یار یہ جوڑا تو دیکھو کتنا شاندار کام ہے اس پر یہ تم پہن رہی ہو یا میں پہن لوں؟۔۔۔ "سارہ نے کمرے کا دروازہ کسی طوفان کی طرح کھولا اور اپنی چہکتی آواز سے کمرے کا سکون غارت کر دیا۔ " جو مرضی کرو سارہ بس ابھی میرا سر نہ کھاؤ تمہیں اندازہ بھی ہے کل میر گروپ آف انڈسٹریز میں میرا انٹرویو ہے؟ یہ میرے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔۔۔ " ایمن نے نظریں سکرین سے ہٹائے بغیر جھنجھلا کر جواب دیا۔۔۔
" توبہ ہے میر گروپ والے کیا انسانوں کو کچا چبا جاتے ہیں۔۔۔" سارہ نے صوفے پر ڈھیر ہوتے ہوئے اس سے پوچھا "چیا جائیں یا نگل لیں مجھے پرواہ نہیں۔ مجھے یہ جاب ہر حال میں چاہیے سارہ۔۔۔ مجھے اپنی پہچان بنانی ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے ہیں۔ مجھے خود مختار بننا ہے۔ اچھا بابا! لگی رہو تم اپنے اس لیپ ٹاپ کے ساتھ۔ میں جا رہی ہوں ہلدی اور ابٹن کی رسم کی تیاری کرنے۔۔۔" سارہ نے ناک چڑھائی اور پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ایمن نے ایک لمبی سانس لی۔۔۔۔
اس کی نظر بیٹری کے نشان پر پڑی جو سرخ ہوکر آخری سانسیں لے رہا تھا۔ " صرف دس فیصد؟ یا اللہ ابھی تو بہت تیاری باقی ہے۔" اس نے جلدی سے چارجر پلگ میں لگایا۔ "چلو! دو گھنٹے میں یہ فل ہو جائے گا، تب تک میں بھی باہر جاکر تیار ہو جاتی ہوں۔۔۔ "وہ مطمئن ہو کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ دو گھنٹے گزرے تو وہ ہانپتی کانپتی واپس آئی تاکہ اپنی بقیہ تیاری مکمل کر سکے۔ مگر جیسے ہی اس کی نظر میز پر پڑی اس کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ چار جنگ پورٹ میں اس کا چارجر نہیں، بلکہ ایک اور چمکتا ہوا لیپ ٹاپ لگا ہوا تھا، جبکہ اس کا اپنا چارجر بےدردی سے نکال کر ٹیبل پر پھینک دیا گیا تھا۔
"کس گدھے نے میرے لیپ ٹاپ کا چارجر اتارا ہے؟ کس کی شامت آئی ہے؟ ہمت ہے تو میرے سامنے آئے!" ایمن کا غصہ کمرے کی دیواروں سے ٹکراتا ہوا حویلی میں گونج اٹھا تھا اس کے چہرے کی سرخی بتا رہی تھی کہ اس وقت کسی کو بھی کچا چبانے کے لیے تیار ہے۔ وہ ابھی اپنا غصہ لفظوں میں ڈھال ہی رہی تھی کہ ایک طویل قامت اور سنجیدہ صورت والا نوجوان بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا اطمینان سے کمرے میں داخل ہوا۔ " آئی ایم سوری میرا لیپ ٹاپ بالکل ڈیڈ ہو رہا تھا اور مجھے ایک انتہائی ضروری فائل میل کرنی تھی اس لیے میں نے آپ کا چارجر ہٹا کر اپنا لگا لیا۔۔۔"
" اومسٹر یہ حرکت تم نے کی ہے؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا ہے؟ میری کل کے انٹرویو کی پوری تیاری کا ستیاناس کر دیا تم نے۔۔۔" ایمن نے اس کی بات کاٹتے ہوئے انگلی اٹھا کر اسے خبر دار کیا۔ " دیکھیں میں نے معذرت کی ہے نا بس پانچ منٹ کی بات تھی۔۔۔۔" شاہ میر نے اس کی بد تمیزی پر اپنی بھنویں سکیڑیں۔ " بس بس زیادہ صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے یونانی بندر اگر تم یہاں مہمان نہ ہوتے تو میں ابھی تمہارا سر پھاڑ دیتی۔۔۔۔۔ تمیز نام کی کوئی چیز چھو کر بھی نہیں گزری تم جیسے مغرور لوگوں کو۔۔۔۔ " ایمن نے جھک کر اپنا چارجر فرش سے اٹھایا اور اسے کسی قیمتی متاع کی طرح جھاڑنے لگی۔۔۔
" معاف کیجیے گا یونانی بندر؟ آپ کی الفاظ کی چوائس کافی عجیب ہے اور یہاں پر قابض ہونے سے پہلے شاید آپ بھول رہی ہیں کہ آپ بھی یہاں پر مہمان ہی ہیں۔" شاہ میر نے ابرو اچکا کر اسے جتایا۔ " کل اگر میں انٹرویو میں فیل ہوئی تو اس کے ذمہ دار صرف تم اور تمہارا یہ بدصورت لیپ ٹاپ ہوگا۔۔۔ " ایمن نے غصے سے پیر پٹخا۔ "بدصورت؟ آپ کو پتہ بھی ہے یہ لیٹسٹ ماڈل ہے؟ اور رہا یونانی بندر کا خطاب تو آپ کی نالج میں اضافہ کر دوں کہ ایسی کوئی نسل نہیں پائی جاتی۔" شاہ میر کے لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ ابھری جو ایمن کے تن بدن میں آگ لگا گئی۔۔۔
" تمہاری یہ تھوپڑی دیکھ کر لگتا ہے کہ تم یونان کے جنگلوں سے ہی بھاگ کر آئے ہو اب دفع ہو جاؤ یہاں سے اس سے پہلے کہ میں اپنا جوتا اٹھا لوں۔" ایمن نے اپنا جوتا فرش پر زور سے چٹھایا۔ شاہ میر اسے ایک گہری نظر سے دیکھتا ہوا خاموشی سے اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر باہر نکل گیا۔ ایمن پیچھے کھڑی ابھی تک اسے کوس رہی تھی جبکہ حویلی کی فضا میں شادی کے نغمے ابھی بھی گونج رہے تھے وہ اپنا لیپ ٹاپ دوبارہ چارجنگ پہ لگا کر حویلی کے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
وہ ابھی اپنی سوچوں میں تھی کے اس کا نام پکارا گیا "مس ایمن آپ کی باری ہے باس آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔" ایمن کا دل زور سے دھڑکنے لگا اس نے کاغذات کو مضبوطی سے تھاما اور اس بڑے دروازے کی طرف بڑھ گئی جس کے پیچھے اس کی تقدیر کا فیصلہ چھپا تھا اسے نہیں معلوم تھا کہ کرسی پربیٹھا شخص اس کے لیے کتنا بڑا سرپرائز ثابت ہونے والا ہے وہ بس اپنی پوری ہمت جمع کر کے قدم آگے بڑھا رہی تھی اسے بس آج اپنا آپ ثابت کرنا تھا اور اس چکا چوند میں اپنی جگہ بنانی تھی چاہے اس کے لیے اسے کتنے ہی پاپڑ کیوں نہ بیلنے پڑیں۔۔۔
اس نے دروازے پر دستک دی اور اندر سے آنے والی ایک جانی پہچانی بھاری آواز نے اسے مزید چونکا دیا ایمن نے ہینڈل گھمایا اور اندر قدم رکھتے ہی جیسے اس کے پیر زمین میں گڑھ گئے سامنے وہی شخص تھا جس سے وہ رات حویلی میں بری طرح لڑ چکی تھی اور اسے یونانی بندر کہہ کر آئی تھی اب وہ وہاں پورے رعب کے ساتھ باس کی کرسی پر براجمان تھا اس کی نظریں ایمن پر پڑیں تو اس کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے دیکھ کر ایمن کو لگا کہ اب اس کا یہاں سے بخیریت نکلنا مشکل ہوگا۔۔۔۔
مگر وہ اب پیچھے نہیں مڑ سکتی تھی اس نے سر اٹھایا اور اس کی نظروں میں نظریں ڈال کر کھڑی ہو گئی اور دل ہی دل میں سوچا " اب جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔۔" " تو مس ایمن یونانی بندروں کے بارے میں آپ کی تحقیق کہاں تک پہنچی ہے؟؟؟ " شاہ میر نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بڑے سکون سے سوال کیا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا پین میز پر ٹک ٹک کرنے لگا ایمن نے ایک لمحے کے لیے زور سے تھوک نگلا اور اپنے مڑے تڑے کاغذات کو میز کے ایک کونے پر ٹکاتے ہوئے بولی " سر دراصل تحقیق تو نہیں لیکن جتنا میں جانتی ہوں وہ علم بھی ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا۔۔۔۔ " شاہ میر نے ایک ابرو اچکایا۔۔۔" اچھا تو ذرا ہمیں بھی اس نایاب علم سے فیضیاب کریں کہ یہ یونانی بندر آخر بلا کیا ہیں؟؟؟ "
ایمن نے گلا صاف کیا اور گویا ہوئی " سر دراصل میرے دادا کے سگے چچا جو کہ اپنے وقت کے بہت بڑے سیاح تھے وہ ایک عرصے تک یونان میں مقیم رہے تھے انہوں نے کہا تھا کہ یونان کے ان علاقوں میں بندروں کی ایک ایسی نسل پائی جاتی تھی جو دیکھنے میں تو بالکل انسانوں جیسی لگتی تھی مگر ان کی خصلت یہ تھی کہ وہ دوسروں کا سامان ادھر ادھر کرنے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے میں ماہر تھے۔۔۔" شاہ میر نے پین کی ٹک ٹک روکی " اچھا تو وہ نسل اب کہاں ہے؟؟ کیونکہ میں تو اکثر یونان جاتا رہتا ہوں مجھے تو ایسا کوئی نمونہ وہاں نظر نہیں آیا۔۔۔۔"
ایمن نے افسوس بھرے لہجے میں سر ہلایا " سر یہی تو المیہ ہے وہ نسل اب بالکل ناپید ہوچکی ہے میرے دادا بتاتے تھے کہ وہ بندر اتنے زیادہ ذہین ہو گئے تھے کہ انہوں
نے خود کو انسانوں کے روپ میں ڈھال لیا اور پھر آہستہ آہستہ وہ معاشرے میں گھل مل گئے شاہ میر نے ایک گہری سانس لی اور کرسی تھوڑی آگے کی طرف جھکائی "مس ایمن آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کا یہ افسانہ کسی سستی فلم کی کہانی سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور آپ یہاں ایک سنجیدہ جاب کے انٹرویو کے لیے آئی ہیں۔۔۔۔"
ایمن نے فورا پینترا بدلا " سر یہ افسانہ نہیں بلکہ تاریخ ہے اور تاریخ ہمیشہ تلخ ہوتی ہے اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کھپے مار رہی ہوں تو آپ میرے دادا کے چچا کی وہ ڈائری منگوا کر دیکھ سکتے ہیں جو اب بھی ہماری حویلی کےد یکھ سکتے ہیں جو اب بھی ہماری حویلی کے پرانے صندوق میں محفوظ ہے۔۔۔ "شاہ میر نے میز پر رکھے ان مڑے تڑے کاغذات کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ " اور وہ ڈائری بھی کیا ان کاغذات کی طرح خستہ حال ہے جو آپ انٹرویو کے لیے لائی ہیں۔۔۔۔" ایمن نے ایک دم اپنے کاغذات کے اوپر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
Story From The Novel
Aiman is determined to get a job at Mir Group of Industries and become financially independent, even though her cousins are busy preparing for a wedding at the haveli. While preparing for her interview, she leaves her laptop charging and goes outside, only to return and discover that someone has unplugged her charger and used it for another laptop. Furious, she confronts the culprit—Shahmeer, a guest at the haveli. Their argument quickly turns hilarious as Aiman calls him a “Greek monkey” and threatens to hit him with her shoe, while Shahmeer calmly mocks her choice of words and points out that he is also a guest there. Neither realizes that their heated encounter is far from over.The next day, Aiman arrives at Mir Group for her interview, nervous but determined to prove herself. However, the moment she enters the boss’s office, she freezes—the man sitting behind the desk is none other than Shahmeer, the same man she insulted the previous night.
Shahmeer recognizes her immediately and, clearly enjoying her discomfort, asks with a straight face, “So, Miss Aiman, how far has your research on Greek monkeys progressed?” Aiman realizes she cannot run away from the interview and decides to face him confidently. When he asks what she knows about these mysterious “Greek monkeys,” she invents an elaborate story about an extinct species in Greece that looked human and was notorious for tampering with other people’s belongings.Instead of backing down, Aiman continues her ridiculous story, claiming that the monkeys eventually became so intelligent that they disguised themselves as humans and blended into society. Shahmeer struggles to remain serious and challenges her story, calling it more like a cheap movie plot than something suitable for a job interview.
Aiman quickly insists that it is actually history and claims her grandfather’s uncle, a famous traveler, documented the species in an old diary still kept in their haveli. Shahmeer then points toward her messy interview papers and sarcastically asks whether the diary is as worn out as the documents she brought with her. Aiman immediately covers the papers with her hand, realizing that her interview has turned into a battle of wit with the very “Greek monkey” she threatened the night before.
Download Novel By Clicking Download Button Below
