" سنو یہ کانٹریکٹ پڑھ لو اس میں تمہاری مانگی رقم سے بھی زیادہ پیسے ہیں۔ اب بس میرے لیے تمہیں بچہ پیدا کرنا ہوگا مگر ایک بات مت بھولنا مجھے بیٹا چاہیے بیٹی نہیں۔۔۔۔۔ "وہ تلخی سے بولا۔۔ " اگر بیٹی ہوئی تو اس کے ساتھ تمہیں یہاں سے غائب کروا دونگا کیونکہ مجھے اپنا وارث چاہیے۔۔۔۔" حمنہ واصف شاہ کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی جو بالکل بھی ایسا نہ تھا۔ نکاح کے بعد واصف شاہ لائٹ آف کرتا بیڈ پر نشے میں دھت جا گرا اور ساری رات ہمنہ پر اپنی شدتیں لٹاتا رہا۔ ہمنہ تھک جاتی لیکن واصف تین سے چار دفعہ اس پر اپنی شدتیں انڈیلتا۔ دو مہینے تک یہ سب چلتا رہا دو مہینے بعد یمنہ حاملہ ہوگئی۔" سر آپکی بیوی کے پیٹ میں تین بچے ہیں اور تینوں۔۔۔۔۔۔"
" بند کرو یہ تماشہ۔۔۔" دھاڑ کی اواز کے ساتھ دروازہ کھولتے واصف شاہ کمرے میں داخل ہوا تھا سامنے بڑی سی بیک والے منقش بیڈ پر وہ کہیں اسے دکھائی نہیں دی تھی نظر گھما کر دیکھنے پر واصف شاہ کو پتہ چلا وہ انتہائی نروس انداز میں کھڑکی کے ساتھ کھڑی تھی واصف شاہ کی آواز پر وہ ایک جھٹکے سے مڑی۔ " میں نے کہا ہے بند کرو یہ تماشہ یہ دلہن بن کر یہاں کیوں کھڑی ہو؟؟ نہ تو یہ کوئی عام شادی ہے اور نہ ہی تم کوئی عام دلہن ہو جو سارے چاؤ پورے کرنا چاہتی ہو۔۔۔" واصف شاہ کی آواز ایک دفعہ پھر کمرے میں گونجی تھی کھڑکی کے ساتھ کھڑی ہمنہ کا سر جھکا اس کی بڑی بڑی سبز آنکھوں میں نمی اتری تھی۔۔۔۔
ہے ساختہ ہی اس نے اپنے لب کچلے۔۔ " آپ کی بی بی جان نے حکم دیا تھا اس لیے یہ پہنا ہے میں نے۔۔۔" وہ تلخ انداز میں بولی تھی اسے خود کون سا شوق تھا یہ زرق برق لباس پہن کر اس کی دلہن بننے کا وہ تو اس شخص کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی مجبوری نے آج اسے اس کمرے میں پہنچا دیا تھا حمنہ نے نظریں اٹھا کر اس کمرے کو دیکھا اس پوری حویلی کی طرح وہ کمرہ بھی شاندار تھا مہنگا اور قیمتی فرنیچر چمکتی ہوئی دیواریں ہر ایک ایک چیز سے دولت کی خوشبو آرہی تھی اور کمرے کے پیچ و بیچ کھڑا وہ شخص واصف شاہ ہمنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور بے ساختہ اپنا رخ پھیر لیا۔۔۔۔
واصف شاہ کی نگاہوں سے گویا آگ کی لپیٹیں اٹھ رہی تھیں وہ دراز قد تھا چھ فٹ سے نکلتا ہوا قد مضبوط کندھے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے وہ کڑے تیوروں کے ساتھ ہمنہ کو گھور رہا تھا۔۔ " بی بی جان نے حکم دیا اور تم نے مان لیا اس حویلی میں تمہیں میں لے کر آیا ہوں یا بی بی جان ؟؟۔۔۔۔" اس کی انداز میں گہرا طنز تھا ہمنہ اپنے لب کچل کر رہ گئی۔۔۔ " ادھر آؤ۔۔۔۔" اب کی بار وہ بولا تو اس کا انداز نرم تھا ہمنہ نے جھجک کر دو قدم اس کی جانب بڑھائے کلائی میں پہنی ہوئی سرخ چوڑیاں کھنک اٹھی تھیں۔۔
" شاید تمہیں اپنے حسن کا اندازہ ہے اسیی لیے مجھے گھائل کرنا چاہتی ہو۔۔۔کانٹریکٹ کی شرائط یاد ہے نا تمہیں۔۔۔۔" واصف شاہ نے اپنا اور اس کا درمیانی فاصلہ مٹایا تھا اس کے بازو کو پکڑتے ہلکا سا واصف شاہ نے اسے اپنی طرف جھٹکا دیا وہ ٹوٹی ہوئی ڈال کی طرح اس کے سینے سے آ ٹکرائی تھی ہمنہ کو اپنا وجود سرد پڑتا ہوا محسوس ہوا۔ " جی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں یہاں ایک کانٹریکٹ کی وجہ سے ہی ہوں مجھے بھی آپ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔ " نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا۔۔۔۔
واصف شاہ نے دلچسپی سے اس کا چہرہ اوپر کیا وہ بے حد حسین لگ رہی تھی میک اپ کے نام پر اس نے بس لپسٹک لگائی تھی مگر میرے یہ عروسی جوڑے کا کمال تھا یا وہ قدرتی طور پر ہی اس قدر حسین تھی کہ واصف شاہ کو اپنا دل ڈانواں ڈول ہوتا ہوا محسوس ہوا مگر وہ بس ایک لمحے کے لیے ہی تھا اگلے ہی لمحے وہ خود کو سنبھال چکا تھا۔۔۔۔ " تو پھر کنٹریکٹ کے مطابق تم اب میری دسترس میں ہو،،، میری اولاد پیدا کرو گی بچہ چاہیے مجھے اور ہاں بیٹی نہیں بیٹا جو اس حویلی کا وارث بنے نفرت ہے مجھے عورت ذات سے مگر مجبوری ہے کہ اولاد پیدا کرنے کے لیے خدا نے مرد کو عورت کا محتاج بنا دیا ہے صرف اسی لیے آج تم اس کمرے میں موجود ہو ورنہ ۔۔۔۔" واصف شاہ نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔۔۔۔
ہمنا کی آنکھوں میں نمی اتری تذلیل اس قدر زیادہ تھی کہ وہ چند لمحے کچھ بول ہی نہ پائی مگر جب بولی تو اس نے واصف شاہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔ " ہاں جانتی ہوں بیٹا یا بیٹی پیدا کرنا میرے اختیار میں نہیں مگر میں آپ کو اولاد پیدا کر کے ضرور دے دوں گی اور بدلے میں آپ اپنا وعدہ پورا کریں گے۔۔۔" واصف شاہ یکدم چونکا اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔ " کون سا وعدہ میں نے تم سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔۔۔۔" اس نے اپنی گرفت ہمنہ کے گرد تنگ کی تھی۔۔وہ یقینی طور پر اس کا مذاق اڑا رہا تھا ہمنا کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں یقینا وہ اپنی بے عزتی کا بدلہ لے رہا تھا۔۔۔۔
ورنہ اولاد کے حصول کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا اس اجنبی لڑکی کو اپنی بیوی کا درجہ بھی دے سکتا تھا حمنہ کے رگ و پے میں سنسنی سی اتری اس نے دھکیل کر واصف شاہ کو خود سے دور کرنا چاہا مگر اس کی گرفت سخت تھی۔۔۔" میرے پیسے۔۔۔ مجھے میری رقم دیں۔۔۔۔"
وہ لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی مگر واصف شاہ نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں کمرے کی نیم تاریک فضا نے اسے مخمور کرنا شروع کر دیا تھا تیس برس کی زندگی میں شاید وہ کبھی اتنا بےبس نہیں تھا جتنا ہمنہ شاہ کے حسن کے آگے بے بس ہو گیا تھا اپنی گرفت میں اسے جکڑے وہ اپنا آپ اپنا کانٹریکٹ سب کچھ بھول رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ہمنہ نے بے بسی سے اپنے لب کچلے اس کے لبوں سے سسکی نکلی واصف شاہ نے کھینچ کر اس کا دوپٹہ نیچے اتار پھینکا تھا اور اب اس کے بالوں کو جوڑے کی قید سے آزاد کر رہا تھا۔۔ " دور ہٹیں مجھ سے۔۔۔۔" ہمنہ نے پوری قوت سے اسے اپنے سے دور دھکیلا تھا وہ یکدم ساکت ہوا اس کی آنکھوں میں سرخی اتری ہمنا کو اندازہ ہوا وہ مکمل طور پر اپنے ہوش میں نہیں تھا شاید وہ نشے میں بھی تھا اس حرکت پر اسے شدید غصہ آیا تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا بیڈ پر دھرا ہمنا کا موبائل بجنے لگا تھا وہ چونک کر پلٹی۔۔۔۔
" کس کا فون ہے اس وقت؟؟؟ تمہیں جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو مت بھولو کہ اس وقت تم واصف شاہ کے سامنے ہو۔۔۔۔" وہ بیڈ کی طرف جانا چاہتی تھی جب واصف شاہ نے اسے گھسیٹ کر ایک دفعہ پھر اپنے بازوؤں میں جکڑا "میں نے کہا دور ہٹیں مجھ سے مجھے دیکھنے دیں کس کی کال ہے۔۔۔۔" وہ بے اختیار پریشان ہو اٹھی تھی اور اسی پریشانی میں اپنے آپ کو چھڑاتے وہ لپک کر بیڈ تک آئی۔۔۔ " امی کے نمبر سے کال آئی ہے او میرے خدا!!! انہیں کچھ ہو تو نہیں گیا؟؟؟ " وہ حواس باختہ ہوئی تھی واصف شاہ نے الجھن پر نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
" میں جا رہی ہوں ہاسپٹل۔۔۔۔" دونوں اطراف میں سے لہنگا اٹھاتے وہ تیزی کے ساتھ دروازے کی سمت بھاگی مگر واصف شاہ نے کلائی سے پکڑ کر اسے دبوچا تھا۔۔ " واصف شاہ کی حویلی سے اس کی مرضی کے بغیر ایک جانور بھی باہر نہیں نکلتا تمہاری اتنی جرات کیسے ہوئی خود سے فیصلے کرنے کی۔۔۔۔" اس کی آواز بھاری ہو رہی تھی حمنہ نے بےبسی سے اسے دیکھا۔ " پلیز مجھے جانے دیں میری ماں بیمار ہے ہاسپٹل میں آگر انہیں کچھ ہوگیا تو۔۔۔؟؟؟ " دو آنسو ہمنہ کی آنکھوں سے ٹوٹ کر نیچے گرے واصف شاہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
" سو واٹ وہ تمہاری ماں ہیں میری نہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں تمہیں اپنے وعدے کے مطابق مجھے بیٹا دینا ہی ہے مجھے وارث چاہیے۔۔۔۔۔" وہ انتہائی بے نیازی سے کہتا پلٹ کر صوفے پر بیٹھ گیا تھا کروفر سے ٹانگ پر ٹانگ جماتے جیسے وہ چند لمحے پہلے والی کیفیت سے دور بھاگ رہا تھا حمنہ نے بے بسی سے اسے دیکھا قریب تھا کہ وہ رو پڑتی۔۔ " میں یہاں ایک لمحہ بھی نہیں رکوں گی اور کون سا یہاں وارث دوں میں آپ کو کنٹریکٹ پر دستخط کیے ہیں آپ نے وہ رقم میرے حوالے نہیں کی جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا مجھے میرے پچاس لاکھ روپے دیں اس کے بعد ہی میں آپ کو یہ اختیار دوں گی کہ آپ مجھے چھو سکیں۔۔۔۔" لہجے کو مضبوط بناتے وہ بمشکل بولی تھی۔۔۔۔۔
واصف شاہ نے لب بھینچ کر اسے دیکھا وہ دھیما دھیما لرز رہی تھی مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی بے خوفی ttتھی ۔۔ " ٹھیک ہے میں تمہیں پیسے دے دیتا ہوں
مگر اس کے بعد میں تمہارے ساتھ جو مرضی کروں اس کا مجھے اختیار ہے۔۔۔۔" وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولا ہمنا نے رگڑ کر اپنے آنسو صاف کیے " ہاں مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔" اس وقت تو وہ بس ہاسپٹل جانا چاہتی تھی واصف شاہ کا جواب سنے بغیر تیزی سے دروازہ کھول کر باہر نکلی وسیع و عریض حویلی خاموش تھی اس کے پیچھے واصف شاہ بھی باہر نکلا تھا۔۔۔۔۔۔
Story From The Novel
