Ishq Se Aagage By Shazia Khan - Novelians Library

 



Sneak Peak From The Novel



وہ ڈیڑھ سالہ بچہ مسلسل روئے جا رہا تھا اور اشعر سر پکڑ کے بیٹھا تھا۔ " مجھے دودو پینا ہے۔" وہ پہلی بار لندن سے پاکستان آیا تھا لیکن اس کے جڑواں بھائی کا کار حادثے میں انتقال ہو گیا اور اس کا بچہ اشعر کو ہی اپنا باپ سمجھنے لگا۔ اشعر سے اس افلاطون کو اکیلے سنبھالنا مشکل ہو گیا۔" آغا جان پلیز-- کسی میڈ کا بندوبست کر دیں۔" " سنو-- ایک لڑکی ہے جو بیس گھنٹے بچے کی دیکھ بھال کرے گی۔ پر تمہیں اس سے نکاح کرنا ہوگا۔" " اے لڑکی! ایک بات یاد رکھنا اس بچے کو چوبیس گھنٹے پالنا ہے۔ تم نے-- مجھے شکایت نہ ملے۔" وہ حسین مسکین دوشیزہ اسکے بچے کو پالنے لگی۔ رات گئے اچانک وہ روم میں آیا تو منہا اسے فیڈ کروا رہی تھی۔ " تم--" وہ اچانک اشعر کو دیکھتے بوکھلا گئی۔ اور جلدی سے خود کو--؟

سامنے منہا بیٹھی ہوئی تھی اور برہان اس کی گود میں تھا۔ وہ بچے کو فیڈ کروا رہی تھی۔ اشعر کے چہرے پر پہلے حیرت ابھری پھر اچانک اس کے تاثرات بدل گئے۔"تم یہ کیا کر رہی ہو؟" منہا ایک دم گھبرا گئی۔ اس نے فوراً برہان کو خود سے الگ کیا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی خیال بجلی کی طرح دوڑا۔ "تم پہلے سے شادی شدہ تھیں؟" اس کی آواز غصے سے بھری ہوئی تھی۔

منہا نے کوئی جواب نہیں دیا وہ صرف برہان کو اپنے سینے سے لگائے خاموش بیٹھی رہی۔ اشعر ایک قدم آگے بڑھا۔ "میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے، تم پہلے سے شادی شدہ تھیں؟" اس بار اس کی آواز اور بلند تھی۔ منہا کی نظریں جھکی رہیں لب خاموش رہے۔ اس کے پاس اشعر کے سوال کا جواب نہیں تھا۔

"تم نے مجھ سے یہ بات چھپائی کیوں؟" وہ جو اسے دل سے بیوی کے طور پر قبول کرنے لگا تھا غصے سے بولا۔ "کیا تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا ہے؟ میں نے تمہیں سمجھا تھا کہ تم ایک ایسی لڑکی ہو جس نے آغا جان کے کہنے پر یہ نکاح قبول کیا ہے لیکن تم تو پہلے سے کسی اور کی بیوی تھیں۔" منہا پھر بھی خاموش رہی۔

اشعر کی برداشت جواب دینے لگی۔ "بولو منہا کون تھا وہ تمہارا شوہر؟ کہاں ہے؟ کب شادی ہوئی تھی اور تم نے مجھے یہ بات کیوں نہیں بتائی؟" منہا نے صرف برہان کو مزید مضبوطی سے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اشعر کی نظر اس کے اس انداز پر پڑی تو اس کا غصہ اور بڑھ گیا۔ "میرے سوال کا جواب دو منہا!" اس نے سخت لہجے میں کہا مگر منہا کے لبوں سے پھر بھی کوئی لفظ نہ نکلا۔

"تم خاموش کیوں ہو یا میں یہ سمجھوں کے تم کوئی گناہ..." اشعر تقریباً چیخ پڑا مگر منہا کی بات نے اسے خاموش کر دیا۔ "بس کر دیں خدارا الزام تو نہ لگائیں مجھ پر" وہ روتے ہوئے پہلی بار بولی تھی۔

"اگر کوئی گناہ نہیں کیا تھا تو بول کیوں نہیں رہیں؟ تم نے میرے ساتھ نکاح کیا اور مجھے یہ تک نہیں بتایا کہ تم پہلے سے شادی شدہ تھیں؟ تمہیں ذرا سا بھی احساس نہیں ہوا کہ یہ میرے ساتھ دھوکا ہے؟" منہا کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل رہے تھے مگر وہ پھر خاموش تھی۔ اشعر نے غصے سے ایک قدم پیچھے ہٹایا۔ "مجھے تمہاری یہ خاموشی اور زیادہ پاگل کر رہی ہے۔"

وہ کچھ دیر اسے گھورتا رہا پھر تلخی سے بولا "ٹھیک ہے اگر تم آج جواب نہیں دینا چاہتیں تو مت دو لیکن مجھے سچ جاننا ہے۔" اشعر پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ منہا وہیں بیٹھی برہان کو اپنے سینے سے لگائے روتی رہی۔

اشعر غصے سے کمرے سے نکلا تو اس کے قدم سیدھے آغا جان کے کمرے کی طرف تھے۔ اس نے دروازہ کھولا اور بغیر اجازت اندر داخل ہو گیا۔ آغا جان نے چونک کر اسے دیکھا "کیا ہوا ہے اور کب آئے تم؟"

اشعر نے غصے سے کہا "آپ نے میرے ساتھ یہ کیا ہے آغا جان؟ میں نے آپ پر بھروسہ کیا تھا۔ آپ نے کہا تھا یہ لڑکی اکیلی ہے۔ آپ نے کہا تھا اسے صرف برہان کی دیکھ بھال کے لیے میری زندگی میں لا رہا ہوں لیکن آپ کو معلوم تھا کہ یہ پہلے سے شادی شدہ تھی نا؟ کس بنیاد پر یہ میری زندگی میں شامل ہوئی؟ کس حق سے اس نے میرے ساتھ نکاح کیا؟ آپ نے مجھ سے اتنی بڑی حقیقت چھپائی کیوں؟" غصے سے اس کی ماتھے کی رگیں تن گئی تھی۔

آغا جان نے گہری سانس لی "اشعر پہلے میری بات سنو۔"
"نہیں آغا جان آج میں کچھ نہیں سنوں گا" اشعر نے غصے سے کہا۔ "میں نے اس عورت کو عزت دی اس پر بھروسہ کیا اور یہ مجھے مسلسل دھوکا دیتی رہی۔ میں نے اسے اپنی بیوی سمجھا لیکن اپنا حق استعمال نہیں کیا کیونکہ مجھے لگا تھا وہ صرف برہان کی ذمہ داری کے لیے یہاں آئی ہے لیکن وہ تو پہلے سے کسی اور کی بیوی تھی۔"

آغا جان نے سخت لہجے میں کہا "اشعر اپنی آواز نیچی کرو۔" لیکن اشعر کہاں رکنے والا تھا وہ تو جیسے پورا گھر سر پر اٹھانے پر تلا ہوا تھا۔ تبھی باہر سے منہا کے رونے کی آواز آئی۔ وہ برہان کو سینے سے لگائے کھڑی تھی اور آنسوؤں سے اس کا چہرہ بھیگ چکا تھا۔ اشعر کی نظر اس پر پڑی تو وہ غصے سے اس کے قریب گیا۔

"تم نے مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی؟" منہا نے کوئی جواب نہ دیا وہ صرف برہان کو مضبوطی سے تھامے رہی۔ اشعر نے غصے میں اس کے ہاتھ سے بچے کو الگ کرنا چاہا۔ برہان اچانک زور زور سے رونے لگا اور منہا کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے "ماما ماما" کہنے لگا۔

اشعر کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ "ماما؟" اس نے بے یقینی سے برہان کو دیکھا۔ برہان روتا ہوا دوبارہ منہا کی طرف لپکا اور اس سے لپٹ گیا۔ اشعر کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اس نے آغا جان کی طرف دیکھا پھر منہا کی طرف "ماں" وہ آہستہ سے بولا۔

آغا جان کی آواز میں درد اتر آیا "باز آ جاؤ اشعر ایک ماں..."

Story From The Novel

The one-and-a-half-year-old boy had been crying continuously while Ashar sat there, holding his head in frustration. “I want milk,” the child sobbed. Ashar had come to Pakistan from London for the first time, only to lose his twin brother in a car accident. Since then, his brother’s little son had begun seeing Ashar as his father, and taking care of the child alone had become nearly impossible for him. “Agha Jaan, please… arrange a maid or nanny for me.” The old man looked at him seriously. “Listen. There is a girl who will take care of the child twenty hours a day, but you will have to marry her.” Later, he warned Minha sternly, “Listen carefully. You have to look after this child around the clock. I don’t want a single complaint about you.” The beautiful, helpless girl began raising and caring for his child. Late one night, Ashar suddenly entered the room and froze when he saw Minha sitting there, feeding Burhan. “You…” Minha panicked at the sight of him and quickly tried to cover herself. Ashar’s face first showed surprise, but his expression suddenly hardened. “What are you doing?” Minha immediately pulled Burhan away from herself, completely flustered.

Ashar stepped closer, his voice filled with anger. “Were you already married?” Minha said nothing. She simply held Burhan close to her chest, sitting silently. “I asked you something. Were you already married?” His voice rose, but Minha kept her eyes lowered. She had no answer she could give him. “Why did you hide this from me?” he demanded. He had slowly begun accepting her as his wife, and the revelation felt like a betrayal. “Do you even realize what you’ve done to me? I thought you were a girl who had accepted this marriage only because Agha Jaan asked you to. But you were already someone else’s wife.” Minha remained silent, tears slipping down her cheeks. Ashar’s patience began to run out. “Tell me, Minha! Who was your husband? Where is he? When did you get married, and why didn’t you tell me?” She only tightened her arms around Burhan. “Answer me, Minha!” he snapped. When she still remained silent, he nearly shouted, “Why are you quiet? Should I assume you committed some kind of sin—” “Enough, please! For God’s sake, don’t accuse me!” Minha finally cried out through her tears. Ashar stared at her. “If you did nothing wrong, then why won’t you speak? You married me without even telling me that you had already been married. Don’t you realize that this was a betrayal?” Minha continued crying silently. Ashar stepped back bitterly. “Your silence is driving me insane.” After staring at her for a moment, he finally said, “Fine. If you don’t want to answer today, then don’t. But I need to know the truth.” He turned and walked out, leaving Minha sitting there, holding Burhan tightly against her chest and crying.

Ashar stormed straight toward Agha Jaan’s room. He opened the door and entered without permission. “What happened? And when did you get here?” Agha Jaan asked in surprise. Ashar’s face was burning with anger. “What have you done to me, Agha Jaan? I trusted you! You told me this girl was alone. You said you were bringing her into my life only so she could take care of Burhan. But you knew she had already been married, didn’t you? On what basis did you bring her into my life? With what right did she marry me? Why did you hide such a huge truth from me?” The veins on his forehead stood out with anger. Agha Jaan sighed deeply. “Ashar, listen to me first.” “No, Agha Jaan! I won’t listen to anything today,” Ashar shouted. “I gave that woman respect. I trusted her. I accepted her as my wife, yet I never claimed my rights because I believed she had only come into my life to take responsibility for Burhan. But she was already someone else’s wife!” Agha Jaan sternly told him to lower his voice, but Ashar was too furious to stop. Just then, they heard Minha crying outside. She stood there with Burhan pressed tightly against her chest, tears covering her face. Ashar approached her angrily. “Why did you hide this from me?” Minha remained silent. When he angrily tried to take the child from her arms, Burhan suddenly began crying loudly and stretched his little hands toward Minha. “Mama! Mama!” Ashar froze. “Mama?” he whispered in disbelief. Burhan cried again and clung tightly to Minha. Ashar’s eyes widened. He looked at Agha Jaan, then at Minha. “Mother…” he murmured. Agha Jaan’s voice filled with pain as he said, “Stop, Ashar… a mother…”



Download Novel By Clicking Download Button Below


DOWNLOAD

Post a Comment

Previous Post Next Post