Sneak Peak From The Novel
"لالا آپ کو پتہ ہے کہ میں کیا سوچ رہی تھی" -- واجہا بمشکل ایک ٹانگ پر کھڑی تھی -- وارث غازیان خان جو کہ شلف کے پاس کھڑا بس دیکھ رہا تھا کیونکہ یہ اس کا سٹڈی ٹائم تھا جس میں خلل ڈال کر واجہا نے اپنی شامت کو آواز دے دی تھی -- "نہیں مجھے نہیں جاننا خاموشی سے کھڑی رہو ورنہ سزا میں ایک گھنٹے کا اضافہ کر دوں گا"
یہ سن کر واجہا کی زبان کو بریک لگا -- اگلے ہی پل وہ اچھلتے ہوئے پیچھے موجود دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی ویسے بھی وارث کی اس کی طرف پشت تھے -- "دیوار کا سہارا لیے بغیر سیدھی کھڑی رہو" یہ سنتے ہی واجہا کے وجود کو زوردار جھٹکا لگا
"وارث لالا آج آپ اس بات کا اعتراف کر لیں کہ آپ کوئی اور ہی مخلوق ہے" وہ ایک دم سے جذباتی ہوتے ہوئے اس کی طرف بڑھی اور کمر پر ہاتھ رکھ کر اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی وارث نے ابرو اچکا کر اسے تیکھی نظروں سے گھورا ---- تو واجہا کو شدت سے اپنے الفاظ کی سنگینی کا احساس ہوا
"نہیں وہ میرا کہنے کا مطلب یہ تھا لالا کہ آپ تو جادوگر ہیں آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑی تھی" واجہا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کس طرح سے بات کو کور کریں
"اب تم صبح چار بجے تک دونوں ہاتھ اوپر کر کے باہر لان میں کھڑی رہو گی -- یہ تمہاری سزا ہے" اس کی باتوں کو مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے وہ سپاٹ لہجے میں بولا
"دیکھیں لالا آپ میرے ساتھ یہ ظلم نہیں کر سکتے اتنا ظالم تو چنگیز خان بھی نہیں تھا ارے ہٹلر کے دل میں بھی تھوڑا بہت رحم تھا -- آپ کس پر چلے گئے ہیں میں نے سنا ہے کہ جو لوگ معصوم بچوں پر حد سے زیادہ ظلم کرتے ہیں انہیں کالی بیویاں ملتی ہے ذرا ایک سیکنڈ کو امیجن کیجیے"
*[PART 2]*
"آپ کی شادی کسی افریقن سے ہو جائے آپ کے بچے" -- "بس بہت ہو گیا ہے مزید ایک لفظ بھی اپنے منہ سے نکالا تو زندہ زمین کے اندر دفن کر دوں گا" وارث یکدم ہی چیخا تو واجہا نے سٹپٹاتے ہوئے دوبارہ سے اپنے لبوں پر انگلی رکھ دی تھی لیکن ابھی تک اس کی زبان کو سکون نہیں ملا تھا
باوجود بھی وہ بولے جا رہی تھی -- "آپ غصہ کیوں کر رہے ہیں میں آپ کے لیے خود چاند جیسی بیوی ڈھونڈوں گی پھر آپ کے ابھی چھوٹے سے چنے منے چٹے بچے پیدا ہوں گے" -- اس بار وارث نے اس کے بازو سے اسے پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے حویلی کے پچھلے حصے میں لے کر چلا گیا۔
واجہا کی زبان کو بریک بھی لگ چکی تھی اور اب اسے شدت سے رونا بھی آ رہا تھا "پتہ نہیں کون سا خراب وقت تھا جو میں نے شہر جا کر اعلی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا" -- وہ غصے سے منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہے تھے تبھی وارث کی بھاری مخصوص آواز دوبارہ سے گونجی
"اگر تم صرف اپنی اعلی تعلیم پر توجہ دیتی تو شاید یہ سب کچھ نہ بھگت رہی ہوتی لیکن تمہیں تو پڑھائی کے علاوہ ہر چیز سے دلچسپی ہے" یہ کہہ کر وہ اس کے سامنے کرسی رکھ کر اطمینان سے بیٹھ گیا تھا
واجہا جو کہ سوچ رہی تھی اس کے وہاں سے چلے جانے کے بعد خود بھی فرار ہو جائے گی اب اپنی سی شکل لے کر رہ گئی تھی۔ "وہ لالا آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اوپر جائیں گے" --وہ انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے آئیں بائیں شائیں کرنے والے انداز میں بولی
"میرا تو پتہ نہیں ہے لیکن اب اگر تمہاری زبان کو بریک نہ لگے تو تمہیں میں ضرور اوپر بھیج دوں گا" --- یہ کہہ کر وہ آنکھیں موند کر بیٹھ گیا تھا۔
واجہا بھی اسے آنکھیں بند کیے دیکھ کر اطمینان سے ہاتھ نیچے کر کے چوپڑی مار کر گھاس پر بیٹھ گئی تھی اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ گھاس پر لیٹ چکی تھی -- وارث نے تقریبا دو منٹ کے بعد اپنی آنکھیں کھولی تھی وہ بھی خراٹوں کی آواز پر وہ ہڑبڑاتے ہوئے اٹھا تو کچھ ہی فاصلے پر محترمہ گھاس پر لیٹی خراٹے لے رہی تھی
پہلے اسے لگا کہ وہ ڈرامہ کر ہی ہے لیکن جیسے ہی وہ اس کے نزدیک جا کر کھڑا ہوا تو غصے سے اپنا سر جھٹک کر رہ گیا تھا محترمہ واجہا صاحبہ کا منہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا اس کے دو ہرگوشی دانت واضح ہو رہے تھے اور اس کے ساتھ گردن سائیڈ کو ڈھلکی ہوئی تھی -- معصوم خوبصورت چہرہ وہ بے حد دلکش تھی بالکل موم کی گڑیا معلوم ہوتی تھی --- لیکن اس کا دماغ شیطان کے
Story From The Novel
Wajaha is a lively and mischievous girl who finds herself standing on one leg as punishment from Waris Ghazian Khan, a strict and intimidating man who is trying to study. Unable to control her talkative nature, she keeps teasing him and joking about how he seems to have supernatural powers because he knows she is secretly leaning against the wall. Waris, annoyed by her constant chatter, increases her punishment and orders her to stand outside in the lawn with both hands raised until four in the morning.
Instead of staying quiet, Wajaha continues to tease Waris, joking about his future wife and even imagining him having children. Her ridiculous comments push his patience to the limit, and he angrily warns her to stop talking. He takes her to the back of the mansion and reminds her that if she had focused on her higher education instead of getting involved in everything else, she would not be facing such punishments. Wajaha secretly hopes that Waris will leave so she can escape, but he sits down nearby, making it impossible for her to run away.
As the night progresses, Waris closes his eyes while Wajaha slowly lowers her hands and sits on the grass. Before long, she falls completely asleep and begins snoring. When Waris opens his eyes after hearing the noise, he discovers her lying peacefully on the grass, completely unaware of the trouble she has caused. Despite her innocent and beautiful appearance, her mischievous personality constantly tests his patience, turning their every interaction into a hilarious battle between Waris's strict nature and Wajaha's unstoppable tongue.
Download Novel By Clicking Download Button Below
