Sneak Peak From The Novel
" بی جان مجھ سے ساری جائیداد لے لیں مگر مجھے اس جلاد کے حوالے مت کریں میں آج ہی دستخط کرنے کو تیار ہوں مجھے ایک روپیہ نہیں چاہیے جان ہے تو جہان ہے پیسے کا کیا کرنا ہے۔" مار یہ بی جان کے قدموں میں بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی اس کی آواز میں اتنی بےبسی تھی کہ سامنے بیٹھی بزرگ خاتون کا چہرہ بھی ایک لمحے کے لیے پتھر کی طرح سخت ہو گیا مگر خاندان کے فیصلے کے سامنے ان کے اختیار کی حد بھی ختم ہو چکی تھی ماریہ نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے ان کے قدموں کو تھام لیا "بی جان آپ جانتی ہیں میں نے اپنی پہلی زندگی میں کیا کچھ کہا سہا ہے ابھی میری عدت مکمل ہوئے صرف ایک ہفتہ گزرا ہے مجھے دوبارہ کسی رشتے میں باندھنے کی اتنی جلدی کیوں ہے مجھے کچھ وقت دے دیں میں خود کو سنبھال لوں گی" بی جان نے نظریں پھیر لیں۔۔۔۔۔۔
"ماریہ یہ فیصلہ صرف میرا نہیں ہے پورے خاندان کے بڑے بیٹھ کر فیصلہ کر چکے ہیں" ماریہ کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے " تو آپ سب کہ دیں کہ مجھے جائیداد نہیں چاہیے مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے صرف اپنی زندگی اپنے اختیار میں چاہیے " بی جان کے چہرے پر بے بسی ابھر آئی " بیٹی جائیداد کا مسئلہ نہیں ہے بات خاندان کی عزت کی ہے" ماریہ نے بے یقینی سے انہیں دیکھا "میری زندگی سے بڑی خاندان کی عزت ہوگئی بی جان" بی جان خاموش رہیں ماریہ نے اپنے آنسو پونچھنے کی کوشش کی مگر اگلے ہی لمحے پھر رونے لگی۔۔۔۔۔
"جس شخص کی بیوی شادی کی اگلی صبح اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی آپ لوگ اسی کے ساتھ میرا نکاح کر رہے ہیں مجھے بتائیں میں اس سے کیا امید رکھوں" بی جان نے گہری سانس لی " ہمدان کی پہلی شادی کیوں ٹوٹی یہ بات تم نہیں جانتیں" ماریہ نے تلخی سے بسنے کی کوشش کی " مجھے وجہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے بی جان مجھے اتنا معلوم ہے کہ ایک لڑکی اپنے شوہر کے گھر سے شادی کی اگلی صبح چلی گئی تھی مطلب ایک لڑکی کیا سوچ کر یہ فیصلہ کرے گی اس نے کیا دیکھا ہوگا؟؟؟ کیا محسوس کیا ہوگا؟؟؟ اگر اس طرح میں سوچوں کہ میں شادی کے اگلے دن اپنے شوہر کو چھوڑ کے بھاگ جاؤں گی تو اس کے پیچھے کوئی چھوٹی وجہ نہیں ہو سکتی ہے لیکن آپ لوگوں نے بھی اس کو بٹھا کر اس سے نہیں پوچھا کہ آخر اس نے اس لڑکی کے ساتھ کیا کیا تھا" بی جان نے اسے اٹھانے کی کوشش کی۔۔۔۔
"کھڑی ہو جاؤ ماریہ" ماریہ نے ان کا ہاتھ تھام کر سر ہلا دیا " نہیں بی جان پہلے میری بات سنیں اگر آپ لوگ مجھ پر یہ فیصلہ مسلط کرنا چاہتے ہیں تو میں آج ہی اپنے حصے کی ساری جائیداد چھوڑنے کو تیار ہوں" بی جان کی آواز قدرے سخت ہوئی "دستخط تو تم آج ہی کرو گی" ماریہ نے آنسو بھری آنکھوں سے انہیں دیکھا " کس چیز پر " بی جان کے لب ہلے "جائیداد کے کاغذات پر نہیں " ایک لمحے کے لیے ماریہ کے چہرے پر الجھن ابھری " تو پھر " بی جان نے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔
" نکاح نامے پر۔۔۔۔۔" ماریہ کے جسم سے جیسے جان نکل گئی وہ آہستہ آہستہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر گھٹنوں میں طاقت نہ رہی۔۔ " آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے" بی جان نے جواب نہ دیا ماریہ نے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں باہر خاندان کے چند افراد خاموش کھڑے تھے اسی لمحے دروازہ کھلا ہمدان اندر داخل ہوا لمبا قد سخت تاثرات خاموش چہرہ ہاتھ میں موبائل جسے وہ آہستہ سے جیب میں رکھتا ہوا سیدھا ماریہ کی طرف دیکھنے لگا ماریہ کی نگاہ اس سے ملی تو اس کے آنسو ایک لمحے کو رک گئے وہ ساکت کھڑی رہ گئی ہمدان چند قدم آگے بڑھا۔۔۔۔
" لگتا ہے میرے بارے میں کافی باتیں ہو رہی تھیں" ماریہ نے اپنے آنسو پونچھے پھر بی جان کے قریب ہو گئی "آپ کی پہلی شادی تو چلی نہیں مجھے بھی برباد کرنا چاہتے ہیں" ہمدان کے جبڑے بھینچ گئے کمرے میں اچانک ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کسی نے ہر آواز روک دی ہو ہمدان نے چند لمحے ماریہ کو دیکھا پھر نہایت ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا "میری پہلی شادی کیوں ٹوٹی اس کا جواب آپ کو پہلی رات مل جائے گا" ماریہ کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اس کی معنی خیز نظریں ماریہ کے دل میں خوف اتار رہی تھیں وہ بے اختیار ایک قدم پیچھے ہٹی ہمدان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔۔۔۔۔
"ابھی سے اتنا ڈر رہی ہیں" ماریہ نے کوئی جواب نہ دیا اس نے صرف ہمدان کو دیکھا پھر بی جان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا مگر بی جان بھی خاموش تھیں ہمدان پلٹا اور کمرے سے باہر چلا گیا ماریہ وہیں کھڑی رہ گئی اس کے ذہن میں صرف ایک جملہ گونج رہا تھا "پہلی رات سب جواب مل جائے گا۔۔۔" شادی اس لیے بھی جلدی جلدی کی جا رہی تھی کیونکہ ماریا کوئی عام لڑکی نہیں تھی اس کے نام بہت سی جائیداد تھی یہ تین بھائیوں کی حویلی تھی جس میں سے دو بھائی اس دنیا سے جا چکے تھے وہ جو حمدان کے والد صاحب تھے اور ایک جو ماریہ کے والد صاحب تھے اس لیے جو ماریہ کے والد صاحب کی جائیداد کا حصہ بنتا تھا وہ سب کا سب ماریہ کا تھا اور بی جان کو یہی خوف تھا انکے جانے کے بعد کہیں تقدیر وہی دردناک کھیل نا کھیلے جس سے انکا خاندان مٹ گیا یہاں تک کے انکے پوتے کی ہنسی ختم ہوگئی۔۔۔۔۔
Story From The Novel
Maria fell at Be Jan’s feet, crying uncontrollably. “Be Jan, take all my property from me, but please don’t hand me over to that man. I’m ready to sign everything today. I don’t want a single rupee. What good is money if I lose my life and peace?”
Her voice was filled with desperation, but Be Jan could do little. The entire family had already made their decision. Maria reminded her that only a week had passed since her iddat ended after her first marriage. “Why are you in such a hurry to tie me into another relationship? Give me some time. I’ll recover and handle my life.”
Be Jan looked away. “Maria, this isn’t only my decision. The elders of the entire family have decided this.”
Maria wiped her tears. “Then tell them I don’t want the property. I don’t want anything. I only want my life to remain under my control.”
Be Jan sighed helplessly. “It isn’t about the property, child. It’s about the family’s honor.”
Maria stared at her in disbelief. “So the family’s honor is more important than my life?”
She then questioned why they were forcing her to marry Hamdan, whose first wife had left him the very morning after their wedding. “What am I supposed to expect from him? If a woman leaves her husband the very next morning, there must have been a reason. What could she have seen or experienced that made her take such a drastic decision? Did anyone even ask Hamdan what happened between them?”
Be Jan tried to make her stand, but Maria refused. “If you insist on forcing this decision on me, I’m ready to give up every bit of my inheritance today.”
“Signatures will indeed be taken from you today,” Be Jan replied.
Maria looked at her through tear-filled eyes. “On what?”
“Not the property papers…”
Maria froze.
“Then what?”
Be Jan lowered her gaze.
“On the nikah nama.”
Maria felt as though all the strength had left her body.
At that moment, the door opened and Hamdan entered. Tall, stern-faced, and silent, he put his phone into his pocket and looked directly at Maria. Their eyes met, and for a moment, her tears stopped.
Maria wiped her face and bitterly confronted him. “Your first marriage didn’t survive, and now you want to ruin my life too?”
Hamdan’s jaw tightened. After a long silence, he replied calmly, “You’ll get the answer to why my first marriage ended on the very first night.”
Maria’s face went pale. His meaningful gaze filled her with fear, and she instinctively stepped back.
Hamdan gave a faint smile. “You’re already this frightened?”
He then turned around and walked out, leaving Maria standing there in shock. His words echoed through her mind:
“You’ll get all the answers on the first night.”
The marriage was being arranged so quickly because Maria was not an ordinary girl. She had inherited a substantial amount of property. The haveli belonged to three brothers—two of whom had passed away: Hamdan’s father and Maria’s father. As the only heir to her father’s share, Maria owned a significant portion of the family’s wealth.
That was exactly what frightened Be Jan.
She feared that after her death, fate might repeat the same painful tragedy that had already destroyed their family—and perhaps this time, even the laughter of her grandson Hamdan would disappear forever.
Download Novel By Clicking Download Button Below
DOWNLOAD