My Kind Love By SK Novels - Novelians Library



Sneak Peak From The Novel


" سر مجھے ایک دن کی چھٹی چاہیے میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔" وہ بے حد ڈرتے گھبراتے اپنے پروفیسر کے سامنے بولی تھی جو انتہائی سخت مزاج تھا اور تقریباً وہ ہر روز ہی پوری کلاس کے سامنے اسے کبھی ٹیسٹ غلط ہونے پر تو کبھی اسائنمنٹ مکمل نہ ہونے پر بے عزت کرتا تھا اسے جیسے ذاتی دشمنی تھی اس لڑکی سے۔"نظر تو نہیں آرہا تم بیمار ہو جاؤ تم نے پڑھنا بھی نہیں ہے ماں باپ کے پیسے حرام کرنے آتی ہو" اس کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے وہ یتیم تھی اور اپنا خرچ بھی وہ کپڑے سی کر نکالتی تھی۔ اسے گھر سے نکالنے کی خاطر اس کے چچا نے اس کی شادی رکھ دی تھی اور وہ قیصر جہانگیر سے کہہ نہیں سکتی تھی ورنہ زیادہ بے عزت ہوتی۔


شام میں اس کے گھر رشتے والے آئے تھے وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اسے منانا پڑا تھا وہ چائے لیے باہر آئی تھی لیکن قیصر جہانگیر کو دیکھتے وہ کانپ گئی تھی اس کی اس سے شادی فکس ہو گئی تھی جبکہ وہ بھی اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اس ظالم انسان سے شادی نہیں کر سکتی تھی اقم نے تو کہا تھا۔


ایک ایک کر کے سب اپنا اسائنمنٹ لے کر یہاں آئیں۔ اس نے ماتک لہجے میں بولا تھا اور اسٹوڈنٹس کا سانس خشک ہوا تھا۔ یہاں پر اب وہ جانتے تھے کسی کی ذرا سی غلطی، نقل میچنگ پر کیا ہونا تھا۔ جبکہ انعمتا نے آنکھیں میچی تھیں، اس کا تو کمپلیٹ بھی نہیں تھا کیوں کہ اس پروفیسر سے ہمیشہ سے ڈانٹ پڑتی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سب سے زیادہ وہ اسے ہی ڈانٹتا ہے۔


سب اسٹوڈنٹس باری باری آنے لگے تھے، غلطیاں کرنے والوں کو ڈانٹ کھانی پڑی تھی، انہیں دوبارہ بنانے کو کہا تھا اور جن کے میچ گر گئے تھے، ایک دوسرے سے کاپی کئے تھے ان کے تو وہ پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک چکا تھا۔ کئی لڑکیاں تو رو بھی پڑی تھیں لیکن اسے کون سا کسی کے آنسوؤں سے فرق پڑتا تھا۔ وہ اسٹوڈنٹ تھے اور اس کا کام انہیں صرف پڑھانا تھا۔ اب محبت سے وہ نہ تو انہیں پڑھا سکتا تھا اور نہ سیدھا کر سکتا تھا۔ اس عمر کے بچوں کو ذرا ڈھیل دے دو وہ سر پر چڑھنے لگتے ہیں۔ باقی فرینڈلی پروفیسر کا حال وہ دیکھ چکا تھا، اسے یہ عذاب اپنے سر نہیں چاہیئے تھا، خاص طور پر لڑکیاں جو آنسو بہاتے ایموشنل بلیک میل کرنے کی یا پروفیسر کی طرف اٹریکٹ ہونے کی کوشش کرتی تھیں۔


اب انعمتا کی باری تھی۔ وہ بے حد مشکل سے اپنا اسائنمنٹ لیتے اس کے سامنے آئی تھی۔ چند ہیچ ابھی رہتے تھے مکمل کرنے والے۔ اسے ہمیشہ کی طرح پھر بے عزتی کروانی تھی جس کے لیے اس نے خود کو تیار کیا تھا۔ وہ کوئی نالائق اسٹوڈنٹ نہیں تھی، اچھا خاصی لائق تھی۔ لیکن گھر کے کام کمانے کی مصروفیات میں اس کا کوئی کام کبھی نہ کبھی رہ جاتا تھا اور یہ شخص کسی کو رعایت نہیں بخشتا تھا۔


اس کا اسائنمنٹ پکڑتے قیصر جہانگیر نے دیکھنا شروع کیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح محنت اچھی، شروع میں کافی اچھے سے بنایا گیا تھا، وہ امپریس ہونے ہی لگا تھا کہ آگے وہ ادھورا اور ان کمپلیٹ اسائنمنٹ تھا۔ وہ ایک گہرا سانس بھر گیا تھا۔


"کیا ہے یہ۔۔؟" غصے سے کہتے اس نے اسائنمنٹ اس کے سامنے پٹخا تھا، ایک بار تو وہ کانپ گئی تھی۔ "سر وہ مصروفیات کے باعث ادھورا رہ گیا تھا، میں بنا رہی تھی، بس ایک دن دے دیں کل تک پورا ہو جائے گا۔" وہ بے بسی سے لہجے میں بولی تھی۔


وہ غصے سے اونچی آواز میں بولا تھا اور وہ نظریں جھکا گئی تھی۔ اتنا تو کسی کو نہیں ڈانٹتا تھا جتنی اسے سنا دیتا تھا، پتا نہیں کیا دشمنی تھی اس سے خاص، اسے بھی سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن وہ پروفیسر تھا، ٹیچر تھا، ڈانٹنے کا حق رکھتا تھا۔ اتنی بے عزتی آج کے دن کے لیے کافی تھی۔ گھر اور یہاں دونوں جگہ ہی بے عزتی اس کے مقدر میں لکھی تھی۔


"اسے اٹھاؤ اور جاؤ یہاں سے، دوپہر سے پہلے مجھے یہ اسائنمنٹ کمپلیٹ کر کے دے کر جاؤ گی تم، ورنہ مجھے کل سے میری کلاس میں نظر نہ آؤ۔" اسے بری طرح جھڑکتے اس نے اسائنمنٹ پھینکنے والے انداز میں اس کے سامنے پٹخا تھا اور وہ اٹھاتے ڈر گئی تھی۔ آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں لیکن وہ روئی نہیں تھی۔ خاموشی سے وہ اپنا اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنے بیٹھ گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس کی کلاس کا ٹائم ختم ہوا تھا اور اسٹوڈنٹس نے بے اختیار شکر الحمدللہ کہا تھا۔


دوپہر کے وقت وہ اپنے آفس میں بیٹھا تھا، چھٹی ہو چکی تھی، تقریباً اسٹوڈنٹس گھر جا چکے تھے، وہاں کچھ اور پروفیسر بھی اس کے پاس آئے تھے کسی ضروری کام کے متعلق جب دروازہ کھٹکا تھا۔ اس نے اجازت دی تھی۔ وہ اپنا اسائنمنٹ اٹھائے اندر داخل ہوئی تھی، اس کے سامنے رکھا تھا۔ سب جا چکے تھے لیکن وہ رک کر اس کا اسائنمنٹ مکمل کر رہی تھی۔


"سر کمپلیٹ کر لیا میں نے۔" وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔ قیصر جہانگیر نے اسائنمنٹ اٹھاتے دیکھا تھا، وہ کمپلیٹ تھا۔ "ٹھیک ہے جاؤ، اور آج کے بعد مجھے کوئی ادھورا کام نہ ملے تمہارا، کوئی کام تو وقت پر کر ہی لیا کرو۔" وہ رخت آواز میں بولا تھا اور وہ سر جھکائے چلی گئی تھی۔


اس کے جانے کے بعد باقی پروفیسر نے بھی اسے دیکھا تھا، وہ ایسا ہی تھا سب جانتے تھے۔ "اتنا ڈانٹ دیا اتنی لائق بچی کو خاموخاہ۔" ایک پروفیسر افسوس سے بولا تھا۔ "ہاں اس کے باپ نے میرا قرض دینا ہے نہ اس لیے دشمنی نکالنے کے لیے ڈانٹ دیا، حد ہے۔ بچے کام نہیں کریں گے تو ڈانٹ ہی کھائیں گے۔" وہ سر جھٹکتے دوبارہ پیپر بنانے میں مصروف ہوا تھا۔ "تم بہت زیادہ سخت ہو بچوں کے ساتھ، تمہیں تھوڑا نرمی سے پیش آنا چاہیے۔" ایک نے صلاح دی تھی۔ "ہاں بالکل جیسے آپ لوگ آتے ہیں اور بچے سنتے تک نہیں ہیں، مجھے اپنے سر پہ سردرد نہیں ڈالنا۔ ویسے بھی ہمارا کام پڑھانا ہے، اور بچوں کو پڑھانے کے لیے سخت ہونا پڑتا ہے، جی میرا بچہ پیارا بچہ کر کے ہم پڑھائیں گے۔"


"تو پڑھ لیا بچوں نے بھی اور ہم نے بھی پڑھا لیا۔" جس طرح اکتاہٹ میں وہ بولا تھا پروفیسر ہنس پڑے تھے۔ وہ واقعی پڑھائی کے معاملے میں سخت تھا اور ویسے بھی وہ سنجیدہ رہتا تھا۔ "حد ہے جیسا تمہارا مزاج ہے اور جتنے تم سخت قسم کے انسان ہو، ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ تمہاری شادی بھی ہونی ہے۔ تم اپنی ازدواجی زندگی کیسے گزارو گے؟ بیویاں تو ہلکی سی بھی اونچی یا سخت آواز برداشت نہیں کرتی اور تم ہو کہ نرمی سے بولنا تو آتا ہی نہیں تمہیں۔"


"بیوی سے اونچے یا سخت لہجے میں بات کرنی بھی کیوں ہے؟ وہ بیوی ہے، کوئی غیر یا شاگرد تھوڑی ہے جو اسے بھی باقیوں کی طرح ٹریٹ کیا جائے۔ وہ خاص ہے تو اسے خاص طریقے سے ہی ٹریٹ کیا جائے گا۔ ایک انسان سب کے لیے ایک جیسا تو نہیں ہوتا۔ ویسے بھی کہاں کیسے پیش آنا ہے انسان کو اتنی سینس تو ہونی چاہیے۔" وہ سب کو لا جواب کرنے کا ہنر رکھتا تھا اور وہ خاموش ہوئے تھے، واقعی وہ صحیح تھا۔


"لیکن سر شادی بھی تو سر تب ہی ہوگی جب آپ اپنا مزاج نرم کریں گے۔ جیسے آپ ہیں سر آپ کو جاننے والی کوئی بھی لڑکی آپ کی بیوی بننے کو تیار نہیں ہوگی۔" "مجھے کسی جاننے والی سے کرنا بھی نہیں ہے، میں ارینج میرج کروں گا، گھر والوں کی پسند سے۔" "رائٹ امید کرتے ہیں تمہیں کوئی بالکل تمہاری جیسی ملے، تم ڈیزرو کرتے ہو۔" وہ ایک گہرا سانس لیتے بولے تھے اور یہ دعا تھی۔ اس کے کردار کے گواہ وہ سب تھے اور جتنا خوبصورت کردار اس شخص کا تھا وہ کوئی عام کردار کی لڑکی ڈیزرو بھی نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ کسی فی میل پروفیسر یا کسی لڑکی کو اپنی طرف اٹریکٹ ہونے کا موقع تک نہیں دیتا تھا۔



Story Peak From The Novel


“I need a day’s leave, sir. I’m not feeling well…” she said nervously and fearfully in front of her professor, who was extremely strict. Almost every day, he humiliated her in front of the entire class, sometimes for getting a test wrong and sometimes for failing to complete an assignment. It seemed as though he had a personal grudge against her. “You certainly don’t look sick. You just don’t want to study and come here to waste your parents’ money,” he snapped. Tears filled her eyes. She was an orphan and paid for her own expenses by sewing clothes. Her uncle had arranged her marriage just to get her out of the house, and she couldn’t tell Qaiser Jehangir about it because she feared he would humiliate her even more. That evening, the prospective groom’s family arrived at her house. She didn’t want to marry, but she had no choice but to agree. When she came outside carrying tea and saw Qaiser Jehangir among the guests, she froze in shock. Her marriage had been arranged with him—and he was staring at her too. She couldn’t possibly marry that cruel man. Aqam had told her so.

“One by one, bring your assignments here.” His stern voice made the students hold their breath. Everyone knew what would happen if even the slightest mistake or copying was found. Now it was Inamta’s turn. She nervously brought her assignment to him, already preparing herself for another humiliation. She wasn’t an incompetent student at all; in fact, she was quite capable. But because she was constantly busy with household chores and earning money, one thing or another was always left unfinished. Qaiser Jehangir picked up her assignment and began checking it. The beginning was excellent and clearly showed how hard she had worked. He was almost impressed when he reached the unfinished portion. He took a deep breath. “What is this?” he demanded angrily, slamming the assignment down in front of her. She trembled. “Sir, it remained incomplete because I was busy. I was working on it. Please give me just one day; I’ll finish it by tomorrow.” He angrily scolded her, and she lowered her gaze. He seemed to reprimand her more harshly than anyone else, though she could never understand why. Still, he was her professor, and she believed he had the right to discipline her. “Pick it up and leave. I want this assignment completed and on my desk before noon. Otherwise, don’t show your face in my class from tomorrow.” Her eyes filled with tears, but she refused to cry. She quietly sat down and began completing it. By the time class ended, the students practically whispered a relieved “Alhamdulillah.” At noon, while Qaiser was sitting in his office with some other professors, Inamta knocked on the door. She entered, placed the completed assignment before him, and softly said, “Sir, I’ve completed it.” He checked it and found it complete. “Fine. Go. And from now on, I don’t want to see any incomplete work from you. Try to finish at least one thing on time.” She lowered her head and quietly left.

After she was gone, one of the professors sighed, “You scolded such a capable girl for no reason.” Qaiser shook his head. “What, does her father owe me money? Of course I scolded her just to settle a personal score. The children won’t work unless they’re disciplined.” Another professor advised him to be a little gentler with the students. Qaiser immediately replied, “Yes, just like all of you are gentle and the students don’t listen to you at all. I don’t want a headache on my hands. Our job is to teach them, and sometimes you have to be strict to make them learn. We can’t teach them by saying, ‘My dear child, my sweet child.’” His irritated remark made the others laugh. He really was extremely strict when it came to studies, and he was a serious person in general. One professor teased him, “With the kind of temperament you have, we’re surprised you’re even going to get married. How will you manage married life? Wives can’t even tolerate a slightly raised or harsh voice, and you don’t even know how to speak softly.” Qaiser calmly replied, “Why would I ever speak harshly to my wife? She would be my wife, not a stranger or a student whom I should treat like everyone else. She would be special, so she would be treated specially. A person doesn’t behave the same way with everyone. One should at least have enough sense to know where and how to behave.” His answer left everyone silent. “But sir, you’ll only get married if you soften your temperament. No girl who knows you would agree to become your wife.” “I don’t intend to marry anyone who knows me. I’ll have an arranged marriage, with a girl chosen by my family.” One of them smiled and said, “Right. We hope you find someone exactly like you. You deserve that.” They said it with a deep sigh, almost like a prayer. They had all witnessed his character, and considering how principled and respectable he was, they felt he deserved a girl with equally strong character. He never even gave a female professor or any other girl the slightest opportunity to become attracted to him.



Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD

 

Post a Comment

Previous Post Next Post